#کالم

بھیرہوقت کے گردِ سفر اور گم گشتہ تہذیب کی بازیافت

Untitled 1

تبصرہ نگار منشا قاضی
حسبِ منشا

صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بگوی کی نئی تصنیف "بھیرہ: تاریخ و تمدن” محض ایک شہر کی سرگزشت نہیں، بلکہ یہ خطہ ء پنجاب کے ایک قدیم اور عظیم الشان تمدن کا نوحہ بھی ہے اور اس کے مٹتے ہوئے نشانات کی مستند دستاویز بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی برسوں کی محنت اور عرق ریزی سے تاریخ کے بکھرے ہوئے اوراق کو یکجا کر کے بھیرہ کی قدامت کو ایک نیا دوام بخشا ہے۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کا تحقیقی پہلو ہے۔ مصنف نے روایتی قصے کہانیوں کے بجائے ٹھوس تاریخی شواہد، کتبوں اور قدیم حوالوں کا سہارا لیا ہے۔ کتاب کا اسلوب سادہ مگر ادبی چاشنی سے بھرپور ہے، جو قاری کو اکتاہٹ کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ہر باب ایک نئی دنیا کا در وا کرتا ہے، جہاں قدیم یونانی فاتحین سے لے کر مغلوں اور سکھوں کے عہد تک کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔
ڈاکٹر انوار احمد بگوی نے صرف جنگوں اور بادشاہوں کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بھیرہ کے گلی کوچوں، قدیم مساجد، مندروں، حویلیوں اور وہاں کے رہنے والوں کے رہن سہن کو بھی بڑی خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ بھیرہ کبھی علم و ہنر کا گہوارہ تھا، جہاں کے علما اور دستکار پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتے تھے۔
"بھیرہ: تاریخ و تمدن” اپنی جامعیت کے اعتبار سے اس علاقے پر لکھی جانے والی کتب میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مصنف کی محنت کتاب کے ہر صفحے سے جھلکتی ہے، خاص طور پر تصاویر اور نقشوں کا استعمال اس تحقیقی کام کو مزید معتبر بناتا ہے۔
یہ کتاب تاریخ کے طالب علموں، محققین اور ان تمام لوگوں کے لیئے ایک بیش بہا تحفہ ہے جو اپنی جڑوں سے جڑنا چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بگوی اس شاندار علمی کاوش پر مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے ایک قدیم شہر کی تاریخ کو آنے والی نسلوں کے لیئے محفوظ کر دیا۔ حکومت پاکستان کے اربابِ اختیار کی توجہ ایسے مصنفین کی طرف مرکوز ہونی چاہیئے جو پاکستان کی پہچان اور شناخت کا حوالہ بن چکے ہیں ۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا اپنی ہی توقیر میں اضافہ کرنا ہے ۔ ڈاکٹر انوار احمد بگوی کا قلم ایک مؤرخ کا قلم ہے۔ اور مؤرخ کا قلم عقیدتوں کے تاج محل تعمیر نہیں کرتا وہ حقائق کی ٹھوس اور سنگلاخ چٹانوں کو بھی جنم دیتا ہے اس وقت ڈاکٹر صاحب کا کام ہمالہ کی رفعتوں سے ہم کنار ہے ۔ آپ نے بھیرہ کو تصویروں کے آئینے میں بھی مزین کر کے دکھا دیا ہے ۔ بھیرہ پھلاں دا سہرا ، گندھارا تہذیب، قدیم بھیرا ۔۔ بھراڑیاں ، البیرونی اور ابن بطوطہ، ظہیر الدین بابر، ۔۔ امیر تیمور، شیر شاہ سوری، سکہ اور سٹیمپ ۔

قلعہ روہتاس ، راجہ پورس ، فرمان شیرشاہی،
چندر گپت موریہ، سکندر اعظم اشکوک اعظم ۔۔ ۔ اشوک اعظم ، شاہ جہاں ، اورنگزیب عالمگیر ، احمد شاہ ابدالی افغانی، مہاراجہ رنجیت سنگھ، آپ دیکھیں گے جامع مسجد بھیرہ ، مسجد شیخانوالی، مسجد حفظانہ، گوردوارا (امام بارگاہ) شیوا لنگ مندر ، باؤلی والہ مندر ، جین مندر، نانگیانوالہ مندر، ریلوے اسٹیشن بھیرہ اور راؤنڈ اباؤٹ برائے انجمن ، مصنف کی مادر علمی گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ ، جھروکے ، باریاں، قدیم بالکونی، لکڑی کی کھود کاری، نفیس منقش چوب کاری ۔۔ دروازے ، استاد فن بھایا امام دین ۔۔ لکڑی پر کام ، لکڑی کی منفرد محراب ، حافظ فضل الہی ، چوبی کنگھی سازی اور بھیرہ کی مشہور زمانہ مہندی جو دستِ حنائی بنا دیتی ہے ۔کتاب کے ناشر مکتبہ مجلس حزب الانصار و الافتخار بگویہ فاؤنڈیشن (
رجسٹرڈ )مولانا ظہور احمد بگوی روڈ، شیر شاہی جامع مسجد بگویہ بھیرہ ۔ صاحبزادہ ابرار احمد بگوی کا حسنِ انتظام ہر ورق اور حرف حرف میں چاندنی بکھیر رہا ہے ۔ رابطہ نمبر 03016701340

یہ کتاب دنیا بھر کی لائبریریوں میں ہونی بے پناہ ضروری ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی لائبریریوں کے منتظمین سے پہلے مجھے یوں محسوس ہوتا ہے امریکہ ، کینیڈا سویٹز لینڈ اور یورپ بھر کی لائبریریوں کے منتظمین کی توجہ اگر ہمارا ابلاغی شعبہ مبذول کروانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ کتاب لاکھوں کی تعداد میں مکرر ہی نہیں سہہ مکرر شائع کرنی پڑے گی ۔ قیمت اگر ایک کتاب کی ایک لاکھ بھی ہوتی تو پھر بھی خریدنے والوں نے ہر حال میں خریدنی تھی ، لیکن اس کی قیمت بہت ہی کم رکھی گئی ہے ۔ صرف 2500 روپے ۔ اگر آپ اس نمبر پر رابطہ کریں گے تو وہ آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کم قیمت پر بھی کر سکتے ہیں اور وہ ہیں کتاب کے مصنف صاحبزادہ ڈاکٹر انوار احمد بگوی 03004754769

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے