جوائنٹ فیملی سسٹم: محبت کا گھر یا خاموش اذیت؟
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
جوائنٹ فیملی سسٹم برصغیر کی قدیم معاشرتی روایات میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایک وقت تھا جب ایک ہی گھر میں کئی نسلوں کا اکٹھا رہنا محبت، قربانی، باہمی تعاون اور خاندانی یکجہتی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس نظام نے معاشرے کو استحکام دیا اور بزرگوں کو عزت و احترام فراہم کیا، لیکن وقت کے ساتھ بدلتے حالات نے اس نظام کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کی کمزوریوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
آج کے جدید دور میں زندگی کے تقاضے پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ تعلیم، روزگار، معاشی دباؤ اور ذاتی آزادی کی خواہش نے خاندانی ڈھانچے کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم کو ایک ایسی روایت سمجھنے لگے ہیں جو بعض اوقات افراد کی ذہنی، جذباتی اور معاشی ترقی میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام میں سب سے زیادہ نقصان اس فرد کو پہنچتا ہے جو سب سے زیادہ مخلص، نرم دل اور قربانی دینے والا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت دوسروں کی خوشی، سکون اور ضروریات کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے، مگر بدقسمتی سے اسی کی نیت اور خلوص کو سب سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بہت سے گھروں میں ایک فرد پوری زندگی خاندان کے لیے قربانیاں دیتا رہتا ہے، اپنے خواب ملتوی کر دیتا ہے، اپنی خوشیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنے آرام کو دوسروں پر قربان کر دیتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جب اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی قربانیوں کی نہ تو قدر کی گئی اور نہ ہی اس کے جذبات کو سمجھا گیا، تو اس کے دل میں مایوسی اور محرومی جنم لینے لگتی ہے۔
مشترکہ خاندانی نظام کا ایک بڑا مسئلہ ذاتی آزادی اور پرائیویسی کا فقدان بھی ہے۔ ہر فرد اپنی زندگی کے بارے میں الگ سوچ رکھتا ہے، مگر ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کی وجہ سے اکثر افراد کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع نہیں ملتا۔ ان کی پسند، ناپسند اور فیصلے دوسروں کی رائے کے تابع ہو جاتے ہیں۔
شادی کے بعد ایک نئی زندگی کا آغاز ہر انسان کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ ہر جوڑا چاہتا ہے کہ وہ اپنے تعلق کو وقت دے، ایک دوسرے کو سمجھے اور اپنی زندگی کی بنیاد اپنی سوچ کے مطابق رکھے۔ لیکن جوائنٹ فیملی سسٹم میں اکثر ایسا ممکن نہیں ہو پاتا کیونکہ مختلف افراد کی مداخلت نئے رشتوں کو غیر ضروری دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔
گھریلو معاملات میں ضرورت سے زیادہ مداخلت کئی بار ایسے تنازعات کو جنم دیتی ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہوتا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں انا، غلط فہمی اور شکایت کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پھر یہی مسائل وقت کے ساتھ بڑے خاندانی جھگڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی جسمانی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب کوئی فرد روزانہ تنقید، اختلافات، ذمہ داریوں کے بوجھ اور گھریلو کشیدگی کا سامنا کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کی نیند، مزاج، کارکردگی اور مجموعی صحت پر واضح طور پر نظر آنے لگتے ہیں۔
اسی لیے بعض لوگ جوائنٹ فیملی سسٹم کو ایک ایسی آزمائش قرار دیتے ہیں جو انسان کو آہستہ آہستہ اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا دباؤ بن جاتا ہے جس سے نکلنا بھی آسان نہیں ہوتا اور جس کے ساتھ مسلسل جینا بھی ایک مشکل امتحان محسوس ہوتا ہے۔
والدین کی دانشمندی کا تقاضا ہے کہ وہ اپنی شادی شدہ اولاد کی زندگی کو آسان بنانے میں معاون ثابت ہوں۔ اولاد کی شادی کے بعد انہیں اتنی آزادی ضرور ملنی چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کر سکیں اور اپنی ذمہ داریوں کو اپنی سمجھ کے مطابق نبھا سکیں۔
الگ رہائش اختیار کرنا والدین سے محبت یا احترام میں کمی کی علامت نہیں ہوتا۔ درحقیقت بہت سے خاندانوں میں یہی طریقہ رشتوں کو مزید مضبوط اور خوشگوار بنا دیتا ہے کیونکہ فاصلہ بعض اوقات ان تنازعات کو جنم لینے سے روک دیتا ہے جو روزمرہ کی قربت سے پیدا ہوتے ہیں۔
بعض خاندانوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے الگ رہائش اختیار کرتے ہیں تو والدین اور اولاد کے تعلقات پہلے سے زیادہ خوشگوار ہو جاتے ہیں۔
ملاقاتوں میں محبت بڑھتی ہے، شکایتیں کم ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے۔
پختون معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہمیشہ بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ خاندان، برادری اور اجتماعی زندگی اس معاشرے کی مضبوط روایات کا حصہ ہیں، لیکن بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی حالات نے اس نظام کے بارے میں نئی سوچ کو جنم دیا ہے۔
کئی نوجوانوں کا ماننا ہے کہ مشترکہ خاندانی ذمہ داریوں اور مسلسل دباؤ کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم، کاروبار اور پیشہ ورانہ زندگی پر مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ ان کی توانائیاں مختلف خاندانی مسائل میں صرف ہو جاتی ہیں جس سے ان کی ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
بعض افراد یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ مشترکہ نظام میں مالی ذمہ داریوں کی تقسیم ہمیشہ منصفانہ نہیں ہوتی۔ ایک فرد زیادہ محنت کرتا ہے، زیادہ کماتا ہے اور زیادہ قربانیاں دیتا ہے جبکہ بعض اوقات اس کی کوششوں کا اعتراف بھی نہیں کیا جاتا۔
معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ جذباتی دباؤ بھی ایک اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ جب کسی فرد کو مسلسل یہ احساس ہو کہ اس کی رائے کی اہمیت کم ہے یا اس کی خواہشات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو اس کے اعتماد اور خود اعتمادی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
جوائنٹ فیملی سسٹم کے حامی یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ اگر خاندان میں انصاف، برداشت اور باہمی احترام موجود ہو تو یہ نظام آج بھی کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی رائے میں اصل مسئلہ نظام میں نہیں بلکہ افراد کے رویوں اور طرزِ فکر میں ہوتا ہے۔
یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ جہاں






