#کالم

تیزاب گردی ۔۔قتل سے بڑا جرم ؟

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

گو پاکستان بلکہ پورے برصغیر میں تیزاب گردی کی ایک پوری دردناک تاریخ ہے اور ناجانے کتنے چہرۓ اس کا شکار ہو کر موت سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں  جن میں سے اکثریت خواتین کی ہوتی ہے ۔مگر گذشتہ ہفتے کے دوران تیزاب گردی کے دو واقعات نے ایک دفعہ پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا  ہے ۔ایک افسوسناک واقعہ کوئٹہ میں پیش آیا جہاں سول ہسپتال کی  ایک لیڈی ڈاکٹر تیزاب گردی کا شکار ہوکر طبی علاج کے لیے کراچی منتقل ہو چکی ہے جس کی ایک آنکھ اور تقریبا” بیس فیصدجسم متاثر ہوا ہےاور ان کو بچاتے ہوۓ ایک بہادر نوجوان وارڈ بواۓعبدالرزاق  بھی زخمی ہوا ہے جبکہ اطلاع کے مطابق مطلوبہ ملزم گرفتار ی کے دوران فرار ہوتے ہوۓ اپنے انجام کو پہنچ گیا ۔ اور دوسرا افسوسناک واقعہ ہمارےہی ضلع بہاولپور میں سمہ سٹہ کے قریب ایک بستی کچی واہ میں پیش آیا جہاں ایک نامعلوم مجرم نے رات کے اندھیرۓ میں دیوار پھلانگ کر ایک سوئی ہوئی پچیس سالہ خاتون پر تیزاب پھینک دیا اور فرار ہو گیا ۔اطلاعات کے مطابق خاتون کا تقریبا” چالیس فیصد جسم جھلس گیا ہے ۔موت اور زندگی کی کشمکش میں زیر علاج یہ حوا کی بیٹیان زندہ بچ بھی جائیں اور مجرم گرفتار ہو کر سزا بھی پاجائیں تو بھی ان کی زندگی کے یہ دردناک لمحات ایک المیے کی طرح ان کے ساتھ ہمیشہ رہیں گے ۔تیزاب گردی صرف جسمانی حملہ نہیں بلکہ کسی انسان کی شناخت ،خود اعتمادی اور سماجی زندگی کو تباہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے ۔کسی لیڈی  ڈاکٹریا کسی خاتون پر حملہ ایک  ایسا  بزدلانہ اقدام ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جاۓ کم ہے اور شاید  ملزم کو  جتنی بھی سزا دی جاۓ کم ہوگی ۔اۓحوا کی بیٹیوں ہم شرمندہ ہیں  ! 

تیزاب گردی کی تاریخ جدید دنیا میں بہت پرانی نہیں لیکن تیزاب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مثالیں انیسویں صدی میں ملتی ہیں ۔صنعتی انقلاب کے بعد جب مختلف قسم کے تیزاب عام دستیاب ہونے لگے تو بعض افراد نے انہیں انتقام ،دشمنی اور ذاتی رنجشوں کے اظہار کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ۔اکثر یہ حملے ناکام محبت ،ازدواجی زندگی کے تنازعات یا ذاتی انتقام کے نتیجے میں سامنے آتے رہے ہیں ۔سماجی تنازعات ،جائیداد کے جھگڑۓ ،شادی سے انکار اور نام نہاد غیرت کے معاملات نے اس جرم کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔آج دنیا بھر میں اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور بدترین تشددکی ایک شکل سمجھا جاتا ہے ۔تیزاب گردی کی تاریخ دراصل انسان کی اس تاریک نفسیات کی تاریخ ہے جہاں انتقام کی آگ اتنی بھڑک اٹھتی ہے کہ وہ کسی چہرۓ کے ساتھ ایک پوری زندگی کو بھی جلا ڈالتی ہے ۔ انسان کی جان لینا یقیناً ایک سنگین جرم ہے، مگر کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو جسم کو زندہ اور روح کو مردہ کر دیتے ہیں۔ تیزاب گردی بھی ایسا ہی ایک انسانیت سوز جرم ہے۔ قاتل اپنے شکار کی زندگی ختم کر دیتا ہے، لیکن تیزاب پھینکنے والا اپنے شکار کو عمر بھر کی اذیت، محرومی، جسمانی تکلیف اور معاشرتی تنہائی کے سپرد کر دیتا ہے۔ تیزاب کا ایک چھینٹا صرف چہرہ نہیں جلاتا، بلکہ خوابوں، خواہشوں، اعتماد اور شناخت کو بھی راکھ کر دیتا ہے۔ متاثرہ فرد ہر روز آئینے میں اپنی برباد شدہ زندگی دیکھتا ہے اور معاشرے کے بے رحم رویوں کا سامنا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین تیزاب گردی کو قتل سے بھی بڑا جرم قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہاں سزا چند لمحوں کی نہیں بلکہ پوری زندگی پر محیط ہوتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں انا، انتقام، رشتوں کے تنازعات اور مردانہ برتری کے احساس نے اس جرم کو جنم دیا۔ جب کوئی شخص اپنی خواہش یا ضد پوری نہ ہونے پر کسی کے چہرے اور زندگی کو بگاڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو دراصل وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری انسانیت اور معاشرۓ کے خلاف جرم کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزاب گردی کے مجرموں کے لیے مزید سخت ترین سزائیں نافذ کی جائیں، تیزاب کی فروخت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جائے اور متاثرین کی بحالی کو قومی ذمہ داری اور فریضہ سمجھا جائے۔ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور مظلوم افراد کے زخموں پر مرہم رکھے، نہ کہ انہیں تنہا چھوڑ دے۔ تیزاب گردی صرف چہروں کو نہیں جلاتی، یہ انسانیت کے چہرے پر بھی ایک بدنما داغ ہے۔سوال یہ ہے کہ اس بدنما عفریت سے کیسے نمٹا جاۓ ؟ تیزاب گردی محض ایک قانونی جرم نہیں بلکہ ایک سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی بیماری ہےجو فوری علاج کی متقاضی ہے ۔

اس کے خاتمہ کے لیے سخت اور فوری انصاف  اورسزاوں کے ساتھ ساتھ تیزاب کی فروخت پر موثر نگرانی کے لیے اس کی فروخت کو لائسنس ،شناختی کارڈ سے منسلک کرنا ہوگا ۔ہمیں معاشرہ میں انفرادی اور اجتماعی طور پر بچوں کی تربیت اور کردار سازی  پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ انتقام ،اناپرستی اور عدم برداشت  کی جڑیں ہمیشہ بچپن میں ہی پیدا ہوتی ہیں تاکہ گھروں اور تعلیمی اداروں میں برداشت، احترام اور اختلافِ رائے کو قبول کرنے کی تعلیم دی جائے۔۔ ایسے معاملات میں متاثرہ افراد کو فوری قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے ۔ معاشرے کو انہیں ترس اور رحم کا نہیں بلکہ عزت ،محبت اور احترام کے مواقع کا حق دینا چاہیے۔میڈیا اور ادیبوں کا کردار فلم، ڈرامہ، کالم اور ادب معاشرتی شعور بیدار کرنے کا طاقتور ذریعہ ہوتے ہیں۔جو ذہنی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تو جب معاشرہ اس جرم کو صرف خبر نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ سمجھنے لگے گا تو اس کے خلاف اجتماعی مزاحمت بھی بڑھے گی۔ہماری انفرادی اور اجتماعی سوچ کی تبدیلی میں مسجد ومنبر اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔

تیزاب گردی کا اصل علاج صرف قانون نہیں بلکہ انسان کے اندر انسانیت کو زندہ کرنا ہے۔ جس دن ہم یہ سیکھ لیں گے کہ محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی، اختلاف انتقام کا جواز نہیں بنتا اور کسی انسان کا چہرہ بگاڑنے سے اپنی عزت نہیں بڑھتی، اسی دن اس عفریت کی جڑیں کمزور ہونا شروع ہو جائیں گی۔تیزاب گردی کا خاتمہ عدالتوں اور سزاوں سے شروع ہو سکتا ہے، مگر اس کی حقیقی شکست گھروں، اسکولوں اور انسان کے ضمیر میں ہوتی ہے۔”

تیزاب گردی ۔۔قتل سے بڑا جرم ؟

09/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے