#کالم

آنکھوں دیکھی کانوں سنیپاکستان کایوم تحفظ 28مئی1998

Untitled 13

(شاہد بخاری
ہر چیز کا فائیدہ یا نقصان اس چیز کےاستعمال پر منحصر ھوتا ھے،جیسا کہ چاقو سے پھل یا سبزی کاٹنا چاقو کا درست استعمال ہے۔ کسی کا پیٹ پھاڑ دینا،چاقو کا غلط استعمال ہے۔ اس لیے ھم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چاقو بری چیز ہے لہٰذا چاقو بنانا بند کر دیے جائیں۔
اسی طرح جاپان کے شہروں، ھیرو شیما اور ناگاساکی پر6اور 9اگست 1945ءکو امریکہ کے ایٹم بمز پھینکنے، ظلم وستم کی انتہا تھی،جس کے نتیجے میں ھزاروں جاپانی بھاپ بن کر فضا میں تحلیل ھو چکے تھے۔
جو لوگ بم پھٹنے کی جگہ سے ذرا فاصلے پر تھے سوختہ جسم کچھ تڑپے کچھ پھڑ کے اور آخر کار انہوں نے بھی جان دے دی۔ جو اس سے بھی زیادہ دور تھے ان کے لیے زندگی عذاب بن گئی جسے جتنی جلدی موت آ گئی،وہ اتنا ھی اچھا رھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھیں کئی کئی بر س موت کا انتظار کر تے گزری۔
تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں جگہ جگہ ایسے افراد آتے تھے،جن کے جھلسے ہوئے چہرے، جلے ہوئے کپڑے، جسم سے لٹکے ھوئے جلد کے چیتھڑے دیکھنے والوں کا دل دہلا دیتے تھے۔ ہر جاندار اور بے جان چیز میں تابکاری ، سرایت کر چکی تھی۔ لوگوں کو اگر کھانے پینے کی کوئی شے میسر تھی تو وہ بھی تابکاری سے لبریز تھی جسے استعمال کرنے والا صحت مند انسان بھی جلد یا بدیر موت کے منہ میں جا سکتا تھا۔لیکن بھوک اور پیاس کی شدت میں یہ لوگ ان چیزوں کو استعمال کرنے پرمجبور تھے۔
دھماکے سے شہر کی 70
ھزار کے قریب عمارات ملیا میٹ ھو گئیں۔اس دن ایک لاکھ افراد موت کے منہ میں گئے۔اس کے بعد اموات کا ایسا سلسلہ شروع ھوا جو برس ھا برس تک چلتا رھا۔
1945کے آ خر تک مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ اور1950 میں دو لاکھ تک پہنچ گئی۔تابکا ری کے اثرات سے بھت سے خون کے سرطان کا شکار ھوئے اور کتنے ھی بچے جسمانی نقائص کے ساتھ پیدا ھوئے۔ اب بھی وھاں تابکاری کے اثرات کا سلسلہ ختم نہیں ھوا اور وقتاً فوقتاً مختلف شکلوں میں ان کا اظہار ھوتا رھتا ھے۔اسی اٹامک انرجی سے توانائی کا حصول یا مریضوں کا علاج اس کا درست استعمال ھے۔
1949ءمیں روس نے ایٹمی دھماکہ کیا،1952ء میں برطانیہ نے،فرانس نے
1960ءمیں،چین نے 1964 میں اور مئ1974 میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرکے اپنے لیڈروں کو اس قابل بنا دیاکہ وہ دھمکی کے انداز میں پاکستان کو کشمیر سے دستبردار ھونے کی وارننگ دیں۔
بھارت کے جارحانہ بیانات کے جواب میں پاکستان بھی ایٹم بم بنانے پر مجبور ھو گیا۔28مئی کو اس نے 5 ایٹمی دھماکے کر کے ،انڈیا سے حساب برابر اور 30 مئی کو چھٹا ایٹمی دھماکہ کرکے بھارت پر اپنی بر تری ثابت کر دی اور اسے واضح کر دیا کہ ایٹمی پاگل پن کا علاج ایٹمی طاقت ھی کے ذریعے ممکن ھے۔
16 دسمبر 1971ء میں جب ھماری حماقتوں سے مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بنا تب محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بیلجیئم میں Ph.D
کر رھے تھے۔T.V پر پاک فوج کے ساتھ بھارت کا ذلت آ میزسلوک دیکھ کر ھماری طرح ان کے بھی آنسو نھیں تھمے۔
18 مئی1974میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی خبر سن کر وہ بے چین ھو گئے۔انھوں نے ھالینڈ سے 17ستمبر 1974ءکو وزیراعظم بھٹو کو اپنی خدمات پیش کیں۔1976ء سے وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے منسلک ھو گئے۔
عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936ءکو بھوپال میں پیدا ھوئے جہاں آپ کے والد سکول ٹیچر تھے۔ 1947 میں کراچی سے آ پ نے B.Scکیا۔مقابلے جا امتحان پاس کر کے1961 تک آپ ویٹ انسپکٹر رھے۔ملازمت چھوڑ کر آپ جرمنی اور پھر ھالینڈ چلے گئے۔وھاں سے آپ نے ماسٹر اوف سائنس کی ڈگری حاصل کی
اور وھیں کی خاتون سے شادی کر لی۔
بیلجئیم سے آ پ نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ھالینڈ میں آ پیورونئیم کی افزودگی کے پلانٹ پر کام کرتے رھے،جس جا مقصد یورینییم کو اس قابل بنانا ھوتا ھے کہ اس سے ایٹمی توانائی حاصل کی جا سکے۔FDO میں آ پ 30 ھزار ماھانہ لیتے تھے
وطن کی خدمت کے لئیے
جنوری 76ء میں 3ھزار ماھانہ پر اٹامک انرجی کمیشن میں بطور ایڈوائزر ملازمت اختیار کر لی۔
جولائی 1976 میں آپ نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کے منصوبے کا چارج سنبھال لیا
4اپریل 1978 کو پہلی مرتبہ یورنئیم کی افزودگی کا کا میاں تجربہ کیا گیا۔
1982ء میں یورنیم کی افزودگی باقاعدگی سےا شروع ھو گئی۔اس تمام عرصے میں ڈاکٹر صاحب نے قائیدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔کہوٹہ پلانٹ کی تعمیر و تنصیب آپ کا مثالی کار نامہ ھے۔
ایک طرف عالمی طاقتیں پاکستان کو دھماکوں سے روکنے کے لئیے اپنا اثرورسوخ استعمال کر رھی تھیں،دوسری طرف بھارت نے دھمکی آمیز بیانات اور اپنی مغربی سرحد پر فوجوں کی نقل وحرکت کے ذریعے پاکستان کو ھراساں کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔اسرائیل کی طرف سے بھی بھارت کی حمایت جاری ھونا شروع ھو گئے تھے۔16 مئی کو بھارتی وزیراعظم نے دھمکی دی تھی کہ اگر جنگ چھڑی تو بڑا بن چلا دیں گے۔ اس سے اگلے ھی روز اسرائیل نے پاکستان پر فضائی حملے اور میزائلوں کے استعمال کی دھمکی دے دی تھی۔ اس نے بیان دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی یقین دہائی نہ کرائی تو اس کی ایٹمی تنصیبات کو تبا ہ کر دیا جائے گا۔
حکومت پاکستان کو انٹیلی جینس ذرائع سے اطلاع ملی کہ 24 مئی کو
چھ اسرائیلی فائیٹرز ، مقبوضہ کشمیر پہنچے ھیں اور کہوٹہ کی تنصیبات پر حملے کے لئے تیار کھڑے ھیں۔یہ اطلاع ملتے ھی پاک فضائیہ کے طیاروں نے نگرانی انتہائی سخت کر دی۔اور کئی درجن غوری میزائل اور لانچنگ پیڈز مختلف سرحدی علاقوں کی جانب روانہ کر دئیے۔
اس کے ساتھ ھی بھارتی ھائی کمشنر کو طلب کر کے کہا کہ نئی دھلی کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ اسلام آباد بھارتی حکومت سے توقع رکھتاہے کہ وہ کسی بھی غیر ذمے دارانہ اقدام سے باز رھے وگرنہ اسے ایسا جواب دیا جائے گا،جس کا وہ تصور بھی نھیں کر سکتا
پاکستان نے فوری طور پر واشنگٹن اور سلامتی کونسل

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے