#کالم

مثبت سیاست ہی قومی استحکام کی ضمانت ہے

Untitled 13 1

تحریر: رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان اس وقت جن سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان کی ایک بڑی وجہ ہمارے سیاسی رویے اور طرزِ سیاست ہیں۔ بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے بعد سے جمہوریت کو کبھی مکمل استحکام نصیب نہ ہو سکا۔ سیاسی جماعتیں اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے، کمزور کرنے اور راستے سے ہٹانے میں مصروف رہیں جبکہ قومی مفاد اکثر پس منظر میں چلا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوری روایات مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوتی چلی گئیں اور غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کے مواقع ملتے رہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی سیاست دانوں نے باہمی اختلافات کو دشمنی میں بدلا، نقصان صرف سیاست دانوں کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوا۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی مخالفت کو برداشت کرنے کے بجائے اسے ذاتی جنگ بنا لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بار بار ایسا ہوا کہ اقتدار کی خاطر سیاسی اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے، نظریات بدلتے رہے اور اصول وقتی مفادات کی نذر ہوتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کا اعتماد سیاسی نظام پر کمزور پڑتا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی طویل سیاسی کشمکش اس کی واضح مثال ہے۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے خلاف سخت محاذ آرائی کی، ایک دوسرے کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کیا اور بعض اوقات غیر سیاسی قوتوں کے سہارے لینے سے بھی دریغ نہ کیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ اس محاذ آرائی سے کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کا نقصان ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ بالآخر دونوں جماعتوں کو یہ احساس ہوا کہ سیاسی انتقام اور محاذ آرائی کا راستہ نہ صرف سیاست اور سیاست دانوں کو نقصان سے دوچار کر رہا ہے بلکہ ملک کو عدم استحکام کی طرف بھی لے جا رہا ہے۔
2006ء میں ہونے والا میثاقِ جمہوریت دراصل اسی احساس کا نتیجہ تھا۔ اگرچہ اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل نہ ہو سکا، تاہم اس نے پاکستان کی سیاست میں مفاہمت، برداشت اور جمہوری تسلسل کی ایک نئی سوچ کو جنم دیا۔ بعد ازاں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت میں اگرچہ شدید سیاسی اختلافات موجود رہے، لیکن ایک حد تک سیاسی برداشت بھی دکھائی دی۔ یہی وجہ تھی کہ جمہوری تسلسل برقرار رہا اور اٹھارویں ترمیم جیسے اہم اقدامات ممکن ہو سکے جنہوں نے وفاق کو مضبوط اور صوبوں کو بااختیار بنایا۔
اب یہ ملک کی بدقسمتی کہیں یا سیاست دانوں کی کہ چند سال بعد ہی ہماری سیاست پھر اسی پرانی ڈگر پر واپس آ گئی۔ پرانے سیاست دان سمجھ دار ہو گئے تھے تو ملک اور سیاست کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے نیا چہرہ آگے بڑھا دیا گیا۔ نئی سیاسی قوتوں نے بھی ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے وہی انتقامی سیاست اپنائی جس کا شکار پہلے دوسرے ہوتے رہے تھے۔ مخالفین کو دیوار سے لگانا، سیاسی مکالمے سے انکار کرنا، ہر اختلاف رکھنے والے کو غدار یا چور قرار دینا اور اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک معمول بنتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھتا گیا اور ملک ایک مرتبہ پھر شدید عدم استحکام کی کیفیت میں داخل ہو گیا۔
حقیقت یہ ہے کہ سیاسی انتقام کسی مسئلے کا حل نہیں۔ آج جو جماعت طاقت میں ہوتی ہے، کل وہی اپوزیشن میں آ جاتی ہے۔ اقتدار مستقل کسی کے پاس نہیں رہتا۔ تاریخ بار بار یہی سبق دیتی ہے کہ جو لوگ اپنے مخالفین کے لیے گڑھا کھودتے ہیں، وقت انہیں بھی اسی راستے پر لے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے سیاسی حالات میں کردار بدلتے رہتے ہیں مگر کہانی وہی رہتی ہے۔
پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات کا شکار ہے، ان سے نکلنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاری، ترقی، روزگار اور خوش حالی صرف اسی ملک میں آتی ہے جہاں سیاسی ماحول پُرسکون ہو، ادارے مضبوط ہوں اور پالیسیوں میں تسلسل ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہماری توانائیاں محض اقتدار کے حصول اور ایک دوسرے کو گرانے میں صرف ہو جاتی ہیں جبکہ دنیا ترقی، سائنس، تعلیم اور معیشت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے۔
بھارت، چین، ملائیشیا اور دیگر ممالک کی ترقی کا راز صرف معاشی پالیسیوں میں نہیں بلکہ سیاسی تسلسل اور قومی ترجیحات میں بھی پوشیدہ ہے۔ وہاں سیاسی اختلاف موجود ہوتے ہیں مگر قومی مفاد کو سیاست پر قربان نہیں کیا جاتا۔ ہمارے ہاں صورتحال اس کے الٹ رہی جہاں اکثر قومی معاملات بھی سیاسی لڑائی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم اور چولستان کی نہریں اس کی واضح مثال ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھیں اور ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے سیاسی حریف تصور کریں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر نفرت، انتقام اور انا پر مبنی سیاست جمہوریت کو کمزور کر دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا، آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنا، اداروں کی حدود کا احترام کرنا اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو استحکام دے سکتا ہے۔
یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ عوام اب محض نعروں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ لوگ مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے حقیقی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ انہیں ایسی قیادت درکار ہے جو سیاسی لڑائیوں کے بجائے قومی تعمیر پر توجہ دے۔ اگر سیاست دان اپنی انا، ذاتی مفادات اور وقتی سیاسی فائدوں سے بالاتر ہو کر ملک کے مستقبل کو ترجیح دیں تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ پاکستان عظیم صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی، قدرتی وسائل، زرعی قوت اور باصلاحیت افراد کی کمی نہیں۔ کمی صرف مثبت سوچ، سیاسی برداشت اور قومی یکجہتی کی ہے۔ جب تک سیاست کو ذاتی دشمنی کے بجائے قومی خدمت کا ذریعہ نہیں

مثبت سیاست ہی قومی استحکام کی ضمانت ہے

30/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے