#اداریہ

امدادی کارکنوں سے اسرائیلی فوج کا غیرانسانی سلوک ۔

Fahad 01

آج کا اداریہ

اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین سمیت دیگر قیدیوں سے یہودی فوجیوں کے غیر انسانی اور غیر فطری جنسی و جسمانی تشدد کی خبریں اقوام عالم کے ضمیر پر مسلسل دستک دے رہی ہیں اوراب غزہ کے مظلوموں کیلیے خوراک اور ادویات لیکر پہنچنے والے قافلوں کو روکا گیا ہے اوران سےناروا رویہ دیکھا گیآہے۔تشدد سہنے والوں میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔کینیڈا نے تصدیق کی ہے کہ اسے اپنے شہریوں کے ساتھ ہونے والی ’ناقابلِ قبول بدسلوکی‘ کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ جرمنی اور سپین نے بھی کہا ہے کہ ان کے کچھ شہری زخمی حالت میں واپس پہنچے ہیں۔
غزہ فلوٹیلا کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم 15 افراد کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر زیرِ حراست افراد نے بتایا کہ انھیں شدید زودوکوب کیاگیااور غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔گلوبل صمود فلوٹیلا کے منتظمین نے مزید کہا کہ ’جنسی تشدد کے کم از کم 15 کیسز جن میں ریپ کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ قیدیوں کو کم فاصلے سے ربڑ کی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور درجنوں افراد کی ہڈیاں توڑی گئیں۔‘
فرانسیسی کارکن میریم حدجال نے پیرس واپسی پر صحافیوں کو بتایا کہ انھیں ’جنسی تشدد‘ کا سامنا کرنا پڑا۔انھوں نے کہا کہ ’مجھے تھپڑ مارے گئے، مُجھے نامناسب انداز میں چھوا گیا، میرے سینے اور پسلیوں میں گھٹنے مارے گئے، بال کھینچے گئے اور اس شدید تشدد کی وجہ سے میں کئی گھنٹوں تک صدمے کی حالت میں رہی۔نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ غزہ فلوٹیلا میں شامل سعد ایدھی سمیت دیگر غیرملکی کارکنان باحفاظت ترکی پہنچ چکے ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں انھوں نے سعد ایدھی سمیت دیگر غیرملکی کارکنان کی باحفاظت استنبول آمد یقینی بنانے پر ترکی کی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔
دوسری جانب پاکستانی شہری اور فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ اسرائیل سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد ترکی پہنچ چکے ہیں۔ترکی میں ریکارڈ کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے الزام عائد کیا کہ وہ چار دن اسرائیل کی حراست میں رکھا گیا، جہاں انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔انھوں نے کہا کہ ’چار دن تک ہم اسرائیل کا تشدد سہتے رہے ہیں۔اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ غزہ فلوٹیلا میں شامل تمام غیر ملکی کارکنان کو ملک سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔ایک پیغام میں اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’تشہیری مقاصد کے لیے بھیجے گئے فلوٹیلا کے تمام غیر ملکی کارکنوں کو اسرائیل سے ملک بدر کر دیا گیا۔ کسی کو بھی غزہ کی قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ کی جانب سے غزہ جانے والی کشتیوں کے امدادی قافلے (فلوٹیلا) کو روکے جانے کے بعد اس میں سوار فلسطین کے حامی کارکنوں کے ساتھ اسرائیل کے برتاؤ پر بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی۔انتہا پسند اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ایسے کارکنوں کو طعنے دیتے دکھائی دیتے ہیں، جن کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔پاکستان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔
بن گویر کے اس اقدام پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ’اسرائیل کی اقدار کے مطابق نہیں‘۔گلوبل صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 430 افراد شامل تھے۔پاکستان کی فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سعد ایدھی بھی ان کشتیوں پر سوار تھے جنھوں نے غزہ کی اسرائیلی ناکہ بندی توڑ کر وہاں امداد پہنچانے کی کوشش کی۔فلوٹیلا کا مقصد جنگ زدہ غزہ میں فلسطینیوں کے مشکل حالات کو اجاگر کرنا تھا جبکہ اسرائیل نے اسے ’حماس کے مفاد میں ایک تشہیری حربہ‘ قرار دیا۔گذشتہ جمعرات گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) میں شامل 50 سے زیادہ کشتیاں ترکی سے روانہ ہوئیں۔پیر کی صبح اسرائیلی بحری کمانڈوز نے قبرص کے مغرب میں بین الاقوامی پانیوں میں، غزہ کے ساحل سے تقریباً 460 کلومیٹر دور، اس بیڑے کو روکنا شروع کیا۔ اس علاقے پر اسرائیل کی بحری ناکہ بندی ہے۔جی ایس ایف کے منتظمین نے کہا کہ منگل کی شام تک تمام کشتیوں کو روک لیا گیا تھا، تاہم ایک کشتی فلسطینی علاقے سے 80 ناٹیکل میل کے فاصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔انھوں نے اسرائیل پر ’سمندر میں غیر قانونی جارحیت‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ اسرائیلی کمانڈوز نے چھ کشتیوں پر فائرنگ کی، واٹر کینن استعمال کیا اور ایک جہاز کو جان بوجھ کر ٹکر ماری۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ کوئی حقیقی گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا اور اصرار کیا کہ وہ ’غزہ پر قانونی بحری ناکہ بندی کی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔
وزارت نے مزید کہا کہ تمام کارکنوں کو اسرائیلی جہازوں میں منتقل کر دیا گیا اور اسرائیل پہنچنے کے بعد انھیں اپنے قونصلر نمائندوں سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔اسرائیل میں انسانی حقوق کے گروہ عدالہ نے کہا کہ کارکنوں کو ’ان کی مرضی کے بالکل خلاف اسرائیلی علاقے میں لے جایا جا رہا ہے‘ اور انھیں اشدود بندرگاہ پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ’گلوبل صمود فلوٹیلا پر سوار انسانی کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور بد سلوکی‘ کی مذمت کی گئی ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ’اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے فلاحی کارکن سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔پاکستان نے حراست میں لیے گئے تمام کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وزارت خارجہ خطے میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی زیر حراست پاکستانی شہری کی بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

امدادی کارکنوں سے اسرائیلی فوج کا غیرانسانی سلوک ۔

26/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے