#کالم

یونیورسٹی آف حافظ آباد — ایک ادھورا تعلیمی خواب؟

Abcag

زیر و زبر
Email: rgmustafa555@yahoo.com
تحریر: راؤ غلام مصطفیٰ

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی سب سے مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو معاشروں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے۔ کہ جن قوموں نے تعلیم کو اپنی ترجیح بنایا۔وہ دنیا میں عزت، طاقت اور استحکام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ جبکہ تعلیم سے محروم معاشرے غربت، بے روزگاری اور سماجی مسائل کا شکار ہو گئے۔
ضلع حافظ آباد کے نوجوان بھی گزشتہ کئی برسوں سے ایک ایسے ہی خواب کی تعبیر کے منتظر ہیں۔ یونیورسٹی آف حافظ آباد کا منصوبہ اس ضلع کے لیے امید کی نئی کرن بن کر سامنے آیا تھا۔ جب اس منصوبے کا اعلان ہوا تو والدین، طلبہ اور اساتذہ کے دلوں میں ایک نئی آس جاگی۔ کہ اب انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کے دروازوں پر دستک نہیں دینا پڑے گی۔ مگر افسوس کہ یہ عظیم تعلیمی منصوبہ گزشتہ دو برس سے تعطل کا شکار ہے۔ اور تعمیراتی کام تقریباً مکمل طور پر رکا ہوا ہے۔ آج یونیورسٹی کی ادھوری عمارت اہلِ حافظ آباد کے خوابوں کی خاموش داستان سناتی دکھائی دیتی ہے۔منصوبے کے آغاز پر عوام نے بے شمار امیدیں وابستہ کی تھیں۔ والدین چاہتے تھے کہ ان کے بچے اپنے ہی شہر میں رہ کر معیاری اعلیٰ تعلیم حاصل کریں۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ جیسے بڑے شہروں میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کا بوجھ ان کے کندھوں سے اتر جائے۔ خاص طور پر طالبات کے لیے یہ منصوبہ غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ کیونکہ معاشرتی اور مالی مجبوریوں کے باعث اکثر خاندان اپنی بیٹیوں کو دور دراز شہروں میں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجتاً بے شمار باصلاحیت لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کے خواب دل میں لیے گھر بیٹھنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔آج کی معاشی صورتحال میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ ہزاروں نوجوان ہر سال اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ جہاں ہاسٹل فیس، کرایہ، سفری اخراجات اور روزمرہ ضروریات ان کے والدین کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ذہین اور قابل طلبہ مالی مشکلات کے باعث اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر مزدوری، چھوٹے کاروبار یا وقتی روزگار اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگر یونیورسٹی آف حافظ آباد کا منصوبہ جلد مکمل ہو جائے تو اس کے اثرات صرف تعلیمی میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔ بلکہ پورا ضلع معاشی اور سماجی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔جو ضلع کی پسماندگی کو دور کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی کے قیام سے مقامی سطح پر روزگار کے سینکڑوں مواقع پیدا ہوں گے۔ کتابوں کی دکانیں، ہاسٹلز، ٹرانسپورٹ، کیفے، فوٹو سٹیٹ سینٹرز، لائبریریاں اور دیگر کاروباری سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ کرایہ داری کا شعبہ فعال ہوگا اور مقامی معیشت کو نئی زندگی ملے گی۔یونیورسٹی محض اینٹوں اور سیمنٹ سے بنی عمارت کا نام نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ فکری بیداری، علمی تحقیق اور قومی شعور کا مرکز ہوتی ہے۔ ایسے ادارے نوجوان نسل کی سوچ کو جِلا بخشتے ہیں۔ انہیں بہتر شہری بناتے ہیں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ حافظ آباد جیسے زرعی ضلع میں ایک معیاری یونیورسٹی زراعت، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید سائنس کے شعبوں میں نئی نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتی ہے۔اہلِ حافظ آباد کی نظریں وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ عوام پُرامید ہیں کہ صوبائی حکومت اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے فوری فنڈز جاری کرے گی۔ اور تعمیراتی کام دوبارہ شروع کرایا جائے گا۔ تاکہ نوجوانوں کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکیں۔اسی طرح ضلع حافظ آباد کی ممبر قومی اسمبلی اور سابق وفاقی وزیر محترمہ سائرہ افضل تارڑ سے بھی عوام کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ وہ قومی اسمبلی میں اس مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔ متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں اور حکومت تک عوام کے جذبات پہنچائیں۔ تعلیم جیسے قومی مفاد کے معاملے پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا، تعلیمی حلقوں اور عوامی اجتماعات میں یونیورسٹی آف حافظ آباد کی جلد تکمیل کا مطالبہ روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے۔ طلبہ، والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں۔ کہ آخر اس ضلع کے نوجوانوں کے خواب کب پورے ہوں گے؟قومیں سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ تعلیم یافتہ ذہنوں سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر آج حافظ آباد کے نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم نہ کیے گئے۔ تو کل یہی محرومیاں معاشرتی مسائل کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ حکومتِ پنجاب اور منتخب نمائندوں کو چاہیے۔ کہ وہ اس ادھورے خواب کو فوری طور پر حقیقت میں بدلیں۔کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف عمارتیں نہیں بلکہ نسلوں کے خواب بھی کھنڈر بن جایا کرتے ہیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے