گوہر نایاب
اورنگزیب اعوان
سورج کی روشنی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے. جب سورج اپنی آب و تاب سے چمکتا ہے. تو ہر بشر تاحد نگاہ تک دیکھ سکتا ہے. جیسے ہی سورج ڈھلتا ہے. اور رات کی تاریکی چھا جاتی ہے. تو ہر انسان اپنے گھر ،آفس ، گاڑی کی مصنوعی روشنی کا سہارا لیتا ہے. مگر یہ روشنی ایک مخصوص حد تک ہی اس کی رہنمائی کرتی ہے. اس کی حد سے آگے وہ کچھ نہیں دیکھ سکتا. اسی طرح سے اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کو سورج کی مانند دنیا میں بھیجا ہے. کہ وہ اندھیروں، نفرتوں ، مایوسیوں کو مٹا کر پیار و محبت ،امن، بھائی چارگی کی فضا پیدا کریں. یہ لوگ اپنی ذات میں انمول ہوتے ہیں. ایک ایسا ہی خوبرو، گبرو ،ہنس مکھ، شریں زباں ،خوش لباس ، خوش شکل ،خوش اخلاق، یاروں کا یار ،کردار کا غازی ،دلیر، عاجزی و انکساری کا مجسمہ ، قائدانہ صفات و سحر انگیز شخصیت کا مالک نوجوان شاہ زمان اعوان (مرحوم) تھا. انسان تمام عمر دنیاوی و دولت کے پیچھے بھاگتا ہے. اس کی نظر میں مال و دولت ہی اس کی کامیابی کا زینہ ہیں . مگر جیسے ہی وہ اس دنیا فانی سے کوچ کرتا ہے. لوگ اس کا نام تک بھول جاتے ہیں. شاہ زمان اعوان (مرحوم) نے اپنی عظیم و انقلابی سوچ سے اس فلسفہ زندگی کو غلط ثابت کیا. شاہ زمان اعوان (مرحوم) وہ سورج تھا. جس نے اپنی روشنی سے اپنے خاندان، دوست و احباب ،شہر کو ایک منفرد پہچان بخشی. . شاہ زمان اعوان (مرحوم) نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی. اس گھرانہ کا ہر فرد خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہے. ان کے دادا جان چوہدری علی احمد اعوان المعروف بابا بولا جی ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے. ان کی دور اندیشی کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی. تقسیم ہند کے بعد انہوں نے اپنے عزیزوں و اقارب کے ہمراہ لائل پور (فیصل آباد) کی دھرتی پر ایک خیمہ بستی آباد کی. جس کو آج بولیدی جھگی کے نام سے جانا جاتا ہے. ان کی سوچ و تصور تھا. کہ اس جگہ پر صرف اور صرف اعوان برادری کو آباد کیا جائے. وہ بھارت کے ضلع جالندھر سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے. وہاں اعوان برادری کے 22 دیہات ایک ہی لائن میں آباد تھے. ان کا خواب تھا. کہ میری اعوان برادری اسی اتفاق و محبت سے یہاں رہائش پذیر ہو. اور دنیا بھر میں ان کی منفرد پہچان ہو. اسی مثبت و تعمیری سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے انہوں نے یہاں اعوان برادری کو آباد کیا. آج اس کے باسیوں نے اپنی ہمت و قابلیت کے بل بوتا پر دنیا بھر میں اس خطہ ارض کا نام روشن کیا ہے. ان کے فرزند ارجمند چوہدری قمر زمان اعوان انٹرنیشنل فٹبالر ، مایہ ناز کبوتر پرور و EX.(MPA) اپنی ذات میں یکتا ہیں . ان کی مثبت و تعمیری سوچ نے انہیں اس مرتبہ پر فائز کیا ہے. جس کا کوئی تصور ہی کر سکتا ہے. انہوں نے اپنے والد گرامی کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے. ناصرف اعوان برادری بلکہ عوامی خدمت کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے. ان کے سیاسی ڈیرہ پر ہمہ وقت لوگ اپنے ذاتی و اجتماعی مسائل کے حل کے لیے حاضر ہوتے ہیں. حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو. سرکاری افسران و حکومتی عہدیداران ان کا دل سے عزت و احترام کرتے ہیں. کیونکہ انہوں نے ہمیشہ عوام میں خوشیاں تقسیم کی ہیں. ان کی زوجہ محترمہ پروین زمان اعوان بھی عوامی خدمت کے مشن میں کسی سے کم نہیں. وہ دکھی انسانیت کی خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی. یتیم بچیوں کی شادی، مجبور عوام کی مالی مدد، علاقہ کی فلاح و بہبود کے کام ،مسجد کی تعمیر ،پارک کی دیکھ بھال، صاف پانی کی فراہمی کے لیے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب ، شہید قرآن پاک کے نسخہ جات کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے جنازہ گاہ میں قرآن محل کی تعمیر جیسے ان گنت کام ہیں. ایسے عظیم ماں باپ کی اولاد بھلا کس طرح سے مخلوق خدا کی خدمت سے غافل رہ سکتی ہے. شاہ زمان اعوان (مرحوم) وقت کا ولی تھا. دنیاوی مال و دولت کی بہتات ہونے کے باوجود اس نوجوان میں کبھی غرور و تکبر نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہیں ملی. . وہ ہمہ وقت دوستوں اور عام عوام کے درمیان موجود رہتا تھا. چناب کلب کا ممبر ہونے کے باوجود علاقہ کے نوجوانوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنا، ان کے ساتھ گپ شپ لگانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا. شاہ زمان اعوان (مرحوم) اپنے حسن اخلاق کی بدولت دوستوں، عزیزوں و اقارب سمیت شہر بھر کا چہتا نوجوان تھا. ہر کوئی اس سے دلی محبت کرتا تھا. شاہ زمان اعوان (مرحوم) کی شخصیت اس قدر سحر انگیز تھی. کہ جو کوئی اس سے ایک بار ملتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا. الفاظ کی چاشنی لوگوں کو ان کا دیوانہ بنا دیتی. انسان اپنے آباؤ و اجداد کے نام سے پہچانا جاتا ہے. وہ والدین کس قدر عظیم و خوش قسمت ہوگے. جن کی اولاد ان کی پہچان بنے. بلاشبہ چوہدری قمر الزمان اعوان فیصل آباد کی سیاست کی ان، شان ،پہچان ہیں . ان کے ذکر کے بغیر فیصل آباد کی سیاست نامکمل ہے. اس کے باوجود ان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے. جب آج بھی لوگ انہیں کہتے ہیں. کہ آپ شاہ زمان اعوان (مرحوم) کے والد گرامی ہے. چوہدری علی احمد اعوان (مرحوم) المعروف بابا بولا جی نے بولیدی جھگی کا سنگ بنیاد رکھا. ان کے عظیم فرزند ارجمند چوہدری قمر الزمان اعوان نے اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت اس کو منفرد پہچان عطا کی. چوہدری قمر الزمان اعوان کے لخت جگر شاہ زمان اعوان (مرحوم) نے اس کی شہرت و توقیر کو چار چاند لگائے . والدین کے لیے یہ لمحہ انتہائی مسرت سے لبریز ہوتا ہے. جب ان کے سامنے کوئی ان کی اولاد کی قابلیت اور صلاحیتوں کی تعریف کرے. شاہ زمان اعوان (مرحوم) نے انتہائی قلیل وقت میں اپنے حصہ کی شمع روشن کرکے اپنے خاندان، اہل علاقہ و شہر کو وہ عظمت بخشی ہے . جس کی نظیر





