#کالم

‎طاقتور پاکستان اور سسکتا ہوا پاكستانی 

Untitled 6

‎ڈیرے دار ‎سہیل بشیر منج


‎مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے غریب کی بستیوں کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے کہ اب ہر گھر سے صرف سسکیوں اور فاقوں کی سسکتی ہوئی آوازیں سنائی دیتی ہیں پیٹرول کی قیمت میں ہونے والا ہر اضافہ عام آدمی کے دل پر ایک نئے خنجر کی طرح وار کرتا ہے جس نے زندگی کے پہیے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب میں سفید پوش باپ کے لرزتے ہاتھ اور بھوک سے نڈھال بچے کی مرجھائی ہوئی آنکھیں دیکھتا ہوں تو میرا قلم خون کے آنسو رونے لگتا ہے دل خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے جب یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نیپال سری لنکا بنگلہ دیش ویتنام اور فلپائن جیسے ایشیائی ممالک بھی ہماری طرح اپنی ضرورت کا تمام تیل باہر سے ہی امپورٹ کرتے ہیں مگر وہاں کی حکومتوں نے اپنے عوام کو اس طرح بے سہارا اور لاوارث نہیں چھوڑا وہاں قیمتیں اب بھی پاکستان کے مقابلے میں اتنی کم ہیں کہ غریب کا چولہا جل رہا ہے اور سانس کی ڈوری برقرار ہے مگر میرے وطن میں تو غریب کا کچومر ہی نکل گیا ہے اور حاکم وقت سنگدلی کی چادر اوڑھے سوئے ہوئے ہیں تصور کیجئے اس منظر کا جہاں ایک مزدور شام کو خالی ہاتھ گھر لوٹتا ہے اور اس کے معصوم بچے دہلیز پر امید کا دیا جلائے بیٹھے ہوتے ہیں مگر باپ کی جیب میں پیٹرول کی آگ کی وجہ سے روٹی کے چند نوالے بھی نہیں ہوتے یہ دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ ہم کس بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں جہاں غریب فاقوں کی سولی پر لٹک چکا ہے اور انصاف صرف کتابوں کی زینت بن کر رہ گیا ہے۔

‎اگر مہنگائی کا یہ خونی اژدہا اسی طرح غریب کے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑتا رہا تو آنے والے دنوں میں عام آدمی زندگی اور موت کی اس لکیر پر کھڑا ہوگا جہاں بقا کی کوئی امید باقی نہیں بچتی آنے والا بجٹ غریب عوام کے کچے مکانوں پر ٹیکسوں کی ایسی بجلیاں گرانے کو تیار ہے جو ان کے چولہوں کی آخری چنگاری بھی گل کر دے گا حکومت کی اندھی اور غلط ترجیحات نے ملک کے صنعتی پہیے کو اس طرح جام کر دیا ہے کہ ہر طرف تالے لٹک رہے ہیں اور روزگار کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں اس وحشت ناک بے روزگاری نے سفید پوش باپ کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ اپنے بچوں کو سسکتا دیکھ کر اندر سے مر رہا ہے جب کارخانے اجڑتے ہیں تو بستیاں ویران ہوتی ہیں اور جب بھوک حد سے بڑھ جائے تو غیرت اور قانون کے جنازے اٹھ جاتے ہیں اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو یہ بھوک انسانوں کو بھیڑیوں میں بدل دے گی اور پورے معاشرے کو جرائم اور خوفناک کرائم کے اس اندھے کنویں میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا ایک کالم نگار کا دل اس بھیانک مستقبل کے تصور سے ہی لرز اٹھتا ہے اور آنکھیں لہو روتی ہیں۔
‎‎حکمرانوں نے اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے اور ایف بی آر  جیسے ناکام محکمے کی چوری چھپانے کے لیے پیٹرول کی قیمتوں کو وہ جلاد بنا دیا ہے جو ہر پندرہ دن بعد معصوم عوام کا خون نچوڑنے آ جاتا ہے ہدف پورا نہ ہونے کا سارا ملبہ اس غریب پر ڈال دیا گیا جو پہلے ہی اپنی سفید پوشی کا کفن لپیٹے جی رہا ہے اگر اس دیس میں کوئی عوام دوست اور باضمیر حکومت ہوتی تو وہ غریب کا گلا گھونٹنے کے بجائے ان نااہل افسران اور ایف بی آر کے عہدے داران کے گلے میں قانون کا رسہ ڈالتی جنہوں نے ٹیکس چوروں کو تحفظ دیا آئی ایم ایف سے بھیک میں مانگا گیا ایک ایک ڈالر غریب کے نام پر لیا جاتا ہے مگر وہ پیسہ عوام کی فلاح کے کسی پروجیکٹ پر لگنے کے بجائے اشرافیہ کے پروٹوکول بیوروکریٹس کی شاہانہ عیاشیوں اور حکمرانوں کے محلات کی نذر ہو جاتا ہے اب بھی وقت ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور پیٹرول کی قیمتیں کم کر کے مرتے ہوئے انسانوں کو سانس لینے کی مہلت دیں ایک کالم نگار کی حیثیت سے جب میں اس بے حسی کو دیکھتا ہوں تو روح تڑپ اٹھتی ہے اور آنکھیں اس وقت نم ہو جاتی ہیں جب غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے اور حاکم وقت کے کتے بھی  ہنس کا گوشت کھاتے ہیں۔


‎مہنگائی کے اس بے رحم طوفان نے پاکستان کے دس اہم ترین شعبوں بشمول زراعت، صنعت، تعلیم ،صحت، تجارت ،ٹرانسپورٹ، تعمیرات، رئیل اسٹیٹ، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سیکٹر کو مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جب کسی ملک میں زندگی کے تمام شعبے اس طرح مفلوج ہو جائیں تو وہاں معاشرتی انارکی خانہ جنگی بڑے پیمانے پر ہجرت اخلاقی پستی اور قانون کی بالادستی کا خاتمہ جیسے ہولناک خطرات سر اٹھا لیتے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت فوری طور پر عیاشیاں بند کرے اور زراعت و شمسی توانائی کے شعبوں میں ہنگامی بنیادوں پر ایسے گرین پروجیکٹس کا آغاز کرے جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکیں غریب عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو سستا کیا جائے اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اب  حکمرانوں کے بند دروازوں  پر دستک دیتے ہوئے صرف اتنا کہنا چاہتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے منصفو یاد رکھو کہ تاریخ کبھی ان حکمرانوں کو معاف نہیں کرتی جو اپنی رعایا کو بھوکا مرتا چھوڑ دیں اس سے پہلے کہ بھوک کی یہ خاموش چنگاری ایک ایسے بھیانک انقلاب کی آگ میں بدل جائے جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دے ہوش کے ناخن لیجئے اور اس دیس کے مرتے ہوئے انسانوں کو بچا لیجئے کیونکہ جب غریب کی آہ عرش کو ہلاتی ہے تو پھر بڑے بڑے تخت اور تاج ہوا میں تنکوں کی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے