#کالم

سیاست کا ایندھن مت بنیں

Untitled 13 1

صدا بصحرا رفیع صحرائی

۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاست کسی بھی جمہوری معاشرے کا اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں، ان کے نظریات، منشور اور قیادتیں اسی وقت مضبوط بنتی ہیں جب ان کے ساتھ مخلص اور متحرک کارکن موجود ہوں۔ یہی کارکن جلسوں، جلوسوں، انتخابی مہمات اور مشکل حالات میں اپنی جماعت کے لیے ڈھال بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ بلاشبہ سیاسی کارکن کسی بھی پارٹی کا سرمایہ ہوتے ہیں مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہی کارکن اکثر سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ انہیں جذبات، نعروں اور وقتی جوش کے ذریعے اس حد تک استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی، خاندان، مستقبل اور حتیٰ کہ اپنی جان تک داؤ پر لگا دیتے ہیں جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ وقت آنے پر انہیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔
ماضی میں سیاسی وابستگی ایک سنجیدہ اور باوقار عمل سمجھا جاتا تھا۔ لوگ سوچ سمجھ کر کسی جماعت کا حصہ بنتے تھے۔ اختلافِ رائے کے باوجود سیاسی کارکن ایک دوسرے کے احترام کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ سیاسی گفتگو میں تہذیب، برداشت اور دلیل کی اہمیت ہوتی تھی۔ مگر اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ سیاست نظریات سے زیادہ نفرت، تعصب اور اندھی تقلید کا نام بنتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس شدت کو مزید ہوا دی ہے۔ ہر شخص خود کو سچا اور مخالف کو غدار سمجھنے لگا ہے۔ سیاسی کارکن اپنی جماعت کی محبت میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ ان کا ایمان بن چکا ہے کہ جو کچھ ان کے لیڈر نے فرما دیا ہے وہی سچ ہے باقی سب جھوٹ اور غلط ہے۔ یہ اندھی تقلید سیاست اور معاشرہ، دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
آج کل سیاسی اختلاف محض اختلاف نہیں رہا بلکہ دشمنی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مخالف سیاسی جماعت کے کارکن کو ذلیل کرنا، اس کا مذاق اڑانا اور اسے توہین آمیز القابات سے نوازنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل اس نفرت انگیز ماحول سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ تعلیمی اداروں، دفاتر، خاندانوں اور دوستوں کے حلقوں میں سیاسی تقسیم نے تعلقات میں زہر گھول دیا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی رائے سننے کے بجائے اسے دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ جمہوریت کا حسن ہی اختلافِ رائے میں پوشیدہ ہوتا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سیاسی کارکن اپنی جماعتوں کے لیے محض “ایندھن” بن کر رہ گئے ہیں۔ جلسے بھرنے ہوں، سڑکیں بند کرنی ہوں، نعرے لگانے ہوں یا گرفتاریوں کا سامنا کرنا ہو، ہر جگہ یہی عام کارکن آگے نظر آتا ہے۔ لیکن جب یہی کارکن کسی مشکل میں پھنس جائے تو اکثر قیادتیں خاموش تماشائی بن جاتی ہیں۔ سیاسی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں کارکنوں نے اپنی زندگیاں قربان کیں مگر بعد میں ان کے خاندان تنہائی، غربت اور بے بسی کا شکار ہو گئے۔ سیاسی فائدے کے لیے ان کے نام تو استعمال کیے جاتے ہیں مگر ان کے بچوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
9 مئی جیسے واقعات ہمارے معاشرے کے لیے ایک بڑا سبق ہیں۔ جذباتی نعروں اور اشتعال انگیز بیانیوں نے کئی نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا۔ بہت سے لوگ جیلوں میں چلے گئے، مقدمات میں پھنس گئے، روزگار سے محروم ہو گئے، مگر جن لوگوں کے لیے وہ سب کچھ کر رہے تھے، انہوں نے خود کو الگ کر لیا۔ یہی سیاست کا سب سے تلخ رخ ہے کہ قیادتیں اکثر خود کو بچا لیتی ہیں جبکہ عام کارکن نتائج بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ہمارے معاشرے میں سیاسی شعور کے بجائے سیاسی جذبات کو زیادہ ابھارا جاتا ہے۔ نوجوانوں کو دلیل، برداشت اور قومی مفاد کی تربیت دینے کے بجائے مخالفین سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی وابستگی اب فکری تعلق کم اور جذباتی غلامی زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ حالانکہ ایک باشعور شہری کا فرض یہ ہے کہ وہ ہر سیاسی جماعت اور رہنما کو ملکی مفاد، کارکردگی اور کردار کے پیمانے پر پرکھے، نہ کہ اندھی عقیدت کی بنیاد پر۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو عبادت یا جنگ بنانے کے بجائے ایک جمہوری عمل سمجھا جائے۔ ووٹ دینا ہر شہری کا حق ہے، سیاسی وابستگی رکھنا بھی غلط نہیں، مگر اپنی عقل، عزت اور مستقبل کسی کے حوالے کر دینا دانش مندی نہیں۔ یاد رکھیے کہ سیاسی رہنما بدل جاتے ہیں، پارٹیاں ٹوٹ جاتی ہیں، حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر ایک عام انسان کے لیے اس کا خاندان ہی اس کی اصل دنیا ہوتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا مستقبل تباہ کر لے تو اس کا خمیازہ اس کے والدین، بہن بھائیوں اور بچوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی بھی پارٹی کے لیے اس کا ورکر محض ایک شخص ہوتا ہے مگر اپنے خاندان کے لیے پوری دنیا ہوتا ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کی خاطر اپنے خاندان کی دنیا اجاڑنا کوئی بہتر عمل یا فیصلہ نہیں ہوتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان اپنے اندر سیاسی شعور پیدا کریں، سوال پوچھیں، دلیل سے بات کریں اور کسی بھی جماعت یا شخصیت کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھیں۔ سیاست میں حصہ لیجیے مگر اپنی ذات کو سیاست کا ایندھن مت بنائیے۔ اپنے ووٹ کی طاقت استعمال کیجیے مگر اپنی زندگی، عزت اور خاندان کو کسی سیاسی کھیل کی نذر مت کیجیے۔ اعتدال، برداشت اور شعور ہی وہ راستہ ہے جو ایک فرد کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور معاشرے کو بھی۔

سیاست کا ایندھن مت بنیں

210-/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے