پاکستان کے دفاع اور عسکری بیانیے کی پزیرائی
آج کا اداریہ
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر قیمت ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، آپریشنل تیاریوں اور قومی خودمختاری، امن و استحکام کے تحفظ کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو سلام پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر قیمت پر تیار ہے۔’’آپریشن غضبُ للحق‘‘ پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری ہے تاکہ افغان طالبان کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے معصوم شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں و سہولت کار ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پْرعزم ہیں، پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔
فیلڈ مارشل نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے انداز پر روشنی ڈالی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز، تینوں مسلح افواج کے باہمی اشتراک اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے ہم آہنگ رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ افسران خود کو اور اپنی فورسز کو مسلسل تربیت دیں تاکہ بدلتے ہوئے جنگی حالات کا موٴثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے، فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں تعینات فارمیشنز کے افسران اور جوانوں سے ملاقات بھی کی۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پْرعزم ہیں، پاکستان کی ترقی کا سفر پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا، پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اتحاد کے باعث ناکام ہوں گی۔
عاصم منیر نے بلوچستان میں پائیدار امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ طویل المدتی ترقی کے لیے عوامی فلاح پر مبنی حکمت عملی، جامع ترقی اور بہتر طرز حکمرانی ناگزیر ہے
دوسری جانب بھارت میں بھی پاکستان کی معرکہ حق کی کامیابیوں اور بیانیےکو سراہا جارہاہے ۔حال ہی میں
پاکستانی بیانیہ کے عالمی سطح پر سکہ رائج الوقت ہونے کا بھارتی اعتراف سامنے آیا ہے۔جنوبی ایشیا کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتے ہوئے، بھارت کے سابق ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر اروند گپتا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر جاری بیانیے کی جنگ میں بھارت کو مات دے دی ہے۔ایک مقبول پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے، سیکیورٹی امور کے ماہر نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا بیانیہ اس لیے کامیاب رہا کیونکہ اسلام آباد نے دہائیوں سے عالمی تعلقاتِ عامہ، تھنک ٹینکس اور میڈیا پر اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بھاری اور سٹریٹجک سرمایہ کاری کی ہے۔بھارت نے برسوں تک قلیل مدتی پی آر اور ہائی پروفائل میڈیا شوز پر توجہ مرکوز رکھی تاکہ بیرونی دنیا میں اپنی ایک ناقابلِ تسخیر تصویر پیش کر سکے۔ تاہم، ڈاکٹر گپتا کے ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا عالمی تھنک ٹینکس، تعلیمی اداروں اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ گہرا اور مستقل رابطہ زیادہ پائیدار اور مؤثر ثابت ہوا۔جموں و کشمیر کے تنازعے اور علاقائی سلامتی جیسے اہم مسائل پر اپنے موقف کو مسلسل اور مدلل انداز میں پیش کر کے، اسلام آباد عالمی رائے عامہ کو تبدیل کرنے اور بین الاقوامی برادری کی اپنے اصولی موقف پر توجہ مبذول کرانے میں کامیاب رہا ہے۔
علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کا ریاستی سرپرستی میں چلنے والا جارحانہ بیانیہ اپنے ہی تضادات کے بوجھ تلے دب کر ناکام ہو رہا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی، وہاں دوسری طرف اسلام آباد کی متوازن اور مستقل مزاج کمیونیکیشن اسٹریٹجی نے عالمی پالیسی ساز حلقوں میں حقیقی اثر و رسوخ قائم کیا۔سفارتی ماہرین کے مطابق،بھارتی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ ترین عہدے دار کی جانب سے یہ عوامی اعتراف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے اسٹیج پر مستقل مزاج سچائی اور اسٹریٹجک حکمتِ عملی، پروپیگنڈے اورسستی شہرت پر فوقیت رکھتی ہے۔




