#کالم

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

Untitled 1 Recovered copy

دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب

غالب کے اس مصرع کی آفاقیت دیکھئے، ادب تو ادب، سائنس کی دریافتیں بھی اس کے دائرے سے باہر نہیں۔ جب ہمیں ابتدائی طور پر بایولوجی پڑھائی گئی تو زندگی کی ابتدا کے حوالے سے ایک بڑی سائنسی بحث کا ذکر زور و شور سے کیا جاتا تھا۔ صدیوں تک یہ تصور عام رہا کہ زندگی بے جان مادّے سے خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ گوشت سڑتا تو اس میں کیڑے پیدا ہو جاتے، گندے پانی میں جراثیم نمودار ہو جاتے، اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ سب سپانٹینئس جنریشن (خود رو تخلیق) ہے۔
سترھویں صدی میں اطالوی سائنسدان فرانچیسکو ریڈی نے گوشت کے مرتبانوں پر تجربات کر کے دکھایا کہ اگر مکھیوں کو گوشت تک رسائی نہ دی جائے تو کیڑے پیدا نہیں ہوتے۔ مگر اصل فیصلہ انیسویں صدی میں لوئس پاسچر کے ہاتھوں ہوا۔ پاسچر نے اتفاقاً خم دار گردن والے مخصوص فلاسک استعمال کیے۔ ان میں میڈیا ابال کر جراثیم سے پاک کیا گیا۔ ان کی بناوٹ ایسی تھی کہ ہوا اندر داخل ہو سکتی تھی مگر گرد و غبار اور جراثیم خم دار گردن میں پھنس جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میڈیا خراب نہ ہوا۔ لیکن جب انہی فلاسکوں کو جھکا کر گرد کو میڈیا تک پہنچایا گیا تو جراثیم پیدا ہو گئے۔ یوں پاسچر نے ثابت کیا کہ کوئی بھی جاندار بے جان مادّے سے پیدا نہیں ہو سکتا، بلکہ زندگی پہلے سے موجود زندگی ہی سے جنم لیتی ہے۔
لیکن اب جدید سائنس زندگی کی ابتدائی کیمیائی تشکیل کے بارے میں ایک نیا نظریہ پیش کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ بگ بینگ کے بعد جب زمین ٹھنڈی ہوئی، سمندر وجود میں آئے، اور فضا میں موجود گیسوں پر بجلی گری تو انہی کیمیائی تعاملات سے امینو ایسڈز، نیوکلیوٹائڈز، پھر آر این اے اور ڈی این اے کے ابتدائی سانچے وجود میں آئے۔ ملر اور یوری کے تجربات اسی تصور کی بنیاد مانے جاتے ہیں۔ ملر اور یوری کا نظریہ اربوں سال پہلے کی زمین کی بات کرتا ہے جب آکسیجن نہیں تھی اور انتہائی درجہ حرارت تھا۔
اب ہم حیرت سے کھڑے ہیں کہ سائنس کی کس بات کو آخری سچ مانیں۔
سائنسی دریافتوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو بار بار محسوس ہوتا ہے کہ انسان محنت کرتا ہے، تجربے کرتا ہے، ناکام ہوتا ہے، مگر فیصلہ کن لمحہ اکثر غیب سے اک اشارے کی صورت سامنے آتا ہے۔
سال 1928 میں لندن کے سینٹ میری ہسپتال میں الیگزینڈر فلیمنگ چھٹیوں سے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی پیٹری ڈشز میں پھپھوندی لگ چکی ہے۔ ابتدا میں وہ پریشان ہوا کہ تجربات ضائع ہو گئے، مگر پھر اس نے غور کیا کہ جہاں فنگس موجود تھی وہاں بیکٹیریا ختم ہو چکے تھے۔ یہی مشاہدہ پینسلین کی دریافت کا سبب بنا۔ بعد میں یہی اینٹی بائیوٹک دوسری جنگِ عظیم میں ہزاروں زخمی فوجیوں کی زندگی بچانے کا ذریعہ بنی۔ ہم کہہ سکتے ہیں فلیمنگ کی مسلسل محنت کے بعد اسے غیب سے اشارہ ملا اور یوں طب کی دنیا میں ایسا انقلاب برپا ہوا کہ ہزاروں زخمی لوگ موت کی دہلیز سے زندگی میں واپس لوٹے۔
انیسویں صدی میں آسٹریا کے ایک پادری گریگر مینڈل کا کام بھی اسی غیبی رہنمائی اور مسلسل مشاہدے کی ایک شاندار مثال ہے۔ وہ اپنے کلیسا کے باغیچے میں برسوں تک مٹر کے پودوں کی افزائش کرتا رہا۔ بظاہر یہ ایک عام سا مشغلہ تھا، مگر اس نے دیکھا کہ پودوں کی بعض خصوصیات (جیسے رنگ اور قد) ایک خاص ریاضیاتی تناسب سے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہیں۔ اس وقت کے بڑے بڑے سائنسدان اس راز کو نہ پا سکے جو ایک پادری کے مشاہدے میں آ گیا۔ یہی کام بعد میں جینیات اور وراثت کے قوانین کی بنیاد بنا۔

اسی طرح ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی کوئینین کی تاریخ بھی دلچسپ ہے۔
جنوبی امریکہ میں مقامی باشندے سنکونا (Cinchona) درخت کی چھال بخار کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ جب مانگ بڑھی تو انہوں نے ملتی جلتی درخت کی کھالوں کی ملاوٹ شروع کردی اس مسئلے کا حل ایک عرصے کے بعد اصل درخت کی چھال سے ایک مادے کوئنین کے حصول سے نکالا گیا جو ملیریا کے جراثیم کے خلاف مؤثر تھا۔ اس دریافت نے ملیریا کے علاج میں انقلاب برپا کر دیا۔

جرمن کیمیا دان آگسٹ کیکولے برسوں بینزین کی ساخت سمجھنے کی کوشش کرتا رہا مگر ناکام رہا۔ ایک شام وہ انتہائی مایوس گھر جانے کے لیے بس میں سوار ہوا اور یہ سوچتے سوچتے کہ اس نے اپنی تمام زندگی جس کام کے لیے وقف کی، اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، اسی کشمکش میں اسے اونگھ آ گئی تھی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک سانپ اپنی ہی دُم کو منہ میں لیے دائرے کی صورت میں گھوم رہا ہے۔ بس کو جھٹکا لگا اور اس کی آنکھ کھل گئی اور اچانک اس پر منکشف ہوا کہ شاید بینزین کی ساخت سیدھی زنجیر نہیں بلکہ حلقوی ہے۔ بعد میں یہی نظریہ آرگینک کیمسٹری کی بنیاد بن گیا۔ کیکولے نے اعتراف کیا کہ اس پر یہ حقیقت ایک خواب کے ذریعے منکشف ہوئی۔

روسی سائنسدان دیمتری مینڈیلیف بھی عناصر کی درجہ بندی میں الجھا ہوا تھا۔ وہ دن رات کاغذوں پر کام کرتا رہا اور عناصر کے ناموں والے کارڈز کے ساتھ کیمیکل سولیٹیئر، یعنی ترتیب کے ایک کھیل، میں مصروف رہا مگر ترتیب مکمل نہ ہو سکی۔ پھر ایک دن اسی کوشش کے دوران تھک کر غنودگی کی حالت میں چلا گیا تو اسے خواب میں پورا پیریاڈک ٹیبل ایک منظم شکل میں دکھائی دیا۔ وہ فوراً اٹھا اور اسے کاغذ پر منتقل کر لیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس جدول میں بعض خالی جگہیں چھوڑ دی گئی تھیں، اور بعد میں انہی جگہوں کے مطابق نئے عناصر دریافت ہوئے۔

سال 1895 میں جرمن سائنسدان ولہیم رونٹگن کیتھوڈ ریز پر تجربات کر رہا تھا کہ اس نے دیکھا قریب رکھی فلوریسنٹ اسکرین اچانک چمک اٹھی۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی نامعلوم شعاع بند پردوں کے پار جا رہی ہے۔ یہی حادثاتی مشاہدہ بعد میں ایکس ریز کی دریافت

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے