اظہر سلیم کی شعری دنیا
روبرو۔۔۔محمد نوید مرزا
آج کے دور میں جہاں جدید اور گمراہ کن موضوعات پر مشتمل شاعری مقبول ہو رہی ہے اور نئی نسل کے نوجوان شعراء تجربات کے نام پر ادب کو زوال کی طرف لے کر جا رہے ہیں وھاں کچھ پرانے شعراء کا دم غنیمت ہے ،جو آج بھی روایت سے جڑی ہوئی شاعری منظر عام پر لا رہے ہیں۔لیکن اب یہ قیمتی لوگ بہت کم رہ گئے ہیں۔تاہم ابھی اردو ادب پر اتنا بڑا وقت نہیں آیا کہ ایسے لوگ بالکل ہی ناپید ہو جائیں ۔سو انہی شعراء میں ایک نام جناب اظہر سلیم کا بھی ہے جو ایک طرف تو غزل کے روایتی مزاج سے واقف ہیں تو دوسری جانب جدید ادب کا مطالعہ بھی کرتے رہتے ہیں۔تاہم ان کی غزل میں نئے پرانے موضوعات جس خوب صورتی سے در آتے ہیں وہ انہی کا حصہ ہے۔وہ محبت کے موضوعات کو تو اپنے خوبصورت اور بے ساختہ انداز سے بیان کرتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عصری مسائل ،غیر منصفانہ تقسیم،عدم مساوات ،سماجی ،معاشی اور معاشرتی مسائل پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔
اس وقت ان کا نیا شعری مجموعہ،چلو چاہت تلاش کرتے ہیں،،میرے سامنے ہے ،جس میں حمد ،نعت،سلام ،غزلیں ،قطعات ،فرفردیات اور ایک گیت بھی شامل ہے۔یوں اظہر سلیم صاحب اردو کی تمام مقبول اصناف پر بڑی کامیابی سے طبع آزمائی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کی محبت کی شاعری ہو یا دیگر سماجی ،معاشی و سیاسی موضوعات پر طبع آزمائی ہو ،وہ ہمیں ہر جگہ کا میاب نظر آتے ہیں۔
میں ان کے اس شعری مجموعے کی آمد پر انھیں کھلے دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آئیے ان کے چند اشعار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔۔۔
ترے کرم سے ہے یہ کائنات جلوہ فزوں
ہر ایک شے تری رحمت کے اعتراف میں ہے
مرے آقا کرم کی اک نظر ہو جائے مفلس پر
مرا دن عید ہو اور شب،شب بارات ہو جائے
تھوڑا جلال میری طبیعت میں ہے ضرور
پر تجھ سا بد دماغ یا خود سر نہیں ہوں میں
شاید وہ شہر عشق کبھی تھا عروج پر
حسرت کی تلخیاں ملیں آثار میں بہت
سوچیں کہاں کہاں سے کدھر کو چلی گئیں
بدلاؤ آرہے تھے جو افکار میں بہت
عشق یوں عام ہو ہی جاتا ہے
طشت از بام ہو ہی جاتا ہے
مجھ کو نشہ پلا کے گرانے میں ہے بضد
تھامے وہ جام آب بھی مری رہگذر میں ہے
حسن کا جب بھی ذکر ہوتا ہے
حسن یوسف کی لیں مثال سے کام
اب بھی کچھ کا ضمیر زندہ ہے
ہر کوئی تو بکا نہیں ہوتا
برف راتوں کے مہکتے ہوئے سناٹوں کی
سرسراہٹ دل مضطر کو دکھانے نکلی
چلو چاہت تلاش کرتے ہیں
یہیں قرب و جوار میں ہوگی
کن چراغوں کی بات کرتے ہو
سب چراغوں تلے اندھیرا ہے
میں ۔۔۔چلو چاہت تلاش کرتے ہیں۔۔۔ کی اشاعت پر جناب اظہر سلیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اس مجموعے کی بھر پور پذیرائی کے لئے دعا گو ہوں۔ویل ڈن
مل






