#اداریہ

سیاسی فائدے کیلیے استعمال کیے گئے ” سائفر ” کی ازسرنو بازگشت

Fahad 01

آج کا اداریہ

چار سال سے زائد کے وقفے کے بعدایک بار پھر اُس امریکی خط کی بازگشت دوبارہ سُنائی دے رہی ہے جسے ’سیاسی فائدے کے لیے استعمال‘ کرنے کی پاداش میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی جاچکی ہے۔سوشل میڈیا میں مبینہ سائفر پر بحث کا آغاز اُس وقت ہوا ہے جب ایک نیوز ویب سائٹ ’ڈراپ سائٹ‘ نے تین صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وہ ’اوریجنل سائفر‘ ہے جو ’سابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی اقتدار سے برطرفی کی وجہ بنا۔لیکن تاحال کہیں بھی دوسرے ذرائع سے اسکی تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی حکومت کی جانب سے معاملے پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے، تاہم پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور اس جماعت کے حامی اکاؤنٹس کی جانب سے ڈراپ سائٹ پر جاری ہونے والی اس مبینہ دستاویز کو بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 10 اپریل 2022 کو سابق وزیر اعظم عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔اس برطرفی سے تقریباً دو ہفتے قبل (27 مارچ 2022) کو عمران خان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران اپنے حامیوں کے سامنے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کی حکومت کے خلاف بیرون ملک سے سازش ہو رہی ہے اور انھیں ’لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔‘
اس جلسے کے بعد عمران خان نے ایک اور تقریر میں دعویٰ کیا کہ اُس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے کہا تھا کہ ’اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے۔‘عمران خان کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لُو اُن کی حکومت گرانے کی اُس ’سازش‘ کا حصہ ہیں جس کا مقصد اُن کی حکومت کو ہٹانا تھا تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔خود عمران خان نے بھی بعد ازاں کہنا شروع کردیا تھا یہ بیرونی نہیں اندرونی سازش تھی اس حوالے سے۔اگست 2023 میں اتحادی حکومت کے سربراہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’عمران خان اس معاملے (سائفر) پر اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے خود کہہ چکے ہیں کہ سازش امریکہ نے نہیں کی تھی بلکہ فلاں نے کی تھی۔۔۔ یہ سر سے پاؤں تک ایک جھوٹ کا پلندہ ہے، اور انھی معاملات کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بڑا بگاڑ آ چکا تھا جسے اعتماد کے لیول تک لانے میں اُن کی حکومت نے بڑی محنت کی۔‘
تاہم اب ’ڈراپ سائٹ’ کی جانب سے شائع کردہ مبینہ دستاویز کے بعد ایک بار پھرگڑھے مردے اکھاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے
خیال رہے کہ بیرون ملک سفارتخانوں سے موصول ہونے والے سائفرز عام طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک غیر گردشی اور دوسرے عمومی طور پر وہ ہوتے ہیں جنھیں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
غیر گردشی سائفرز کو مخصوص ایڈریسز (مخصوص افراد) کے لیے نشان زد کیا جاتا ہے اور بھیجنے والا سفیر فیصلہ کرتا ہے کہ یہ کسے وصول ہونا چاہیے۔ البتہ سیکریٹری خارجہ، وزارت خارجہ کا سربراہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ ایسی ڈپلومیٹک کیبل یا سائفر کس کس کو بھیجا جا سکتا ہے۔عمران خان والے کیس میں دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ سائفر اُس وقت کے وزیراعظم، صدر مملکت، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھیجا گیا تھا۔دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ سائفر کی یہ تمام کاپیاں اصلی تصور کی جاتی ہیں اور ایک مہینے کے اندر سائفر کو واپس دفتر خارجہ بھیجنا ہوتا ہے۔ یہ کام اس وجہ سے بھی احسن انداز میں ہو جاتا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر میں بھی دفتر خارجہ کے اہم دو سے تین افسران تعینات ہوتے ہیں جو اس ’کمیونیکیشن‘ کو یقینی بناتے ہیں۔بعدازاں دفتر خارجہ کو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور صدر مملکت کو بھیجی گئی کاپیاں تو دفتر خارجہ کو موصول ہو گئیں مگر وزیراعظم کو بھیجا گیا سائفر موصول نہیں ہوا، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اس کا کوڈ کمپرومائز تو نہیں ہو گیا ہے یا کہیں یہ سائفر کسی دوسرے ملک کے ہاتھ تو نہیں لگ جائے گا۔ستمبر 2022 میں عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سائفر کے غائب ہونے سے متعلق سوال پر جواب دیا تھا کہ ’جو میرے پاس تھا اور وہ غائب ہو گیا، کہیں کھو گیا، مجھے نہیں پتا۔‘عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان افراد نے ’سیاسی فائدے کے لیے‘ حساس سفارتی دستاویز کا استعمال کیا۔عائد کردہ الزامات میں کہا گیا تھا کہ ان افراد نے خفیہ سفارتی سائفر کا غلط استعمال کرتے ہوئے اور اسے غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھ کر ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے 19 جولائی 2023 کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت اس مقدمے میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور بعدازاں 29 اگست 2023 کو سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی تھی۔اب ایک بار پھر اس موضوع کو چھیڑا گیا ہے تو پوچھا جارہا ہےکہ یہ دستاویز اتنی ہی حساس تھی تو گئی کہاں ؟

سیاسی فائدے کیلیے استعمال کیے گئے ” سائفر ” کی ازسرنو بازگشت

20/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

سیاسی فائدے کیلیے استعمال کیے گئے ” سائفر ” کی ازسرنو بازگشت

"زندگی اور وصیت”

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے