پنکی کا کھڑاک، ملکہ کی بادشاہت
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے احکامات اور سخت ہدایات کے باوجود صوبائی دارحکومت کی خوبصورت٫٫ نہر کنارے،، جھومتے، لڑکھڑاتے، گرتے پڑتے اور پولیس سے جھگڑتے اکثر ہر عمر کے لوگ دکھائی دیتے ھیں یہ لڑکے لڑکیاں قریبی آ بادیوں کی مکین ہیں جنہیں منشیات کے نشے نے گھر پیارے گھر سے بے گھر کر کے یہاں بسنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ یہاں انہیں منشیات کی سہولت بآ سانی میسر ہے پولیس اور اپنے اہل خانہ سے لڑائی جھگڑوں کی دو وجوہات بتائی جاتیں ہیں پہلی یہ کہ پولیس حکومتی پالیسی میں یہاں سے بھگانے آ تی ہے اور یہ عالم مدہوشی میں ان کے گلے پڑ جاتے ہیں سب اکٹھے حملہ آ ور ہوتے ہیں، مار کٹائی اور ڈنڈا پیر بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑتا اس لیے کہ وہ ہوش کی بجائے جوش میں ہوتے ہیں، دوسرا الزام یہ ہے کہ پولیس کے شیر جوان ان کی تلاشی لیتے ہوئے اپنا خرچہ پانی لے لیتے ہیں جس پر لڑائی جھگڑے کی نوبت آ تی ہے اس کے برعکس کئی مرتبہ معزز خواتین و حضرات ان مدہوشوں کے نرغے میں پائے جاتے ہیں وہ ان کے لواحقین بتائے جاتے ہیں جنہیں ان کی زندگی ،موت، بھوک، پیاس کی فکر لاحق ہوتی ہے کیونکہ اکثریت نے ان آ دم زادوں کی پیدائش پر ٫٫اولاد نرینہ،، کا جشن منایا تھا بلکہ شکر کیا تھا کہ اللہ نے ان پر بیٹی کا بوجھ نہیں ڈالا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیٹیاں آ رام سے گھر میں بیٹھی نیک نامی کا باعث ہیں تعلیمی میدان میں بھی ذمہ داریاں نبھا رہی اور گھر کے کاموں میں بھی، لیکن جن پر مان کر کے خوشی کا جشن منایا گیا تھا وہ نہ کام کے نہ کاج کے، پہلے دشمن اناج کے ثابت ہوئے اور پھر منشیات کی غلامی میں ایسے پھنسے کہ نہ صرف گھروں کا راستہ بھول گئے بلکہ باعث شرمندگی و ندامت ہیں، ہم ان نظاروں کے دور دور سے ہی گواہ ہیں اس لیے کہ ان کے نزدیک جانا خطرے سے خالی نہیں، یہ جسے دشمن سمجھ لیں ان پر ٫٫بلیڈ اور سرنجوں،، سے حملہ آ ور ہوتے ہیں بظاہر ٫٫بلیڈ اور سرنج،، کوئی بڑا ہتھیار نہیں لیکن گندے بلیڈ اور نشے میں استعمال شدہ سرنج خطرناک بیماریوں ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا باعث بن جاتی ہیں کیونکہ یہ منشیات زدہ افراد ایسی ہی بیماریوں کا شکار ہیں، ان میں سے اکثر کے جسم پھوڑوں زخموں سے بھرے ہیں بلکہ وہ ناسور بن چکے ہیں ایسے میں تمام لاہوریت سوچنے پر مجبور ہیں کہ وزیر اعلی کے سخت احکامات کے باوجود یہ بے حسی کا میلہ کیوں سجا ہے؟ نئی نسل تباہ ہو رہی ہے اور اب آ دم زادوں نے اپنے جال میں ٫٫حوا کی بیٹیوں،، کو بھی پھنسا لیا ہے فی الحال ان کی تعداد کم ہے، کچھ سارا دن نظر آ تی جاتی ملتی ہیں اور کچھ راتوں کو بھی نہر کنارے ہی٫٫ شب بسری،، کی عادی ہو چکیں ہیں بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان مصیبت زدہ قسمت کے ماروں کی تمام ضروریات ٫٫نہر کنارے،، ہی پوری ہو جاتیں ہیں برقع پوش خواتین منشیات کی سپلائی کرتی ہیں، کبھی کبھار مرد حضرات بھی اس کاروائی میں پائے جاتے ہیں یہ لوگ جو نہی آ تے ہیں تمام کے تمام ضرورت مند ان کو گھیرے میں لیے پائے جاتے ہیں، انہیں کسی کا کوئی خوف نہیں، بے خوف و خطر زہر بانٹ کر نوٹ اکٹھے کر کے چلتے بنتے ہیں ،کوئی انہیں اس لیے نہیں پوچھتا کہ قانون کے مقابلے میں ان کے ہاتھ زیادہ لمبے اور مضبوط ہو چکے ہیں ٫٫منشیات مافیا،، برسوں میں اس قدر تگڑا ہو چکا ہے کہ اسے کوئی ہاتھ ڈالتے گھبراتا ہے کیونکہ عام اور اہم اداروں کے ساتھ الزام ہے کہ یہ ایوانوں میں بھی براجماں ہیں
کچھ لوگ اس رائے کو تسلیم نہیں کرتے لیکن حقیقت یہی ہے کہ حکومت اور ادارے اس مافیا کے سامنے بے بس ہیں جنہیں یقین نہیں اب انہیں بھی٫٫ پنکی کے کھڑاک،، نے یقین کرا دیا انمول پنکی لاہور سے پکڑی گئی کہ کراچی سے اس سے قطع نظر تھانے کچہری میں اس کی شاہانہ٫٫ کیٹ واک ،،غیر معمولی٫٫ پروٹوکول،، نے لوگوں کی آ نکھیں کھول دیں کہ مافیا کے ہاتھ کتنے لمبے ہیں۔۔۔ گرفتاری میں ہتھکڑی لگانے کی کسی نے جرات نہیں کی بلکہ پہلی پیشی میں پولیس بیچاری ریمانڈ تک حاصل نہیں کر سکی، عدالت نے اس کی ٫٫ آ نیاں جانیاں،، دیکھیں اور اسے انتہائی شریفانہ انداز میں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا یقینا اگر اس کے ہاتھ لمبے نہ ہوتے تو ریمانڈ پر ریمانڈ اور ٫٫چھتر پولا،، اس کا نصیب بننا تھا لیکن حاسد سوشل میڈیا اور میڈیا ٫٫پنکی کے ٹور،، برداشت نہیں کر سکے، واویلا مچایا۔۔ رد عمل میں تین روزہ ریمانڈ ملا، تھانیدار بیچارا معطل اور تفتیشی افسر تبدیل ہو گیا اب کون ہمت کر کے پوچھے کہ پروٹوکول کیا تھانیدار کی ایماء پر دیا گیا ؟ہرگز نہیں، لیکن غصہ ہمیشہ کمزور پر نکلتا ہے سو٫٫ آ ئی واش،، کے لیے وہ کچھ کر دیا گیا جو روایتی طور پر کیا جاتا ہے، انمول عرف پنکی 14 سال کی عمر میں ماڈل بننے گھر سے نکلی تھی لیکن وہ اپنے شوہر کی سرپرستی میں٫٫ کوکین ماسٹر ،،بن گئی، اس کا٫٫ نیٹ ورک،، مضبوط، پہلا شوہر ملائشیا میں دوسری شادی تفتیشی ڈی۔ ایس۔ پی سے کی جبکہ اس کی چار شادیوں میں سے صرف دو شادیاں رجسٹرڈ ہیں اور اس کام میں اب اسے 16 سالہ تجربہ حاصل ہے، تین بھائی ھی نہیں، بھائی کی گرل فرینڈ سب کے سب گینگ میں شامل، لاکھوں کی منشیات پکڑی گئی اسلحہ بھی بر آ مد ہوا، لاہور میں بھی مقدمات سے نکلی اور اس مقدمے میں بھی اس نے جلد رھائی کا پیغام دے دیا ہے لیکن ایک ویڈیو نے اس کے بہت سے راز فاش کر دیئے جس کے مطابق رقم کی ادائیگی اکاؤنٹس کے ذریعے، سپلائی پولیس، کوچ ڈرائیورز، ریلوے ٹرین اور رائیڈرز کی سہولت سے، پھر بھی کسی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں یعنی پوری ٹیم ایسے سسٹم کی محتاج۔۔ جس میں کوئی کسی سے شناسا






