امریکہ ۔ ایران تعلقات بدستور تعطل کا شکار
آج کا اداریہ
امریکی صدر ڈونلڈ جے۔ٹرمپ کے دورہ چین سے مشرق وسطی کی صورت حال بہتر ہونے کی جو امیدیں لگائی گئی تھیں فی الحال پوری ہوتی نظر نہیں آرہی بظاہر فریقین میں کچھ لچک ضرور دکھائی دے رہی ہے تاہم ایران اور امریکہ کے تعلقاتتاحال تعطل کا شکار ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد دس ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے اور ایک نازک جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق اب بھی پاکستان جیسے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔تجاویز اور جوابی تجاویز کے اس تبادلے کے دوران پانچ بنیادی نکات ایسے ہیں جو ایران اور امریکہ کے درمیان اہم اختلافی مسائل کے طور پر برقرار ہیں: یورینیم افزودگی کا پروگرام، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل، آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور آمدورفت کی مکمل بحالی، خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیاں اور بیلسٹک میزائل پروگرام۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے حالیہ امریکی تجویز کے جواب کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اطلاعات کے مطابق واشنگٹن کے 14 نکاتی منصوبے میں یورینیم افزودگی روکنا، ایران کے 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کرنا یا مکمل طور پر اسے (پرامن مقاصد تک) محدود کرنا اور آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر کھولنا شامل ہے۔اس منصوبے میں 30 دن کی ایک مدت بھی رکھی گئی ہے تاکہ دیگر مسائل، جیسے خطے میں ایران کے حمایت یافتہ گروپوں اور میزائل پروگرام، پر بات چیت کی راہ ہموار کی جا سکے۔دوسری جانب ایران ان تجاویز کو قبول کرنا ایک ایسی جنگ میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہے جس کے بارے میں اس کا مؤقف ہے کہ وہ میدان جنگ میں دنیا کی دو بڑی فوجی طاقتوں کے مقابلے میں ہارا نہیں۔ اسی لیے ایران رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق اپنے جواب میں فوری جنگ بندی (بشمول لبنان)، پابندیوں کے مکمل خاتمے، ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے اعتراف اور ہنگامی نوعیت کے امور کو جوہری مذاکرات سے الگ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔ایران نے جواباً یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے کچھ حصے کو کم کرنے یا کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم مکمل منتقلی کو مسترد کرتے ہوئے ’پرامن افزودگی کے حق‘ پر زور دیا ہے۔ان پانچ بڑے اختلافی نکات پر جاری تعطل نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ عالمی توانائی کے تحفظ، تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کے استحکام پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے
یورینیم کی افزودگی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں اختلاف کے سب سے اہم اور قدیم نکات میں سے ایک ہے کیونکہ واشنگٹن کے نقطۂ نظر سے یہ اس سوال سے جڑا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تکنیکی صلاحیت سے کتنی دوری پر ہے۔قدرتی یورینیم اکیلے زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔ افزودگی کے عمل میں یورینیم کے توانائی بردار حصے (آئسوٹوپ 235) کی مقدار بڑھائی جاتی ہے تاکہ اسے ایسے ایندھن میں تبدیل کیا جا سکے جو جوہری ری ایکٹرز میں استعمال ہو سکے۔ تاہم، جیسے جیسے یورینیم کی افزودگی کا تناسب بڑھتا ہے، اس کے عسکری استعمال کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت پرامن مقاصد، جیسے توانائی پیداوار، تحقیق اور طبی ضروریات کے لیے افزودگی کے اپنے حق پر زور دیتا ہے۔ اس کے برعکس امریکہ اور اسرائیل اس پروگرام کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کے پردے کے طور پر دیکھتے ہیں۔عام طور پر تین سے پانچ فیصد تک افزودگی بجلی گھروں کے لیے استعمال ہوتی ہے جبکہ 20 فیصد افزودہ یورینیم تحقیقاتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے تاہم اس سطح سے زیادہ افزودگی ہتھیاروں کے درجے کے یورینیم کی طرف راستہ ہموار کرتی ہے۔ تکنیکی طور پر 60 فیصد افزودہ یورینیم 90 فیصد تک پہنچنے کے لیے بہت کم فاصلہ رکھتا ہے، جو جوہری بم بنانے کے لیے درکار سطح ہے۔گذشتہ موسم گرما میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے وقت تک ایران 60 فیصد افزودگی کی سطح تک پہنچ چکا تھا، جس کا شہری استعمال بہت محدود ہے اور امریکی و اسرائیلی حکام کے مطابق اس سے ایران کے ’نیوکلیئر بریک آؤٹ‘ کا وقت چند ہفتوں تک محدود ہو گیا تھا۔ اسی دوران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ تہران نے ہزاروں جدید سینٹری فیوجز نصب کر لیے ہیں اور خاطر خواہ ذخائر جمع کر لیے ہیں۔نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد افزودگی کی سرگرمیاں عملاً رک گئیں اور کئی آلات کو شدید نقصان پہنچا۔جنگ کے خاتمے کے لیے حالیہ مذاکرات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے طویل مدت کے لیے ایران میں افزودگی مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا (اطلاعات کے مطابق 20 سال یا مستقل طور پر) اور اس بات پر زور دیا کہ ’ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے۔دوسری جانب تہران عارضی پابندیوں، افزودگی کی سطح کم کرنے اور پرامن مقاصد کے لیے بین الاقوامی نگرانی قبول کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے، تاہم وہ پروگرام کی مکمل بندش یا اس کی سرگرمیوں کو بیرون ملک منتقل کرنے کو اپنی خودمختاری کے خلاف سمجھتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔یہ خلیج دراصل گہرے تاریخی عدم اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے: مغرب ایران کی ماضی میں خفیہ سرگرمیوں پر شک کرتا ہے جبکہ ایران ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے امریکی انخلا اور حالیہ جنگوں کو واشنگٹن پر عدم اعتماد کی وجوہات قرار دیتا ہے
دوسرا بڑا اختلافی نکتہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کا مستقبل ہے۔ 12 روزہ جنگ سے قبل بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایران کے پاس تقریباً 440 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود تھا۔یہ سطح ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر اسے مزید افزودہ کیا جائے تو یہ کئی جوہری ہتھیاروں کے






