#کالم

ڈاکٹر عبدالروف رفیقی کا ستارہ امتیاز

Untitled 13456

از: امجد علی
راقم الحروف ہیچمدان کو سر سے دوچار مرتبہ سلام کرنے کا شرف حاصل ہے۔ جس پر میں خود ہی خود نازاں بھی ہوں۔ بہت ہی اعلی نرم، شفیق اور محبتوں کی آبشار جیسی طبعیت کے مالک ہیں۔ گو لکھنے کے ہنر سے ناواقف و عاجز ہوں پھر بھی آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کو حکومت کی طرف سے ستارہء امتیاز سے نوازے جانے کی خبر سنی تو چاہا چند سطور آپکی شخصیت اور علم و فن کی تحسین کے لیے نظر کروں۔

قوموں کی تاریخ میں ایسے ادوار بھی آتے ہیں جب ترقی کی شاہراہیں دھندلا جاتی ہیں، جب روشنیاں مدھم پڑنے لگتی ہیں اور فکری افق پر تاریکیوں کے سائے گہرے ہونے لگتے ہیں۔ جمود چھانے لگتا ہے۔ ایسے میں کچھ خاموش چراغ جل اٹھتے ہیں اور روشنیاں پھیلاتے جاتے ہیں۔ وہ چراغ جو شہرت کے ہنگاموں سے دور، علم و آگہی کی محافل میں جلتے ہیں اور اپنی روشنی سے آنے والی نسلوں کے اذہان میں نئی کہکشاؤں کے نقش ابھارتے ہیں۔ ان کے اذہان و کہکشاؤں کے مابین راہیں تراشتے ہیں۔ انہی روشن اور تابندہ چراغوں میں ایک معتبر نام ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی کا بھی ہے، وہ ذی وقار جس نے عمر بھر قلم کو ذریعہ اظہار سے بڑھ کر ایک مقدس امانت اور قومی ذمہ داری سمجھ کر نبھایا ہے۔
وہ اوراق کی سفید چاند نگری میں لفظوں کی سیاہی میں ملبوس بے مقصد پیادے نہیں اتارتے، بلکہ فکر، تہذیب اور شعور سے مستقبل کے افق پر بھرپور جیتے، جاگتے، منظر تخلیق کرتے ہیں۔ ان کی تحریریں ایسے نقوش ثبت کرتی ہیں جن کی چمک مدتوں آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے اور جن کی بازگشت آنے والے زمانوں تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی کا شمار ملک کے نامور شہرہ آفاق ماہر اقبالیات، مستند، سر فہرست استاذہ اور سکالرز میں ہوتا ہے۔ وہ علم و حکمت میں گندھی ہوئی ذہین و فطین شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ کا اٹھنا بیٹھنا اوڑھنا بچھونا علم خصوصاً اقبالیات ہی ہے۔ آپ کا تعلق بلوچستان کے مردم خیز ضلع چمن پشین سے ہے، وہ سرزمین جو ہمیشہ اہل فکر، اہل قلم اور باکردار شخصیات کی آماجگاہ رہی ہے۔ وہ کھلے ہوئے گل لالہ کی مانند بلوچستان کی پھیلی ہوئی وسیع دھرتی کے نخلستان کو مہکاتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے دور دراز علاقوں کی مسافت کرتے کرتے اس گل لالہ کے سحر نے پورے ملک کے ادبی حلقوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ابتدائی ایام ہی سے مطالعہ، تحقیق اور ادب سے ان کی غیرمعمولی وابستگی تھی۔ نوجوانی ہی میں انہوں نے علم کو مشن کے طور پر اختیار کیا اور یہی شوق انہیں کوئٹہ، اسلام آباد اور لاہور کے علمی و ادبی حلقوں کی مسافت کرواتا رہا، وہ جہاں بھی گئے ان کی فکری بصیرت نے اہل دانش کو متحیر کیا۔ اگر کبھی فرصت کے کسی لمحے میں ان کی رفاقت یا کوئی نششت میسر ہو جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی یادداشت سلسلہ اقبال سے جڑی کتنی نادر شخصیات، یادوں اور افکار کے جگمگاتے نگینوں سے بھری ہوئی ہے۔

انہوں نے اپنی زندگی کا ایک حصہ افغانستان میں مختلف سرکاری فرائض سر انجام (متعدد بار سفر کئیے) دینے میں گزارا اور افغانستان ہی کے موضوع پر اپنی گراں قدر تحقیقی کاوش کے ذریعے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جو ان کے عمیق مطالعے اور تحقیقی مزاج کا روشن ثبوت ہے۔ پشتو ادب، اردو ادب اور اقبالیات کے میدان میں ان کی خدمات نہایت وقیع اور کثیرجہتی ہیں۔ درجنوں علمی و تحقیقی ضخیم کتب، بے شمار مضامین اور مقالات کے ذریعے انہوں نے ادب اور تحقیق کے افق پر اپنی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تحریروں میں تحقیق کی گہرائی کے ساتھ ساتھ فکری حرارت اور تہذیبی شعور بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جھلکتا ہے۔ بطور ڈائریکٹر اقبال اکادمی پاکستان وہ اقبالیات، پشتو ادب، اردو تحقیق اور افغانستانی مطالعات کے ممتاز محقق سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی متعدد علمی و تحقیقی تصانیف شائع ہو چکی ہیں، جو بہت سارے قومی اور انٹرنیشنل انعامات اور میڈلز سمیٹ چکی ہیں جن میں نمایاں کتب یہ ہیں افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت، سیر اقبال شناسی در افغانستان، اقبال اور افغانستان، پشتو ادب کی تحقیقی جہات، اقبالیات کے تنقیدی مباحث اور اردو، فارسی اور پشتو ادب کے تحقیقی مقالات شامل ہیں۔
مختلف رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی صاحب کی اقبال شناسی، تصوف، تہذیب اور فکریات پر مشتمل درجنوں مقالات اور تقریباً ترپن (53) علمی و تحقیقی کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ وہ ان معدودے چند اہل علم میں شامل ہیں جنہوں نے اقبال کے پیغام کو محض کتابی حوالہ نہیں بننے دیا بلکہ اسے ایک زندہ فکری روایت کے طور پر نسل نو تک منتقل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
وہ سرحدوں سے پار بھی مسلسل فکر اقبال کی سفارت کاری کی رہتے آ رہے ہیں۔ یوں ڈاکٹر رفیقی صاحب پوری جوانمردی اور اخلاص کے ساتھ علامہ محمد اقبال کی فکری وراثت کی پاسبانی کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اقبال صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک فکری جہان، ایک تہذیبی شعور اور ایک بیدار روح نور کا نام ہیں۔ یہی سبب ہے کہ وہ ملک بھر میں موجود مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے اقبال دوست اہل قلم کی دلجوئی، حوصلہ افزائی اور فکری رہنمائی کے لیے دور دراز، سنگلاخ اور گمنام علاقوں تک سفر کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔
یہ انہی کی محبت اقبال کا فیض تھا کہ وہ سیالکوٹ کے ایک دور افتادہ دیہی علاقے میں مقیم اس گمنام بزرگ سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے جس نے کلام اقبال پر پنجابی زبان میں خاموش مگر وقیع کام کیا تھا۔ ایک صاحب قلم کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اقبال اکادمی پاکستان کا ڈائریکٹر خود بنفس نفیس اس کے دروازے پر جا کر اس کی علمی خدمات کو سلام پیش کرے۔
بین الاقوامی علمی و ادبی تقاریب میں پیام اقبال کو دنیا تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ وہ ملکی سطح پر بچوں کے لیے اقبال کے افکار کو کہانیوں اور حکایات کے قالب میں ڈھالنے والے تخلیق کاروں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے