#کالم

افغانستان، پاکستان اور خوشحالی کی راہداری

Mohion

تحریر: محمد محسن اقبال1

قدرتِ الٰہی نے انسان کے وجود کو اس حسنِ ترتیب سے تخلیق فرمایا ہے کہ اس کے ہر عضو کی صحت اور کارکردگی دوسرے اعضا سے جڑی ہوئی ہے۔ جسم کا کوئی ایک حصہ بھی اگر کمزور پڑ جائے تو پورا وجود متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ ان اعضا میں سب سے اہم دل ہے، جو لمحہ بہ لمحہ خون کو دماغ کی فکری سلطنت سے لے کر پاؤں کی آخری رگ تک پہنچاتا رہتا ہے۔ اگر غفلت، بیماری یا کسی بیرونی سبب سے شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہو جائے، خون جمنے لگے یا بہاؤ سست پڑ جائے تو ابتدا میں ادویات سے علاج کیا جاتا ہے۔ اگر یہ تدابیر ناکافی ثابت ہوں تو اسٹنٹ کے ذریعے بند رگ کھولی جاتی ہے، اور جب خطرہ زندگی تک جا پہنچے تو بائی پاس سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے تاکہ جسم کا نظام باقی رہ سکے۔

آج پاکستان کی کیفیت بھی کچھ اسی مانند ہے۔ اقوامِ عالم کے جسم میں پاکستان ایک ایسے دل کی حیثیت رکھتا ہے جو جغرافیائی، سیاسی، تجارتی اور عسکری اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ملک تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے اور اس کے کندھوں پر صرف اپنی سرحدوں ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون اور قربانی دی، مگر اسے ایک مسلسل ناسور کا سامنا رہا؛ افغانستان کی سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی، جسے بھارتی سرپرستی اور سازشوں نے مزید ہوا دی۔ اس بیرونی مداخلت نے پاکستان کے امن، استحکام اور فطری قومی رفتار کو بری طرح متاثر کیا۔

پاکستان نے غیر معمولی صبر و تحمل کے ساتھ مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے ان مسائل کے حل کی کوشش کی۔ مگر جب بات چیت مستقل امن کا راستہ نہ کھول سکی تو ملک کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے عسکری کارروائیاں ناگزیر ہو گئیں۔ یہ اقدامات کسی خواہش کا نتیجہ نہیں بلکہ بقا کی ضرورت تھے۔ افسوس کہ آج بھی سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں اور ان کی ڈوریں بیرونی ہاتھوں سے ہلائی جا رہی ہیں۔

ان نازک حالات میں بعض برادر اسلامی ممالک نے ثالثی اور مفاہمت کی مخلصانہ کوششیں کیں۔ قطر اور ترکیہ سمیت کئی دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے اپنی خدمات پیش کیں تاکہ خطے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔ ان کوششوں کے پیچھے یہ امید کارفرما تھی کہ دانائی، برداشت اور باہمی احترام دشمنی اور ضد پر غالب آ جائیں گے، مگر افغانستان کی جانب سے اپنی سرزمین کو دشمنانہ سرگرمیوں سے پاک نہ کرنے کے باعث یہ تمام کاوشیں بے نتیجہ رہیں۔

اصل المیہ صرف بدامنی نہیں بلکہ وہ بے شمار مواقع ہیں جو مسلسل کشیدگی کی نذر ہو رہے ہیں۔ وسطی ایشیا، جس میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغیزستان شامل ہیں، قدرتی گیس، تیل، یورینیم اور نایاب معدنیات کے عظیم ذخائر رکھتا ہے۔ یہ ممالک سمندر سے محروم ہونے کے باعث عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتے۔ ان کے جنوب میں پاکستان اور افغانستان ایسے قدرتی پل کی حیثیت رکھتے ہیں جو ان وسائل کو جنوبی اور مشرقی ایشیا، خصوصاً چین اور بھارت کی توانائی کی ضروریات سے جوڑ سکتے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا توانائی استعمال کرنے والا ملک ہے جبکہ بھارت تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت رکھتا ہے، اور دونوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد زمینی راہداریوں کی شدید ضرورت ہے۔

اگر پاکستان اور افغانستان کے راستے گیس و تیل کی پائپ لائنیں، جدید شاہراہیں اور تیز رفتار ریل نیٹ ورک قائم ہو جائیں تو یہ راہداری ہر سال اربوں ڈالر کی آمدنی پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے صنعتوں کو فروغ ملے گا، روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے، بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہو گا اور دونوں ممالک امداد کے محتاج رہنے کے بجائے علاقائی تجارت کے مراکز بن سکتے ہیں۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں عالمی تجارت کے دروازے بن سکتی ہیں جبکہ مجوزہ ریل اور سڑکوں کا جال وسطی ایشیا کے میدانوں کو بحیرۂ عرب کی بندرگاہوں سے ملا سکتا ہے۔ مگر یہ خواب ایک ہی بڑی رکاوٹ کے باعث حقیقت نہیں بن پا رہا؛ افغانستان میں پائیدار امن اور ذمہ دار حکمرانی کا فقدان۔

پاکستان اور افغانستان مل کر اس پورے خطے میں رسد اور طلب کے درمیان قدرتی رابطہ ہیں۔ جنگ اور بدامنی کی راہداری کو تجارت اور خوشحالی کی شاہراہ میں تبدیل کرنا ناممکن نہیں، مگر اس کے لیے کابل کو سنجیدہ سیاسی بصیرت اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ افغانستان، جو خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، اپنے ہمسایوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تجارتی روابط کے بغیر مستحکم اور خود کفیل مستقبل تعمیر نہیں کر سکتا۔ آج اس کے سامنے واضح انتخاب موجود ہے؛ یا تو وہ تجارت اور ترقی کی راہداری بنے جو اپنے عوام کو خوشحالی دے، یا پھر تنازعات کی گزرگاہ بن کر عالمی امداد پر انحصار اور تنہائی کی زندگی گزارے۔

امن اور رابطہ سازی کے فوائد دونوں ممالک کے لیے یکساں اور بے حد وسیع ہیں۔ اگر خطے میں استحکام آ جائے تو سرحدی تجارت پھلے پھولے گی، سرمایہ کاری بڑھے گی اور ہزاروں پاکستانیوں اور افغانوں کو روزگار ملے گا۔ پاکستان کو وسطی ایشیائی وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہوگی جبکہ اس کی بندرگاہیں اور شاہراہیں بھرپور استعمال میں آئیں گی۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب بسنے والے عام لوگ مشترکہ خوشحالی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ لیکن جب تک دہشت گردی، شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں اور سرحد پار حملے جاری رہیں گے، اس نوعیت کا کوئی معاشی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ افغان سرزمین کو پاکستان دشمن عناصر کے لیے مزید پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔ اس لیے علاقائی تجارت اور امن کا خواب کابل کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی سے جڑا ہوا ہے۔

موجودہ افغان حکومت کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو برداشت کرنا، بلکہ بعض اوقات ان کی پشت پناہی کرنا، علاقائی انضمام کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کابل کو اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے پاکستان دشمن گروہوں کی حمایت ترک کرنا ہوگی اور بلوچستان و سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے والے نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ اعتماد اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ افغان عوام، جو اپنے حکمرانوں کے فیصلوں کی سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ آیا وہ پراکسی جنگوں اور تنہائی سے بھرا مستقبل چاہتے ہیں یا ایسا کل جس میں تجارت، روابط اور اجتماعی ترقی کی روشنی ہو۔

اس پورے منظرنامے کے اثرات صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں۔ بلوچستان نایاب معدنیات اور جدید ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والے قیمتی عناصر کے وسیع ذخائر رکھتا ہے۔ مگر جب تک دہشت گردی کا سایہ موجود رہے گا، اس دولت سے بھرپور فائدہ اٹھانا ممکن نہیں۔ بلوچستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کے مفاد میں بھی ہے، جو محفوظ تجارتی راستوں اور اہم معدنیات کی متبادل رسد کے خواہاں ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری پر بھی لازم ہے کہ وہ کابل کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے، دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے پر آمادہ کرے۔

وسطی ایشیا وسائل سے مالا مال ہے، جنوبی اور مشرقی ایشیا ان وسائل کے طلبگار ہیں، جبکہ پاکستان اور افغانستان ان کے درمیان وہ ناگزیر راہداری ہیں جو اس پورے خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اب صرف دو عناصر کی کمی ہے؛ سلامتی اور باہمی اعتماد۔ اور ان دونوں کا دار و مدار بڑی حد تک کابل کے رویّے اور پالیسیوں پر ہے۔

قدرت نے اس خطے کو جغرافیے، وسائل اور امکانات کی بے مثال نعمتوں سے نوازا ہے۔ اب یہ اس کے حکمرانوں اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دوراندیشی، حکمت اور تدبر سے ان رکاوٹوں کو دور کریں تاکہ ترقی، امن اور خوشحالی کا بہاؤ اسی طرح جاری ہو سکے جیسے ایک صحت مند دل پورے جسم میں زندگی کی حرارت اور توازن برقرار رکھتا ہے۔

  1. ↩︎

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے