ریٹائرمنٹ اور رشتوں کی حقیقت
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
ریٹائرمنٹ انسان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ہوتا ہے ۔یہ صرف نوکری کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک شناخت ،معمول اور سماجی مقام میں تبدیلی کا نام ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرۓ میں اکثر اس کے بعد گھر والوں ،ساتھیوں اور دوستوں کے رویوں میں جو تبدیلی آتی ہے وہ کئی تلخ حقیقتوں کو بے نقاب کرتی ہے ۔مجھے اکثر ریٹائرڈ دوستوں سے ملنے اور ان کے دکھ سننے کا موقع ملتا رہتا ہے اورمجھے ان کی ملازمت کے دوران سج دھج اور دبدبہ یاد آتا ہے اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد سادگی کا پیکر بنا دیکھ کر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا واقعی ریٹائرمنٹ ایک ایسی تبدیلی کا نام ہے جو زندگی کو یکسر بدل دیتی ہے ؟
زندگی کے دفتر میں ایک دن ایسا بھی ضرور آتا ہے جب حاضری رجسٹر میں نام تو موجود ہوتا ہے، مگر سامنے "ریٹائرڈ” کی مہر لگ چکی ہوتی ہے۔ یہ مہر صرف کاغذ پر نہیں لگتی، اکثر یہ انسان کے گرد بسے رویوں اور لہجوں پر بھی ثبت ہو جاتی ہے۔ کل تک وہی شخص جو دفتر میں داخل ہوتا تو چپڑاسی دروازہ کھول کر کرسی سیدھی کرتاتھا اور فائلیں اس کے اشارے کی منتظر ہوتیں اور ماتحت اس کے ایک جملے کو حکم سمجھتے تھے ۔جسکے فیصلوں پر عمل ہوتا تھا اور وہ اپنے ادارۓ کا ایک ستون سمجھا جاتا تھا —وہی شخص اپنے ہی گھر میں ایک غیر محسوس سی موجودگی بن کر رہ جاتا ہے نہ اس کی بات ہی پہلے جیسی اہمیت رکھتی ہے اور نہ اس کی راۓ کو وزن دیا جاتا ہے ۔آج وہی شخص گھر میں پانی کے ایک گلاس اور چائے کے کپ کے لیے بھی کبھی کبھار خود ہی اٹھنا سیکھ لیتا ہے۔ اور اگر ذرا دیر سے چائے ملے تو جواب آتا ہے: "اب آپ فارغ ہی تو ہیں، خود بھی بنا سکتے ہیں یہ جملہ بظاہر ہلکا سا مزاح رکھتا ہے، مگر اس میں چھپی حقیقت دل کو چبھ سی جاتی ہے۔ ایک صاحب کا واقعہ سنیے۔ پوری زندگی سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ ریٹائر ہوئے تو پہلے دن بڑے اہتمام سے تیار ہو کر بیٹھ گئے، جیسے دفتر جانا ہو۔ بیگم نے پوچھا: "آج کہاں کا ارادہ ہے؟” مسکرا کر بولے: "بس عادت ہے، سوچا کہیں جانا ہو تو دیر نہ ہو جائے یہ جملہ سن کر بیگم تو مسکرا دیں، مگر حقیقت یہ تھی کہ ان کے اندر برسوں کی مصروف زندگی ایک دم خاموش ہو گئی تھی۔ گھر کے اندر لہجوں اور رویوں کی تبدیلی سب سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اولاد جو کبھی باپ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتی تھی، اب اسے مشورہ دینے کے بجائے "اپڈیٹ” کرنے لگتی ہے۔ابو ! یہ پرانا زمانہ نہیں رہا "یا ابو ! آپ کو کیا پتہ آجکل کیا چل رہا ہے ؟ یہ ایک جملہ صرف اختلاف نہیں، بلکہ ایک خاموش فاصلہ ہوتا ہےجو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے —”یعنی دو نسلوں کے درمیان، دو سوچوں کے درمیان” ۔دوستوں کا معاملہ بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہوتا ۔ جو کل تک ہر محفل میں ساتھ تھے، اب مصروفیات کا بہانہ بنا کر دور ہو جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دوستی کی بنیاد بھی وقت اور مفاد کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ یہ سب رویے آخر کیا ظاہر کرتے ہیں؟یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم نے انسان کی قدر کو اس کی ذات کے بجائے اس کے عہدے سے جوڑ دیا ہے۔ جب ضرورت اور عہدہ ختم ہوتے ہیں تو عزت اور قدر بھی مدھم پڑنے لگتی ہےضرورت کے تحت آنے والے فون کی گھنٹیاں اور کالز کم ہونے لگتی ہیں ۔۔ یہ ایک تلخ سچ ہے، مگر سچ یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک "انسان” کو نہیں، "حیثیت” کو پہچانتا ہے۔میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے پہلے دو سال نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں ایک عجیب سا ڈئپریشن محسوس ہوتا ہے” جب ایک حکم دینے والے انسان پر لوگ حکم چلانے لگ جاتے ہیں "۔جب بیوی بھی رفتہ رفتہ آپکے کام کرنا چھوڑدیتی ہے ۔صبح استری شدہ کپڑوں اور پالش شدہ جوتے ملنا بند ہو جاتے ہیں ۔اگر کسی سے پانی بھی مانگو تو وہ اگر کچھ نہیں بھی کہتا تو ایسی نظروں سے ضرور دیکھتا ہے جو کہہ رہی ہوتی ہیں کہ "رسی جل گئی مگر بل نہ گئے ” اب تو ریٹائر ہوچکے ہو خود اپنا کام کرو ۔یہاں بیوی اور ماں کے رشتے کا فرق نظر آتا ہے کہ جب ہم بے روزگار تھے تو ماں کےرحم وکرم پر ہوتے تھے جو ہمیں کبھی بےروزگاری کا احساس نہ ہونے دیتی اور جب ریٹائرہوتے ہیں تو بیوی بچوں کے ہاتھ آجاتے ہیں جہاں خیال رکھنا بھی کسی احسان سے کم نہیں ہوتا ۔میں نے اپنے بینک کے بہت سے دوستوں کو ریٹائر منٹ کے بعد دو سال کے اندر اندر ہی اللہ کو پیارے ہوتے دیکھا ہے۔ ۔سب سے پہلے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے رشتوں کو اکثر "مفاد” کے ساتھ جوڑ رکھا ہوتا ہے۔ جب تک انسان بااختیار، باوسیلہ اور کماؤ ہوتا ہے، اس کی بات سنی جاتی ہے، اسے اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر جیسے ہی وہ ریٹائر ہوتا ہے، اس کی آمدن اور اختیار کم ہو جاتا ہے، تو وہی شخص اکثر "اضافی” یا "غیر ضروری” محسوس کرایا جانے لگتا ہے۔ گویا عزت کا معیار ذات یا کردار نہیں بلکہ کرنسی بن جاتا ہے۔ گھر کے اندر لہجوں اور رویوں کی تبدیلی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اولاد جو کبھی باپ کی انگلی پکڑ کر چلتی تھی، اب اس کے مشوروں کو پرانا سمجھنے لگتی ہے۔ بیوی جو کبھی اس کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑی تھی، کبھی کبھار وہ بھی حالات کے دباؤ یا معاشی تنگی کے باعث رویے میں سختی لے آتی ہے۔ یہ سب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو ان کے تجربے اور دانائی کے بجائے صرف "کمائی کرنے والی مشین” سمجھ لیا ہے۔ دوستوں کا بدلتا رویہ بھی کم معنی خیز نہیں ہوتا ۔ وہ محفلیں جو کبھی اس کے بغیر ادھوری ہوتی تھیں، اب اس کی غیر موجودگی کو محسوس نہیں کرتیں۔ فون کالز کم ہو جاتی ہیں، دعوتیں محدود ہو جاتی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہت سی دوستیاں بھی وقتی مفادات یا پیشہ ورانہ تعلقات پر قائم ہوتی ہیں، نہ کہ خلوص اور وفاداری پر۔
لیکن اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے—اور وہ زیادہ حقیقت پسندانہ اور امید افزا ہے۔ ریٹائرمنٹ دراصل ایک موقع بھی ہو سکتی ہے: خود کو نئے سرے سے دریافت کرنے کا، روحانی و فکری ترقی کا، اور ان رشتوں کو پہچاننے کا جو واقعی مخلص ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو اپنی ذات کو صرف عہدے اور تنخواہ سے آزاد کر کے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بدلتے رویے ہمیں چند اہم سبق دیتے ہیں اپنی پہچان کو صرف نوکری تک محدود نہ کریں اولاد کی تربیت میں اقدار، احترام اور احساسِ ذمہ داری کو مرکزی حیثیت دیں دوستیوں کو مفاد سے بالا تر رکھیں اور سب سے بڑھ کر، اپنے اندرونی سکون اور خودداری کو مضبوط بنائیں ۔آخر میں، یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ ریٹائرمنٹ انسان کو نہیں بدلتی، بلکہ اردگرد کے چہروں سے نقاب ہٹا دیتی ہے۔”
مگر یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے: کیا قصور صرف معاشرے کا ہے؟ شاید نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ساری پہچان نوکری کے ساتھ باندھ دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو وقت دینے کے بجائے وسائل دیتے ہیں، ان کے دلوں میں احترام کے بیج بونے کے بجائے صرف آسائشیں فراہم کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وسائل کم ہو جاتے ہیں، تو رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ اسلام ہمیں اس حوالے سے بڑی واضح تعلیم دیتا ہے۔ والدین اور بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بارہا والدین کے ساتھ نرمی، عزت اور ادب کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی حکم نہیں، بلکہ ایک سماجی توازن کا ضامن بھی ہے۔
لیکن اس ساری تصویر کا ایک روشن پہلو اور بھی ہے۔ ریٹائرمنٹ دراصل ایک نئی زندگی کا آغاز بھی ہو سکتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان اپنے رب کے قریب ہو سکتا ہے، اپنی ادھوری خواہشات کو پورا کر سکتا ہے، لکھ سکتا ہے، پڑھ سکتا ہے، سیکھ سکتا ہے، اور سب سے بڑھ کر—اپنے تجربات کو نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنا سکتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان کو یہ سمجھ آتا ہے کہ اصل سرمایہ نہ عہدہ تھا نہ تنخواہ—بلکہ وہ کردار تھا جو اس نے زندگی بھر بنایا۔ آخر میں صرف ایک بات کہ ریٹائرمنٹ انسان کو نوکری سے ہی فارغ نہیں کرتی، بلکہ اسے یہ بھی دکھاتی ہے کہ اس کے اردگرد کون لوگ واقعی اس کے اپنے ہیں ؟یاد رہے کہ یہ میرے ذاتی تجربات ہیں ضروری نہیں کہ ہر فرد کو ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑۓ بہت سے لوگ اپنے مستقبل کی سوچ پہلے سے ہی منفرد اور منظم رکھتے ہیں اور ریٹائرمنٹ ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوتی ۔میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ انسان کو اپنی کمائی کا اتنا حصہ ضرور سنبھال کر رکھنا چاہیے کہ جب اسے چھینک بھی آۓ تو الحمداللہ تو کوئی اور ضرور کہے۔






