پانی کا بحران اور ہماری ذمہ داری۔
تحریر:نایاب بابر
پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت کے ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جو نہ صرف معیشت بلکہ قومی سلامتی، عوامی صحت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ کبھی آبی وسائل کے اعتبار سے نسبتاً محفوظ سمجھا جانے والا یہ ملک آج دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہو رہا ہے جہاں پانی کی کمی ایک وجودی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی، موسمیاتی تبدیلیاں اور ناقص آبی انتظام اس بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔
ملک کی آبادی میں تیز رفتار اضافہ دستیاب پانی کے وسائل پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں نے بارشوں کے نظام اور دریاؤں کے بہاؤ کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھا رہا ہے، جبکہ بخارات کے ذریعے پانی کے ضیاع میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقے پہلے ہی طویل خشک سالی اور پانی کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
پاکستان کی معیشت کا سب سے اہم شعبہ زراعت ہے، مگر یہی شعبہ پانی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ملک کے آبی وسائل کا تقریباً نوے فیصد زراعت میں استعمال ہوتا ہے، لیکن پانی کی کم دستیابی اور فرسودہ نہری نظام نے کسانوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی کمی کے باعث نہروں میں پانی کی روانی کم ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کسان زیر زمین پانی نکالنے کے لیے ٹیوب ویلوں پر انحصار بڑھا رہے ہیں۔ مسلسل اور بے دریغ استعمال کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں، جو مستقبل میں ایک اور بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں آج بھی آبپاشی کے پرانے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں جن میں پانی کا ضیاع بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خستہ حال نہریں بھی لاکھوں گیلن پانی ضائع کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور اُن لاکھوں خاندانوں کی روزی خطرے میں پڑ رہی ہے جن کا انحصار زراعت پر ہے۔
پانی کا بحران اب صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑے شہر بھی اس کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ کراچی، لاہور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں پانی کی فراہمی آبادی کے دباؤ کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ ایک طرف پانی کی قلت بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف دستیاب پانی کا معیار بھی تشویشناک حد تک خراب ہو چکا ہے۔ صنعتی فضلہ اور سیوریج کا گندا پانی آبی ذخائر اور زیر زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے، جس کے باعث پیٹ، جگر اور گردوں کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی نہ صرف صحت عامہ بلکہ قومی معیشت پر بھی اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔
پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت بھی اس بحران کی ایک بڑی وجہ ہے۔ مون سون کے دوران حاصل ہونے والا قیمتی پانی مناسب ڈیموں اور ذخیرہ گاہوں کی کمی کے باعث سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اگر یہی پانی محفوظ کیا جائے تو خشک موسم میں ملک کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی سے آبی انفراسٹرکچر میں ناکافی سرمایہ کاری، ناقص حکمرانی اور غیر مربوط منصوبہ بندی نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
حکومتی سطح پر انتظامی کمزوریاں، غیر ذمہ دارانہ رویے اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں سستی اس بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو پانی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا، جس کے نتائج غذائی قلت، صنعتی بحران اور سماجی بے چینی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پانی کی کمی براہ راست زرعی پیداوار، بجلی کی تیاری اور صنعتی ترقی کو متاثر کر رہی ہے، جس سے قومی معیشت کمزور پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اب بھی وقت ہے کہ پاکستان اس بحران پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ سب سے پہلے آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا ضروری ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ ڈرپ اور اسپرنکلر جیسے جدید طریقوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ نئے ڈیموں اور آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ بارشوں اور دریائی پانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
زیر زمین پانی کے بے تحاشا استعمال کو بھی قانون کے دائرے میں لانا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ قیمتی سرمایہ محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ عوام میں پانی کے محتاط استعمال کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ پانی کی قلت اب کوئی مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، اور اگر آج ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔






