#کالم

نمبروں کی دوڑ اور تعلیم کا زوال 

Untitled 5 1

احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان

مجھے یاد ہے کہ اسی کی دھائی میں جب میں نےاسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ماسٹرز کیا  تو  اس وقت  اردو لیٹریچر یا لینگویج  میں ماسٹرز کرنے والا اگر پچاس فیصد یا اس سے کچھ زیادہ نمبرز لے لیتا تھا تو وہ یونیوررسٹی میں پوزیشن ہولڈر ہوا کرتاتھا ۔فرسٹ ڈویژن لینے والا تو پھولے نہ سماتا تھا ۔یہ وہ دور تھا جب مجھے اردو میں ماسٹرز کرنے کے لیے لائبریری سے کتابوں کی ایک پوری بوری بھر کر لانا پڑی تھی ۔جرنلزم یا صحافت  کا ایک اختیاری مضموں بھی اس زمانے میں اردو ماسٹرز کے سلیبس  کا حصہ ہوا کرتا تھا ۔اردو زبان وادب میں ماسٹر آف آرٹ کی ڈگری رکھنے والا صرف ڈگری ہی نہیں رکھتا تھا بلکہ اسے زبان وادب پر مکمل عبور بھی ہوا کرتا تھا ۔مجھے اس زمانے میں پورے پورے دیوان زبانی یاد ہوا کرتےتھے ۔آج بھی ستر سال کی عمر مین ہزاروں اشعار یاد ہیں بلکہ پوری پوری غزلیں بھی ابھی تک ذہن میں محفوظ ہیں ۔پھر نمبروں کے حصول کے لیے بچوں اور والدین کی دوڑ شروع ہوئی تو پیپرز چیک کرنےوالوں کو ڈھونڈ نکالنا ایک پورا مشن بن گیا اور یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ شارٹ کٹ ایجاد ہوۓ اور "سبجیکٹ "سے "اوبجیکٹ "کا سفر شروع ہوا تو نمبرز کی برسات بھی شروع ہو گئی۔رٹا سسٹم کو عروج ملنے لگا ۔اسکول اور کالجز سے زیادہ اکیڈمی کا رجحان بڑھ گیا اور کتابوں سے زیادہ  خلاصوں کی ضرورت بڑھ گئی ۔جہاں علم کو حاصل کردہ نمبروں سے جوڑ دیا گیا ۔قابل اور ذہین وہی ہے جس کے نمبرز زیادہ ہوتے ہیں ۔میٹرک میں میرے نمبر غالبا”  نوسو میں سے سات سو بارہ آۓ تھے تو لوگ مجھے حیرت  اور رشک سے دیکھا کرتے تھے کہ اتنے نمبرز کیسے آگئے ہیں ؟لیکن آج تعلیم  اور ڈگری اچھی  ملازمت کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے ۔

اس سے قبل بھی میں موجودہ تعلیمی نظام اور رٹا  ،نقل سسٹم اور فاصلاتی تعلیم کے طریقہ کار سے اختلاف رکھتے ہوۓ  اپنے   کئی کالمز اس بارۓ میں لکھ چکا ہوں ۔مگر  آج کا تعلیمی نظام تو  ایک عجیب تضاد کا شکار ہو چکا  ہے۔ ایک طرف امتحانات میں نمبروں کی بےتحاشا تقسیم ہو رہی ہے، جہاں 95 فیصد سے کم نمبر لینے والا طالب علم خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے، اور دوسری طرف یہی تعلیمی نظام بچوں کے ذہنی سکون، تخلیقی صلاحیت اور کردار سازی کو مسلسل نگل رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آج    ہمارے علم کا مقصد شعور پیدا کرنا نہیں بلکہ صرف مارکس اور نمبروں  کی  فیکٹری چلانا رہ گیا ہے۔آج پروفیشنل تعلیم کے لیے میرٹ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ قابل سے قابل بچہ بھی اپنے آپ پر اعتمادنہیں کر پارہا ہے ۔رزلٹ کے بعد بچوں کا رونا اور جذباتی ہونا دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ سب  اب قابلیت سے زیادہ قسمت کا کھیل بن چکا ہے ۔اپنے اور اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے  پرائیویٹ اداروں میں سیلف فنانس پر پڑھائی فیشن اور شاید مجبوری بھی  بنتی جارہی ہے ۔

کبھی زمانہ تھا کہ فرسٹ ڈویژن لینے والا پورے علاقے کی شان سمجھا جاتا تھا، مگر آج 99 فیصد نمبر لینے والا بھی پریشان دکھائی دیتا ہے کہ کہیں کسی اور کے 0.5 نمبر زیادہ نہ آ جائیں۔ نمبروں کی اس اندھی دوڑ نے طالب علم کو کتاب سے زیادہ “رزلٹ” کا قیدی بنا دیا ہے۔ بچے علم حاصل نہیں کر رہے بلکہ نمبر اکٹھے کر رہے ہیں، جیسے تعلیم نہیں کوئی "مقابلہ نمبرز "ہو۔ یہ صورتحال صرف امتحانی نظام کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی نفسیاتی بیماری بن چکی ہے۔ والدین اپنی نامکمل خواہشات بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں، اساتذہ پر رزلٹ کا دباؤ ہوتا ہے، اور تعلیمی ادارے کامیابی کو صرف فیصد کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ اس بے ہنگم دوڑ  کا  نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچے کم عمری میں ہی ذہنی دباؤ، بےچینی، احساسِ کمتری اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے نظامِ تعلیم نے ذہین انسان پیدا کرنے کے بجائے “یادداشت کے مزدور” پیدا کرنا شروع کر دیے ہیں۔آج کا   طالب علم کتاب کے صفحے تو یاد کر لیتا ہے مگر زندگی کے اصول نہیں سمجھ پاتا۔ اسے سوال حل کرنا آتا ہے مگر مسائل حل کرنا نہیں آتا۔ اس کے پاس ڈگری ہوتی ہے مگر خود اعتمادی اور مہارت نہیں ہے ۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو  دنیا کی بڑی کامیاب شخصیات صرف اچھے نمبر لینے والے نہیں تھیں بلکہ وہ تخلیقی، جستجو کرنے والی اور ناکامی سے سیکھنے والی شخصیات تھیں۔ اگر نمبر ہی ذہانت کا واحد معیار ہوتے تو شاید زندگی کے بہت سے بڑے نام کبھی کامیاب نہ ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعلیم کو صرف امتحان تک محدود نہ کریں۔ بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ انسان کی اصل قدر اس کے کردار، صلاحیت، اخلاق، تخلیقی سوچ اور عملی زندگی میں ہے، نہ کہ صرف مارک شیٹ کے چند ہندسوں میں۔ امتحان زندگی کا ایک حصہ ضرور ہے مگر پوری زندگی نہیں۔ وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جہاں بچے کتاب سے زیادہ خوف سے پڑھیں، اور جہاں والدین اولاد کے ذہنی سکون سے زیادہ نمبر کو اہم سمجھنے لگیں۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جو صرف ذہن نہیں بلکہ انسان بھی تیار کرے۔

نمبروں کی یہ دوڑ اب تعلیم سے نکل کر نفسیاتی جنگ بنتی جا رہی ہے۔ ہر سال ریکارڈ بنتے ہیں، ہر سال فیصد بڑھتے ہیں، اور ہر سال بچوں کے چہروں سے سکون کم ہوتا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر 95 فیصد لینے والا بھی مطمئن نہیں تو پھر اس دوڑ کی منزل آخر کہاں ہے؟ آج طالب علم کتاب اس لیے نہیں پڑھتا کہ وہ علم حاصل کرے، بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ وہ دوسرے سے آگے نکل سکے۔ والدین بچوں کے خوابوں سے زیادہ اپنی خواہشات کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔ اسکول اور کالج اپنی تشہیر کے لیے “ٹاپرز” کی تصاویر سجاتے ہیں، مگر ان بچوں کی خاموش تھکن، نیند سے محروم راتیں اور ذہنی دباؤ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نمبروں کی اس بارش نے اصل قابلیت کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ جب ہر طرف 100 میں سے 100 آنے لگیں تو پھر ذہانت کا معیار کیا رہ جاتا ہے؟ کیا واقعی پورا معاشرہ غیر معمولی ذہین ہو گیا ہے، یا پھر نظام خود مصنوعی کامیابیوں کے سہارے کھڑا ہے؟ یہ دوڑ وہاں جا کر رکے گی جہاں ہم یہ مان لیں گے کہ انسان کی قیمت صرف مارکس شیٹ سے نہیں لگائی جا سکتی۔ ایک اچھا کاریگر، مخلص استاد، ایماندار مزدور، باکردار انسان اور تخلیقی ذہن رکھنے والا فرد بھی معاشرے کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کوئی گولڈ میڈلسٹ۔ اگر تعلیم صرف نمبروں تک محدود رہی تو ہم ڈگری یافتہ مگر بےسمت نسل پیدا کریں گے۔ ایسی نسل جو کامیابی کے خوف میں جیتے جیتے زندگی جینا بھول جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بچوں کو مقابلے سے زیادہ مقصد دینا سیکھیں، کیونکہ جب تعلیم انسان بنانے کے بجائے صرف رینکنگ بنانے لگے تو معاشرہ علم نہیں، دباؤ پیدا کرتا ہے۔ نمبروں کی یہ دوڑ تب رکے گی جب ہم بچوں سے یہ کہنا شروع کریں گے کہ: “تمہاری اصل کامیابی اچھا انسان بننا ہے، صرف زیادہ نمبر لینا نہیں ہے ۔دنیا بھر کا انداز تعلیم بدل رہا  ہے ۔اسکول کتابوں سے نکل کر جدید طریقہ تعلیم اپنا رہے ہیں ۔مصنوعی ذہانت کا انقلاب ہمارے دروازوں پر دستک دۓ رہا ہے جہاں نمبرز نہیں صلاحیت اور مہارت کو پرکھا جارہا ہے ۔سوال یہ ہےکہ ایسےحالات  میں ہم اور ہمارا نظام تعلیم کہاں کھڑا ہے ؟  ”

نمبروں کی دوڑ اور تعلیم کا زوال 

19/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے