دوبڑی طاقتوں کی بڑی بیٹھک
آج کا اداریہ
چین کے دارلحکومت بیجنگ میں دنیاکی دو بڑی طاقتوں کے سربرہان کی ملاقات کو پوری دنیا امید اور دلچسپی کی نگاہ سے اس لیے بھی دیکھ رہی تھی کہ مشرق وسطی کی صورت حال سے سب کامفادجڑا ہوا ہے۔اور امید کی جارہی ہے کوئی بریک تھرو ہوسکتا ہے
وائٹ ہاؤس نے اس ضمن میں کہا ہے کہ امریکہ اور چین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔ تجارت، تائیوان، توانائی کی سلامتی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔
ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران بیجنگ کی تہران کی ’حمایت‘ پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔ایک انٹرویو کے دوران فوکس نیوز کے میزبان سے ان سے سوال کہ کیا چینی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس ’حمایت‘ سے متعلق بات ہوئی ہے، تو ٹرمپ نے کہا: ’آپ حمایت کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہ (چین) ہمارے ساتھ جنگ تو نہیں لڑ رہا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ایران کو ’عسکری ساز و سامان نہیں دے گا‘ اور ٹرمپ کے مطابق ’یہ ایک بڑا بیان ہے۔‘صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں چینی صدر نے بتایا کہ بیجنگ ایران سے ’تیل خریدتا ہے اور وہ ایسا کرتے رہنا چاہیں گے۔‘امریکی صدر کے مطابق صدر شی جن پنگ نے انھیں بتایا کہ چین ’آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہے گا۔‘وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام اور عالمی استحکام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا، جسے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اس معاملے پر غیر معمولی ہم آہنگی قرار دیا جا رہا ہے۔اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو خلیج میں اپنے رویے سے پیچھے ہٹنے پر قائل کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا حل بیجنگ کے اقتصادی اور تزویراتی مفادات سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔مارکو روبیو نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی ایشیا میں تجارت اور توانائی کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باہمی تعلقات کو “تعمیری، اسٹریٹجک اور مستحکم” قرار دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ نیا فریم ورک اگلے تین برسوں اور اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے تعلقات کی رہنمائی فراہم کرے گا۔ بیجنگ نے امریکی کاروباری حضرات کیلئے چین کے دروازے کھلے رکھنے کا بیان دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیرمعمولی سرکاری طور پر بیجنگ میں ہیں، جہاں ان کی چینی صدر سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ “چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کا اصل جوہر باہمی فائدہ اور جیت-جیت کی تعاون ہے”۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ مل کر “مشکل سے حاصل ہونے والے مثبت مومنٹم” کو برقرار رکھیں۔
صدر شی نے واضح کیا کہ “چین کی امریکی کاروباری اداروں کے لیے دروازے مزید کھلیں گے”۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں صدور نے فوجی سطح پر بہتر مواصلات اور تجارت، صحت، زراعت، سیاحت، ثقافت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے معاملے کو چین-امریکہ تعلقات کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا: “اگر اسے اچھی طرح نمٹایا گیا تو باہمی تعلقات مجموعی طور پر مستحکم رہ سکتے ہیں، لیکن اگر برا طریقے سے نمٹایا گیا تو دونوں ممالک میں ٹکراؤ ہو سکتا ہے اور پورا چین-امریکہ تعلق انتہائی خطرناک صورتحال میں جا سکتا ہے۔
دریں اثنا ایران جنگ کے حوالے سے توقع یہی تھی کہ کوئی بڑا اعلان ہوگا۔تاہم چین کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ٹرمپ اور شی ملاقات میں اس موضوع کا زیادہ ذکر نہیں کیا گیا۔بیان میں تجارت اور تائیوان کے موضوعات پر تفصیلی بات کی گئی، لیکن ایران کا ذکر نمایاں نہیں تھا اگرچہ اس میں یہ ضرور کہا گیا کہ دونوں صدور نے ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال‘ سمیت دیگر عالمی امور پر ’خیالات کا تبادلہ‘ کیا۔امریکہ چاہتا ہے کہ چین، ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کرے، جبکہ اس تنازع میں براہِ راست شامل ہوئے بغیر چین خاموشی سے پس پردہ ثالثی کا کردار ادا کر رہا






