#کالم

پٹرول کیوں مہنگا ہے؟ — عوامی بوجھ، حکومتی ترجیحات اور معیشت کا المیہ

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
پاکستان میں جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف گاڑی چلانے والا متاثر نہیں ہوتا بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ رکشے والے سے لے کر مزدور تک، طالب علم سے لے کر تاجر تک، ہر شخص کی زندگی مہنگی ہو جاتی ہے۔ آٹا، دال، سبزی، دودھ، ٹرانسپورٹ، بجلی، حتیٰ کہ اسکول کی فیس تک پٹرول کی قیمتوں سے جڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ معیشت کی نبض بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان میں پٹرول اتنا مہنگا کیوں ہے؟ کیا واقعی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے عوام پر بوجھ ڈالا جاتا ہے یا اس کے پیچھے حکومتی مالیاتی پالیسیاں، ٹیکس نظام کی ناکامی اور اشرافیہ کے اخراجات بھی شامل ہیں؟
پاکستان میں پٹرول کی قیمت کا ایک بڑا حصہ اصل پٹرول کی قیمت نہیں بلکہ اس پر لگنے والے مختلف ٹیکس اور لیویز ہوتے ہیں۔ عوام حیران رہ جاتے ہیں کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو رہا ہے تو پاکستان میں قیمتیں کیوں نہیں کم ہوتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت پٹرول کو اپنی آمدنی کا آسان ترین ذریعہ سمجھتی ہے۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، پیٹرولیم لیوی، سیلز ٹیکس اور دیگر چارجز ملا کر بعض اوقات پٹرول کی اصل قیمت سے بھی زیادہ بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یعنی عوام صرف پٹرول نہیں خریدتے بلکہ حکومتی اخراجات کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکس نیٹ کی کمزوری ایک پرانا مسئلہ ہے۔ ایف بی آر ہر سال ٹیکس ہدف پورا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ بڑے بڑے سرمایہ دار، جاگیردار، بااثر کاروباری حلقے اور کئی شعبے مکمل ٹیکس دینے سے بچ نکلتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت آسان راستہ اختیار کرتی ہے اور پٹرول، بجلی اور گیس جیسی بنیادی ضروریات پر ٹیکس بڑھا دیتی ہے کیونکہ یہاں سے رقم فوری وصول ہو جاتی ہے۔ اس طرح ایک غریب مزدور اور ایک امیر صنعتکار، دونوں ایک ہی قیمت پر پٹرول خریدتے ہیں، حالانکہ بوجھ غریب پر کہیں زیادہ پڑتا ہے۔ یہ ٹیکس نظام کی وہ ناانصافی ہے جس نے متوسط طبقے کو آہستہ آہستہ ختم کرنا شروع کر دیا ہے۔
پاکستان کی معیشت پر آئی ایم ایف کے قرضوں کا دباؤ بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب حکومت قرض لیتی ہے تو اس کے ساتھ سخت شرائط بھی قبول کرتی ہے۔ ان شرائط میں سبسڈی ختم کرنا، ٹیکس بڑھانا اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہوتا ہے۔ حکومتیں اکثر یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ اگر پٹرول سستا کیا گیا تو آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں پڑ جائے گا۔ یوں عوام کو بتایا جاتا ہے کہ مہنگائی ناگزیر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عوام ہی قربانی دیں گے؟ کیا حکمران طبقات، اشرافیہ اور سرکاری ادارے بھی اسی austerity یعنی کفایت شعاری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب عوام کو سادگی اپنانے کا کہا جاتا ہے تو دوسری طرف اعلیٰ حکومتی شخصیات، ججز، وزراء اور پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ایک عام سرکاری ملازم مہنگائی میں پس رہا ہوتا ہے جبکہ اشرافیہ کے پروٹوکول، سرکاری گاڑیاں، ایندھن، رہائش، سیکیورٹی اور غیر ملکی دوروں پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو پھر حکمران طبقہ قربانی کیوں نہیں دیتا؟
پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے دوران ارکان اسمبلی کی رہائش، کھانے، سفری سہولیات اور دیگر انتظامات پر بھی خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ دوسری طرف غریب عوام کو کہا جاتا ہے کہ وہ مہنگائی برداشت کریں کیونکہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ یہ تضاد عوام کے دل میں غصہ اور بے اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ کفایت شعاری صرف غریب کے لیے ہے جبکہ طاقتور طبقہ ہر مشکل سے محفوظ رہتا ہے۔
اسی طرح ترقیاتی فنڈز کا معاملہ بھی قابلِ غور ہے۔ پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی فائدے کے لیے شروع کیے جاتے ہیں۔ سڑکوں، گلیوں، نمائشی منصوبوں اور اشتہارات پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں تاکہ اگلے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ کئی منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں، کئی صرف کاغذوں میں مکمل ہوتے ہیں، جبکہ عوام پر قرض اور ٹیکس کا بوجھ بڑھتا رہتا ہے۔ اگر یہی وسائل تعلیم، صحت، صنعتی ترقی اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیے جائیں تو نہ صرف معیشت مضبوط ہو بلکہ پٹرول پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے۔
حکومتی تشہیر پر خرچ ہونے والی رقم بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اخبارات، ٹی وی، سوشل میڈیا اور بڑے بڑے بینرز کے ذریعے حکومتی کامیابیوں کی تشہیر پر کروڑوں بلکہ اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں جب عوام آٹے اور پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہوں، یہ اشتہاری مہمات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف محسوس ہوتی ہیں۔ عوام کو ریلیف سے زیادہ تشہیر دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں سیکیورٹی اور پروٹوکول کے اخراجات بھی غیر معمولی ہیں۔ اہم شخصیات کے قافلے، درجنوں گاڑیاں، سڑکوں کی بندش، پولیس نفری اور خصوصی انتظامات ریاستی خزانے پر بھاری بوجھ بنتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی وزرائے اعظم اور صدور سادگی سے سفر کرتے نظر آتے ہیں لیکن پاکستان میں پروٹوکول طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مالی بوجھ بالآخر عوام ہی برداشت کرتے ہیں۔
پٹرول مہنگا ہونے کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ صنعتی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ فیکٹریوں کی پیداواری لاگت بڑھنے سے مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر وہ سفید پوش طبقہ ہوتا ہے جو نہ اتنا غریب ہوتا ہے کہ امداد لے سکے اور نہ اتنا امیر کہ مہنگائی سے بے نیاز رہ سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ٹیکس نظام کو حقیقی معنوں میں منصفانہ بنایا

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے