چراغ بھی حصاربھی۔فطرت اور خودی کا سفر
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
میرے بچے مجھے سے شاکی رہتے ہیں کہ جو لوگ آپ کی پرواہ نہیں کرتے ،آپ سے مخلص نہیں تو پھر بھی آپ ان کے لیے پریشان کیوں رہتے ہیں ؟ ان بچوں کی بات اپنی جگہ درست ہے کیونکہ وہ میری تکلیف دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں پریشانیوں سے بچا رہوں مگر وہ نہیں جانتے کہ یہ رویہ محض عادت نہیں ایک قدر ہے ایک ایسی قدر جو ہر کسی کے پاس نہیں ہوتی ۔جب دل زندہ ہوتا ہے تو ہم مخلص رہتے ہیں لیکن اگر یہی مخلصی ہمیں بےچین ،تھکا ہوا اور دکھی کر رہی ہے تو پھر اسے تھوڑا سا نظم دینا ضروری بھی ہوتا ہے ۔میں ایک ہی جواب دیتا ہوں کہ بچوں ! ہر انسان اپنی فطرت پر جیتا ہے میں اگر لوگوں کی پرواہ نہ کروں تو شاید میں وہ نہ رہوں جو میں ہوں ؟ لیکن ان کی بات بھی ٹھیک ہے اس لیے اب میں یہ بات سیکھ رہا ہوں کہ پرواہ ضرور کریں مگر خود کو تکلیف میں نہ ڈالیں ۔میں بدلو گا نہیں بس خود کو سنبھال کر چلنے کی کوشش کرونگا ۔کیونکہ میرے یہ بچے مجھے بدلنا نہیں بلکہ محفو ظ دیکھنا چاہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ فکر ضرور کریں مگر اپنے سکون کی قیمت پر نہیں ۔۔تعلق رکھین مگر اپنی عزت نفس کے ساتھ ۔۔مخلص ضرور رہیں مگر خود کو نہ کھودیں ۔
اس سے قبل کچھوۓ اور بچھو کی فطرت نہ بدلنے کے بارے میں ایک کہانی اکثر پڑھی اور سنائی جاتی رہی ہے اور بتایا جاتا رہا ہے کہ "فطرت کبھی نہیں بدلتی "مگر گذشتہ روز فیس بک ایک اور واقعہ پڑھنے کا اتفاق ہوا جو پہلے بھی نظر سے گزرچکا تھا کہ ایک شخص دریا کے کنارے پہ کھڑا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک ریچھ پانی میں ڈوبتا ہو غوطے کھاتا ہوا ڈوب مرنے سے خود کو بچانےکی کوشش کرتا آ رہا تھا جونہی کنارے کے نزدیک آیا تو اس شخص کو اس پہ رحم آیا تو اس شخص نے ریچھ کو بچانے کے لیے اپنا بازو پانی میں ریچھ کی طرف کیا تو ریچھ اس پر جھپٹ پڑا تو شخص نے اپنا بازو پیچھے کر لیا تو وہ ڈوبتا ہوا تھوڑا سا آگے چلا گیا پھر دوبارہ کنارے کے قریب آیا تو اس شخص نے دوبارہ اس کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا لیکن ریچھ نے دوبارہ اس کے ہاتھ پر حملہ کر دیا پھر ریچھ تھوڑا ڈوبتا ڈوبتا آگے گیا اور پھرذرا کنارے کے قریب آیا تو پھر اس شخص نے اس کو بچانے کے لیے ہاتھ آگے کیا تو پھر اس نے اس کے بازو پر جھپٹ کر حملہ کر دیا تو وہاں کنارے پر ایک چرواہا کھڑا یہ سب دیکھ ر ھا تھاجس نے اس شخص کو پکار کر کہا کہ کیوں بار بار اس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہو اور وہ بار بار جھپٹ کر تم پر حملہ کر رہا ہے تو اس شخص نے کہا کہ جو ریچھ کا کام ہے وہ کر رہا ہے جو انسان کا کام ہے وہ میں کر رہا ہوں۔اور یہ بھی انسانی کام ہے ۔لہذا انسان کو انسانیت ہر حال میں نہیں چھوڑنی چاہیے ۔انسان اس دنیا میں صرف جسم لے کر نہیں آتا، وہ اپنے ساتھ ایک فطرت بھی لاتا ہے—ایک ایسا باطن، جو اس کے رویّوں، لفظوں اور فیصلوں میں جھلکتا ہے۔ کچھ لوگ نرم مزاج ہوتے ہیں، کچھ درگزر کرنے والے، کچھ بے لوث اور کچھ بے حد حساسہوتے ہیں ۔ یہی فطرت دراصل انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب دنیا اپنی سختیوں، بے حسیوں اور تلخیوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے، تو کیا ہمیں بھی اپنی فطرت بدل لینی چاہیے؟یہ ایک بڑا کڑا امتحان ہے ۔یہ سوال صرف اخلاقیات کا ہی نہیں بلکہ زندگی کے توازن کا بھی ہے ۔دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی فطرت ضرور قائم رکھیں مگر اپنی حدود بھی طے ضرور کرلیں ۔
اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ بھلائی کا جواب برائی سے ملتا ہے، خلوص کا صلہ بے قدری بنتا ہے، اور سچائی کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایسے میں دل چاہتا ہے کہ ہم بھی ویسے ہی ہو جائیں جیسے لوگ ہیں—سخت، بے پروا اور حساب لینے والے۔ مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان اپنی اصل ہار جاتا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اپنی فطرت بدل لینادراصل دوسروں کی برائی کو جیتنے دینا ہے۔ اگر ہم اپنی اچھائی صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ سامنے والا اچھا نہیں، تو ہم نے اپنی نیکی کو دوسروں کے رویّوں کا محتاج بنا دیا۔ حالانکہ نیکی کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ حالات کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ کردار کی پہچان ہوتی ہے۔غور کریں کہ بکریاں ہمیشہ سوکھا گھانس کھا کر بھی میٹھا دودھ دیتی ہیں جبکہ سانپ ہمیشہ میٹھا دودھ پی کر بھی ڈس لیتا ہے کیونکہ یہ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے مگر ہمیں بھروسہ ہمیشہ نسل دیکھ کر ہی کرنا چاہیے ۔اگر کوئی اپنی فطرت نہیں بدلتا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بھی اپنی فطرت بدل لیں یہ تو گویا اپنی بھلائی چھوڑ دینا دراصل دوسرۓ کے رویے کی سزا خود کو دینا ہوتا ہے ۔
مگر یہاں ایک اہم نکتہ بھی نظر انداز نہیں ہونا چاہیےکہ اچھا ہونا ہرگز یہ نہیں کہ انسان خود کو ہر ظلم کے لیے پیش کر دے۔ درگزر کرنا عظمت ہے، مگر اپنے اوپر ظلم کو برداشت کرنا دانائی نہیں۔ فطرت کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی عزتِ نفس کو نظر انداز کر دیں۔ زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی کو برقرار رکھنے کے لیے حکمت بھی ضروری ہے۔ دریا اپنی روانی نہیں چھوڑتامگر جب اس کے سامنے چٹان آتی ہے تو وہ راستہ بدل لیتا ہے یعنی فطرت نہ بدلو راستہ بدل لو —اپنی نیکی برقار رکھنی چاہیے مگر طریقہ بدل لینا چاہیے اپنی اصل کھوئے بغیر۔ اسی طرح انسان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی فطرت کی روشنی تو قائم رکھے، مگر اپنے رویّوں میں سمجھداری پیدا کرے۔یعنی روشنی اور حفاظت کا توازن رکھے آپکے چراغ کی روشنی بھی پھیلے اور حفاظت کا توازن اور دائرہ بھی قائم رہے یعنی ایسے طریقے سے اپنی روشنی پھیلائیں کہ آپکی حدود بھی برقرار رہیں ۔ نیکی چھوڑنی نہیں مگر ناسمجھی اور غیر دانشمندی سے کرنی بھی نہیں چاہیے ۔کچھ مواقع پر خاموشی بہتر جواب ہوتی ہے، کچھ جگہوں پر فاصلہ اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے، اور بعض اوقات “نہ” کہنا بھی ایک بڑی نیکی بن جاتا ہے۔ کیونکہ اگر آپ اپنی حدیں قائم نہیں کریں گے تو لوگ آپ کی نرمی کو اپنا حق سمجھنے لگیں گے۔دل کا اچھا ہونا نعمت خداوندی ہے مگر دل کا محفوظ رہنا بھی ایک ذمہ داری ہے جسے حکمت کے ساتھ جینا کہتے ہیں ۔
اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان نرم دل رہےمگر کمزور نہ بنے۔وہ درگزر تو ضرور کرے، مگر اپنی خودداری نہ کھوئے؛ وہ بھلا ئی کرتا رہے، مگر بے وقوف نہ بنے۔ آپ بھلے بنیں مگر سادہ لوح نہ بنیں ،آپ احسان کریں مگر اپنی عزت نفس کو قربان نہ کریں ،آپ درگزر کریں مگر ظلم کو عادت نہ بننے دیں یہ دنیا ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہے گی، نہ لوگ بدلیں گے، نہ ان کے رویّے۔ مگر اگر آپ اپنی فطرت کی حفاظت کر گئے، تو آپ نے سب سے بڑی جیت حاصل کر لی ہے ۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں فطرت اللہ کی دی ہوئی امانت ہے، اور امانت میں خیانت انسان کو اپنے ہی سامنے چھوٹا کر دیتی ہے۔اپنی فطرت کی حفاظت کریں اور ہمت نہ ہاریں دھوپ کتنی بھی تیز کیوں نہ ہو سمندر کبھی سوکھا نہیں کرتے ۔اس لیے فطرت اور خودی کا یہ سفر یونہی جاری رکھیں ۔ہمارے ایک دوست ڈاکٹر ابراہیم خان اکثر کہتے ہیں کہ مطمین زندگی کامیاب زندگی سے بہت بہتر ہوتی ہے کیونکہ کامیابی دنیا کو نظر آتی ہے جبکہ اطمینان ہم خود دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں ۔آئیں اپنی فطرت کو خود محسوس کریں اور خوش ہوں۔کہتے ہیں کہ زندگی بہتر ہوتی ہے جب آپ خوش ہوتے ہیں لیکن زندگی بہترین ہو جاتی ہے جب آپ کی وجہ سے دوسرۓ خوش ہوتے ہیں ۔






