#کالم

"غربت” حکمرانوں کی پالیسی بن چکی ہے۔۔۔۔!!!!

WhatsApp Image 2025 12 24 at 01.29.32

پیٹرول مہنگا نہیں ہوا…
اس ملک میں جینا مہنگا ہو گیا ہے۔
سانس لینا مہنگا ہو گیا ہے۔
روٹی پکانا مہنگا ہو گیا ہے۔
اور اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے غربت صرف ایک کیفیت نہیں رہی بلکہ حکمرانوں کی پالیسی بن چکی ہے۔
ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔
ایک بار پھر عوام پر مہنگائی کا پہاڑ گرا دیا گیا۔
ایک بار پھر حکمرانوں نے ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر چند اعداد و شمار پڑھ دیے، چند معاشی مجبوریوں کا رونا رو دیا، عالمی منڈی کا حوالہ دے دیا، اور سمجھ لیا کہ شاید قوم خاموشی سے سب کچھ برداشت کر لے گی۔
مگر سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
کیا اس ملک کا غریب انسان صرف اسی لیے پیدا ہوا ہے کہ ہر بحران، ہر ناکامی، ہر معاشی بدانتظامی اور ہر حکومتی نااہلی کا بوجھ اسی کے کندھوں پر لادا جاتا رہے؟
کیا اس ملک میں اقتدار کا مطلب صرف مراعات، پروٹوکول، سرکاری گاڑیاں، مفت پیٹرول اور شاہانہ اخراجات ہیں، جبکہ قربانی صرف عوام نے دینی ہے؟
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ محض چند روپے بڑھنے کا نام نہیں ہوتا۔
یہ دراصل پورے معاشی نظام میں زہر گھولنے کے مترادف ہوتا ہے۔
کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ معیشت کی سانس ہے۔
یہ کھیتوں میں چلنے والے ٹریکٹروں میں جلتا ہے۔
یہ فصلیں کاٹنے والی مشینوں میں جلتا ہے۔
یہ شہر شہر سامان پہنچانے والے ٹرکوں میں جلتا ہے۔
یہ مسافر بسوں، ویگنوں، رکشوں اور مزدور کی موٹر سائیکل میں جلتا ہے۔
اور جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کی آگ صرف پمپ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ہر گھر کے چولہے تک پہنچتی ہے۔
سبزی مہنگی ہو جاتی ہے۔
آٹا مہنگا ہو جاتا ہے۔
دودھ، دہی، چینی، دالیں، گوشت، دوائیاں، سکول وین، ٹرانسپورٹ، ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہونے لگتی ہے۔
ایک عام آدمی جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے بلوں کے ہاتھوں پریشان تھا، اب پیٹرولیم بم کے بعد مکمل طور پر ٹوٹ جاتا ہے۔
ذرا اس مزدور کا تصور کیجیے جو صبح سویرے موٹر سائیکل پر مزدوری کی تلاش میں نکلتا ہے۔
وہ اب پیٹرول ڈلوانے سے پہلے جیب نہیں، اپنی قسمت دیکھتا ہے۔
اسے معلوم نہیں ہوتا کہ آج کی دیہاڑی بچوں کی روٹی پر خرچ ہوگی یا موٹر سائیکل کے ٹینک پر۔
یہ وہ اذیت ہے جسے حکمران شاید کبھی سمجھ ہی نہیں سکتے، کیونکہ انہیں کبھی پیٹرول بھرانے کے بعد جیب خالی ہونے کا دکھ محسوس نہیں ہوا۔
اور کسان؟
اس ملک کا کسان تو پہلے ہی زندہ لاش بن چکا ہے۔
کھاد مہنگی، بجلی مہنگی، پانی مہنگا، بیج مہنگے، زرعی ادویات مہنگی…
اوپر سے ڈیزل بھی مہنگا کر دیا گیا۔
اب ٹریکٹر چلانا بھی جرم بن گیا ہے۔
فصل اگانا بھی خسارے کا سودا بن چکا ہے۔
وہ کسان جو پوری قوم کا پیٹ بھرتا ہے، آج خود اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی پوری نہیں کر پا رہا۔
حکمران کہتے ہیں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو گیا۔
مگر کوئی ان سے پوچھے کہ جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہوتا ہے تو اس کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچتا؟
کیوں ہر بار نقصان عوام کا اور فائدہ اشرافیہ کا مقدر بنتا ہے؟
کیوں ہر حکومت آتے ہی عوام کو قربانی کا درس دیتی ہے مگر خود اپنے اخراجات کم نہیں کرتی؟
کیا کبھی کسی وزیر نے اپنی دس دس گاڑیوں کا قافلہ کم کیا؟
کیا کبھی کسی سرکاری افسر نے مفت پیٹرول لینے سے انکار کیا؟
کیا کبھی کسی حکمران نے پروٹوکول کی فوج ظفر موج ختم کی؟
کیا کبھی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں نے یہ سوچا کہ ایک غریب آدمی کے گھر میں آج چولہا جلے گا بھی یا نہیں؟
نہیں۔
کیونکہ اس ملک میں قانون بھی غریب کے لیے ہے اور قربانی بھی غریب کے لیے۔
یہ وہ ریاست بن چکی ہے جہاں امیر کے لیے ہر بحران ایک کاروبار بن جاتا ہے، جبکہ غریب کے لیے ہر دن ایک قیامت بن کر طلوع ہوتا ہے۔
حکمران شاید معاشی اشاریوں میں بہتری دکھا دیں، اسٹاک مارکیٹ کے گراف اوپر لے جائیں، آئی ایم ایف کو مطمئن کر دیں، مگر کیا کبھی انہوں نے عوام کے چہروں کو دیکھا ہے؟
کیا کبھی انہوں نے بازاروں میں گھوم کر سفید پوش طبقے کی بے بسی محسوس کی ہے؟
یہ وہ سفید پوش طبقہ ہے جو نہ بھیک مانگ سکتا ہے اور نہ ہی اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔
وہ اپنے بچوں کی فیس، بجلی کے بل، گھر کے کرائے، دوائیوں اور راشن کے درمیان ایسا پِس چکا ہے کہ اب اس کے پاس جینے کی خواہش بھی مدھم پڑنے لگی ہے۔
گھروں میں خاموشیاں بڑھ رہی ہیں۔
باپ اپنے بچوں کی فرمائشوں سے نظریں چرا رہا ہے۔
ماں سالن کم اور پانی زیادہ ڈال رہی ہے۔
نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے دربدر پھر رہے ہیں۔
اور حکمران اب بھی کہتے ہیں کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے۔
آخر کون سی معیشت بہتر ہو رہی ہے؟
وہ معیشت جس میں عوام کی قوت خرید ختم ہو جائے؟
وہ معیشت جس میں غریب کا بچہ دودھ کو ترسے؟
وہ معیشت جس میں مریض علاج سے پہلے خرچوں سے ڈرنے لگے؟
وہ معیشت جس میں لوگ خودکشیوں پر مجبور ہو جائیں؟
یہ اعداد و شمار کی نہیں، انسانوں کی جنگ ہے۔
یہ بجٹ کی نہیں، بھوک کی جنگ ہے۔
یہ عالمی منڈی کی نہیں، حکومتی ترجیحات کی جنگ ہے۔
اگر واقعی حکومت عوامی ہے تو اسے صرف آئی ایم ایف کی شرائط نہیں، عوام کی آہیں بھی سننا ہوں گی۔
کیونکہ جب قوم پر مسلسل مہنگائی مسلط کی جاتی ہے تو پھر صرف جیبیں خالی نہیں ہوتیں، دل بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔
اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
امید مر جاتی ہے۔
اور جب کسی قوم سے امید چھین لی جائے تو پھر معاشرے صرف معاشی نہیں، اخلاقی طور پر بھی تباہ ہونے لگتے ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے عوام کو صرف ایک عدد سمجھ لیا ہے۔
انہیں لگتا ہے کہ قوم ہر بار خاموش

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے