#کالم

چراغِ خدمت، قافلۂ انسانیتپیر سید لختِ حسنین شاہ

Untitled 1

تحریر: حسبِ منشا منشا قاضی

دنیا میں کچھ نام محض نام نہیں رہتے، وہ اپنے اندر ایک پوری تہذیب، ایک اخلاقی روایت اور ایک زندہ ضمیر لیئے ہوئے ہوتے ہیں۔ پیر سید لختِ حسنین شاہ بھی انہی درخشاں ہستیوں میں سے ہیں ، جن کی شخصیت کو صرف عہدے، خطابات یا تنظیمی وسعت کے پیمانوں میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ وہ ایک ایسے انسان ہیں جن کے ہاتھ میں خدمت کا دیا، دل میں محبت کی حرارت، اور نگاہ میں انسانیت کا آفاقی تصور روشن ہے۔ ان کی زندگی گویا اس سچ کی تفسیر ہے کہ اصل عظمت اقتدار میں نہیں، درد بانٹنے میں ہے؛ اصل بزرگی نام کے ہجوم میں نہیں، انسانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے میں ہے۔
پیر سید لختِ حسنین شاہ بین الاقوامی سطح پر ایک معروف انسان دوست، مخیر، اور فلاحی رہنما ہیں۔ مسلم ہینڈز کے بانی اور چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے 1990 میں جس کارواں کی بنیاد رکھی، وہ آج محض ایک تنظیم نہیں بلکہ خدمتِ خلق کی ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ ناٹنگھم، برطانیہ میں قائم اس ادارے نے وقت کے ساتھ اپنی موجودگی کو چالیس سے زائد ممالک تک پھیلا دیا ہے، اور اس وسعت کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس کے مرکز میں انسان ہے، اور انسانیت ہے۔ یہ وہی فکر ہے جو خدمت کو خیرات سے بلند کر کے ایک اخلاقی مشن میں بدل دیتی ہے۔
ان کی قیادت کی اصل پہچان انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ وژن کی وسعت ہے۔ وہ صرف امداد فراہم کرنے والے نہیں، بلکہ محرومی کے اسباب سے نبردآزما ایک فکری معمار ہیں۔ ان کی توجہ غربت کے خاتمے، پائیدار آمدن کے ذرائع، تعلیم کے فروغ، اور معاشرتی بحالی پر مرکوز رہی ہے۔ گویا وہ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ بھوک کا علاج صرف روٹی نہیں، روزگار بھی ہے؛ بیماری کا علاج صرف دوا نہیں، پانی بھی ہے؛ اور جہالت کا علاج صرف کتاب نہیں، ایک روشن شعور بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اندازِ خدمت وقتی جذبے کے بجائے دیرپا تعمیر کی صورت اختیار کرتا ہے۔
2020 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا دراصل اس امر کا اعتراف تھا کہ ان کی خدمات کسی ایک ملک، ایک خطے یا ایک قوم تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسانی دکھ کے عالمی جغرافیئے میں ایک روشن علامت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اعزاز ان کے لیئے منزل نہیں بلکہ ایک نئی ذمہ داری کی ابتدا تھا، کیونکہ ایسے لوگ اعزاز پا کر رکتے نہیں، اور زیادہ خاموشی سے زیادہ گہرا کام کرتے ہیں۔

2026 میں بھی ان کی فلاحی سرگرمیوں کی روشنی دور تک پھیلتی نظر آتی ہے۔ بارہنگ، آزاد کشمیر میں الکبریٰ ٹریننگ اینڈ پروڈکشن سینٹر کا افتتاح اس بات کی علامت ہے کہ وہ خواتین کو محض امداد دینے پر اکتفا نہیں کرتے، بلکہ انہیں ہنر، وقار اور خود انحصاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ مرکز دراصل ایک نئے سماجی شعور کا استعارہ ہے، جہاں سلائی، ڈریس میکنگ اور تربیت کے ذریعے عورت کو محض صارف نہیں بلکہ معیشت کی فعال شریک بنایا جا رہا ہے۔ یہ خدمت کی وہ شکل ہے جو ہاتھوں میں روزی، دل میں اعتماد، اور زندگی میں نئی سمت پیدا کرتی ہے۔
اسی طرح کوٹلہ جنگیہ میں واٹر فلٹریشن پلانٹ کا قیام بھی ان کے وژن کی سادگی اور گہرائی دونوں کا آئینہ ہے۔ صاف پانی بظاہر ایک بنیادی ضرورت ہے، مگر درحقیقت یہ صحت، وقار اور زندگی کی بقا کا نام ہے۔ جب کوئی رہنما پانی جیسی نعمت کو محفوظ بناتا ہے تو وہ صرف پیاس نہیں بجھاتا، وہ آنے والی نسلوں کے حقِ حیات کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی نگاہ میں ترقی صرف عمارتیں کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسانی زندگی کے سب سے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کا نام ہے۔
پیر سید لختِ حسنین شاہ کی شخصیت میں ایک اور نمایاں پہلو ان کی عوامی وابستگی اور زمینی روابط ہیں۔ وہ محض دفتری دنیا کے آدمی نہیں، بلکہ میدانِ عمل کے مسافر ہیں۔ ناٹنگھم کے مرکزی دفتر سے لے کر پاکستان اور دیگر ممالک کے پراجیکٹ سائٹس تک ان کی آمد و رفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدمت کو فائلوں میں قید نہیں ہونے دیتے۔ وہ خود دیکھتے ہیں، خود سمجھتے ہیں، اور خود شریکِ سفر ہوتے ہیں۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک انسان کو منتظِم سے بڑھا کر ایک رہبر بنا دیتی ہے۔
ان کی خدمات میں تعلیم اور کمیونٹی ہیلتھ کا پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم وہ چراغ ہے جو صرف فرد کو نہیں، پورے معاشرے کو منور کرتا ہے۔ جو لوگ تعلیم کے دروازے کھولتے ہیں، وہ دراصل مستقبل کے دریچے وا کرتے ہیں۔ پیر سید لختِ حسنین شاہ کی کاوشیں اس اعتبار سے ایک فکری صدقۂ جاریہ ہیں، کہ وہ جسموں کی پرورش کے ساتھ اذہان کی تعمیر بھی چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایک صحت مند معاشرہ وہ ہے جہاں بچہ اسکول جا سکے، ماں محفوظ پانی پی سکے، عورت باعزت روزگار پا سکے، اور غریب شخص خود کو بے سہارا نہ سمجھے۔
آئندہ کے منصوبوں میں انٹرنیشنل نارووال پیس ڈائیلاگ 2026 کی تیاری بھی ان کی اسی وسیع النظر فکر کا تسلسل ہے۔ امن، مکالمہ، اور باہمی احترام وہ بنیادیں ہیں جن پر مضبوط معاشرے کھڑے ہوتے ہیں۔ آج کی دنیا میں جب اختلاف اکثر تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے، ایسے میں امن کے مکالمے کا اہتمام کرنا محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک تہذیبی ضرورت ہے۔ یہ اس ایمان کی نشانی ہے کہ انسان کو انسان سے جوڑنا، نفرتوں کے بیچ پُل بنانا، اور باہمی فہم کو فروغ دینا ہی حقیقی قیادت ہے۔
ان کی شخصیت میں ایک صوفیانہ وقار بھی جھلکتا ہے۔ نام کے ساتھ “پیر” کا تقدس محض نسبی یا روایتی معنوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کی خدمت میں ایک روحانی روشنی بھی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل یہ یاد دلاتا ہے کہ روحانیت کا اصل امتحان ذکر و وِرد میں نہیں، خلقِ خدا کے کام آنے میں ہے۔ جو دل

چراغِ خدمت، قافلۂ انسانیتپیر سید لختِ حسنین شاہ

14/05/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے