اسرائیلی کارگزاری کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش
آج کا اداریہ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نےکہاہے کہ پاکستان اسرائیل اور امریکی اتحاد میں رخنہ اندازی کررہا ہے۔انہوں نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ منصوبہ بندی سے منظم انداز میں سوشل میڈیا کو متاثر کرنے کی کوشش کی جارہی ہےاور اِس حکمت عملی کا مقصد امریکی عوام میں اسرائیل کی حمایت کو کمزور کرنا اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔‘
نتن یاہو نے کہا کہ جب اس پیغام کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اِس کا ایڈریس ’پاکستان کی کسی بیسمنٹ‘ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔امریکی ٹی وی چینل میں نتن یاہو سے سوال کیا گیاکہ امریکہ میں نوجوان صارفین سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز سے متاثر ہو رہے ہیں اور نتیجتاً، بہت سے نوجوان سخت مؤقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے بعض اوقات انھیں ’غیر مہذب‘ یا ’وحشیانہ‘ جیسے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں، خصوصاً غزہ اور لبنان کے حوالے سے۔میزبان نے استفسار کیا کہ اس پس منظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آیا اسرائیل سوشل میڈیا کے اس میدان میں اپنی پوزیشن کمزور کر رہا ہے، اور کیا رائے عامہ کی اس جنگ میں اسے واقعی چیلنجز کا سامنا ہےاس سوال کا براہ راست جواب دینے کی بجائےنتن یاہو نے چند تمہیدی جملوں پر ہی اکتفا کیا۔
نتن یاہو نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بننے والا تاثر ان تمام (اسرائیلی) کوششوں کو پش پشت ڈال دیتا ہے۔’دوسرے الفاظ میں ہم نے امریکہ میں اسرائیل کے لیے حمایت میں گراوٹ دیکھی ہے، یہ رجحان (گراوٹ) تقریباً اسی رفتار سے بڑھا ہے جس رفتار سے سوشل میڈیا کا پھیلاؤ ہوا ہے۔ بہت سے ممالک ہیں جنھوں نے بوٹ فارمز اور جعلی ائی ڈیزکے ذریعے امریکی عوام میں اسرائیل کے لیے ہمدردی کو کمزور کرنے اور امریکہ، اسرائیل اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی گئی، کیونکہ پاکستانی یہ سمجھتے ہیں یہ اُن کے مفاد میں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کو نہایت چالاکی سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔اس کی مثال دیتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ ’آپ اس نوعیت کا ٹیکسٹ میسج سُنتے ہیں کہ میں ٹیکساس (امریکہ) سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ اسرائیل کو سپورٹ کیا، لیکن اب میں اُن (اسرائیل) کے اقدامات سے سخت ناخوش ہوں اور اسرائیل کے خلاف ہو رہا ہوں۔نتن یاہو کہتے ہیں کہ جب اس پیغام کی حقیقت جانچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کا ایڈریس پاکستان کی کسی بیسمنٹ (تہہ خانہ) کا نکلتا ہے۔نتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمیں شدید نقصان پہنچاتی ہے’جب ہم سات محاذوں پر میں روایتی فوجی جنگ لڑ رہے تھے، تو ہم آٹھویں محاذ پر مکمل طور پر غیر محفوظ تھے، جو میڈیا کی جنگ تھی، دراصل سوشل میڈیا کی جنگ۔’اور آپ جانتے ہیں، ہم مصروف رہے ہیں۔ اس لیے ہم یہ نہیں دیکھ سکے کہ جب وہ ہم پر ایف 35 کے برابر حملے کر رہے ہیں، تو ہم ان کا مقابلہ پولش گھڑ سواروں کی فوج کے ساتھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’تو میرا خیال ہے کہ ہمیں اس محاذ پر بھی شامل ہونا ہو گا، سینسرشپ کے ذریعے نہیں بلکہ ایسے طریقے تلاش کر کے جو جمہوریتوں کے لیے قابلِ اطلاق ہوں۔ ہم وہ نہیں کر سکتے جو یہ آمرانہ حکومتیں کرتی ہیں، لیکن ایسے طریقے تلاش کرنا ہوں گے جن سے سوشل میڈیا پر نوجوان امریکیوں کے دل و دماغ کی جنگ لڑی جا سکے۔ اور یہ ہمیں کرنا ہو گا۔ بالکل۔ ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے۔ میں اسے تسلیم کرتا ہوں اور ہمیں اپنے معاملات درست کرنے ہوں گے۔اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو بھی ایسا کر رہے ہیں ’وہ صرف اسرائیل پر حملہ نہیں کر رہے، وہ امریکہ پر حملہ کر رہے ہیں، وہ امریکہ کے اندر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نہیں، بلکہ امریکیوں اور امریکیوں کے درمیان بھی۔‘اس موقع پر پروگرام کے میزبان نے وضاحت کے لیے پوچھا کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم غیر ملکی حکومتوں کے تحت کام کرنے والے بوٹ فارمز کی بات کر رہے ہیں؟ نتن یاہو کا جواب تھا: ’بہت بڑے (بوٹ فارمز)، وہ آپ کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی نصاب تک پہنچ رہے ہیں، ہر طرح کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔یہاں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی مثال اس ملزم کی سی تھی
جو کسی عدالتی کٹہرے میں کھڑا ہع۔گھبرایا ہوا اور بوکھلاہٹ کا شکار۔پاکستان اور سوشل مییڈیا کا خوف نمایاں تھا یہ دراصل انکی اپنی کارگزاری کا نتیجہ ہے۔گزشتہ چند سالوں میں غزہ میں جو انہوں کیا اور اسکے ردعمل میں جو ان پر لعن طعن ہورہی ہے اسکا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش ہے






