#کالم

پانچ مرلے کے مکان میں تین بھائی

Untitled 1odjt9

تحریر: خالد غورغشتی

سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک تصویر وائرل ہے؛ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین بھائی دیواروں کے پیچھے کھڑے اپنی بے بسی کا گویا جشن منا رہے ہیں۔ یہ محض ایک گھر یا گاؤں کی کہانی نہیں، بلکہ ایسے معاشرے کی تصویر ہے، جہاں شادی کے بعد بھائیوں میں جدائی معمول بن چکی ہے۔

اگر پانچ مرلے کی جگہ کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے تو آخر ہر بھائی کے حصے میں کیا آتا ہے، سوائے تنگی، گھٹن اور حسرت کے؟ افسوس کہ ہم جتنے تنگ مزاج ہوتے جا رہے ہیں، اتنے ہی بے قدر بھی ہوتے جا رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں آج بھی اکثر گھروں کا نقشہ کچھ یوں بنتا ہے کہ پانچ مرلے کی جگہ تین بھائیوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، پھر ان کے تین چار بچے ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس تنگ جگہ میں ان کی اولاد کیسے زندگی گزارے؟ کیا وہ اس تنگ ماحول میں ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے یا ایک دوسرے کی زندگیاں مزید دشوار بنا دیں گے؟ اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ تنگ گھروں اور تنگ گلیوں کے باعث ہم کہیں کے نہیں رہے۔ شادی کے بعد معمولی جھگڑوں کی وجہ سے کرائے کے گھروں میں منتقل ہونے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ اپنے ذاتی گھر سے کرائے کے گھر میں جانا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، جو بسا اوقات نسلوں کے عدم استحکام کا سبب بن جاتا ہے۔

اگر اللہ نے آپ کو استطاعت دی ہے تو کشادہ مکانات میں رہنے کی عادت اپنائیے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کے حالات اس قدر مشکل ہیں کہ ایک دیہاڑی دار شخص کے لیے آدھا مرلہ زمین خریدنا بھی ممکن نہیں، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم جدوجہد ہی چھوڑ دیں۔ ہمیں اپنی نسلوں کی بقا کے لیے حتیٰ الامکان کشادہ جگہوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔

ضروری نہیں کہ ہم گنجان آبادی میں دو مرلے کے مکان میں خود بھی گھٹ گھٹ کر زندگی گزاریں اور اپنی نسلوں کو بھی اسی ماحول میں پروان چڑھنے پر مجبور کریں۔

جس طرح پرندے اور جانور کُھلے ماحول میں سکون اور فرحت محسوس کرتے ہیں، اسی طرح انسان بھی کُھلی فضا میں زیادہ خوش اور مطمئن رہتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔ آج بلند و بالا عمارتوں کے باوجود، مناسب ہوا اور روشنی نہ ہونے کے باعث وہ کسی حد تک غاروں کا منظر پیش کرتی ہیں۔ ان عمارتوں تک پہنچنے کے لیے ہمیں اکثر تنگ گلیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ افسوس کہ ہماری توجہ صرف مکانات کی تعمیر اور مادی ضروریات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

جب بھی معاشرتی مسائل پر بات کی جاتی ہے تو فوراً یہ کہا جاتا ہے کہ "اپنے گھر کی فکر کرو، دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرو۔” مگر سوال یہ ہے کہ جب ہماری گلیاں، ہمارے دکھ سکھ اور ہمارے مسائل سب مشترک ہیں، تو ہم صرف اپنی ذات تک کیسے محدود رہ سکتے ہیں؟

آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم جہاں تک ممکن ہو، کشادہ ماحول میں آباد ہوں، گلیوں کو وسیع کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں۔

جہاں تک میری سمجھ کا تعلق ہے، ہم اکثر دیکھا دیکھی کے عادی ہو چکے ہیں۔ جو کوئی جیسا کرتا ہے، ہم بھی ویسا ہی کرنے لگتے ہیں۔ اگر کسی نے نالی گلی کے کنارے بنائی ہے تو ہم اسے بیچ میں بنانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ اگر کسی نے ایک کنال میں کروڑوں کی کوٹھی تعمیر کی ہے تو ہم بھی حسد میں مبتلا ہو کر دس مرلے کے مکان میں اسی طرز کی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن نہ پہلے شخص نے ماحول، ہوا اور گلی کی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچا ہوتا ہے اور نہ ہی دوسرا اس پہلو پر غور کرنے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے