محمد ساجد۔۔۔بحثیت بچوں کے ادیب
روبرو۔۔۔۔محمد نوید مرزا
محمد ساجد معروف ادیب ،نقاد،کالم نگار ،محقق اور شاعر کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔اس کے علاؤہ وہ پنجابی رسالے بول پنجابی کے مدیر اعلیٰ بھی ہیں۔حال ہی میں اس رسالے کا بشیر رحمانی نمبر بھی شائع ہوا ہے۔والد محترم کے حوالے سے ان کی عقیدت و احترام نے مجھ خاصا حیران کیا۔اب وہ اس رسالے کا بابا پرویز طفیل محترم نمبر اور حضرت واصف علی واصف نمبر شائع کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ساجد صاحب بزرگوں سے عقیدت رکھتے ہیں اور اپنے سینئر کا احترام کرتے ہیں۔ساجد صاحب سے میرا باقاعدہ تعارف چند برس قبل معروف روحانی شخصیت جناب بابا طفیل پرویز محترم کے سالانہ عرس کے موقع پر ہوا۔جہاں محمدساجد(بانی و چیئرمین،مجلس بابا طفیل پرویز محترم رح) اپنے دوستوں اور ٹیم کے ہمراہ عرس پر آنے والے شعراء و ادباء کی خدمت میں سر گرم عمل نظر آئے۔اس وقت ان کے پیر کی ہڈی فریکچر تھی مگر جذبہء خدمات سے سرشار یہ نوجوان کئی گھنٹے پروگرام میں کھڑا رہا اور اسے کامیابی سے ہم کنار کیا۔
محمد ساجد مختلف تنظیموں کی سربراہی میں کئی علمی و ادبی و روحانی محافل کا انعقاد کرتے ہیں،جن میں بیاد حضرت بابا طفیل پرویز محترم اور بیاد حضرت واصف علی واصف انتہائی اہم ہیں۔آئیندہ سالوں میں وہ بشیر رحمانی ایوارڈ میں بھی میرے معاون ہوں گے۔
محمد ساجد کو اپنے علاقے کاہنہ سے بڑی محبت ہے ،اسی لئے وہ بطور محقق ایک کتاب تاریخ کاہنہ مرتب کر چکے ہیں۔یہی نہیں بل کہ بحثیت شاعر وہ کاہنہ اور اس کے مضافات پر کئی شاندار نظمیں بھی لکھ چکے ہیں۔تاریخ کاہنہ پر ان کی کتاب پر پنجابی کے نامور شاعر جناب فقیر اثر انصاری نے نظم لکھ کر انھیں نہ صرف بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے بل کہ ان کی صلاحیتوں کا مکمل طور پر اعتراف بھی کیا ہے۔
محمد ساجد کی تخلیقی و تحقیقی کاوشوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ مجھے مختلف جہتوں میں ہمہ وقت اپنا حصہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔وہ ایک ادیب،شاعر،محقق،نقاد،ناول نگار،افسانہ نگار اور کالم نگار کے طور پر تو پہلے ہی معروف تھے،تاہم اب انھوں نے بچوں کے ادب کی طرف توجہ کرکے نئی نسل کی رہنمائی کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں،جو ان کی ایک اضافی خوبی ہے۔ہم سب لکھنے والے بچوں کے ادب پر بے توجہی کے مجرم ہیں،ایسے میں ساجد بھائی نے بچوں کے لئے خوبصورت کہانیاں لکھ کر اس کار خیر میں بھی حصہ ڈال دیا ہے۔
بچوں کے ادب کے حوالے سے ان کی کہانیوں کی کتاب۔۔۔۔کاہنہ بوائے کی کہانیاں ۔۔کے نام سے شہرت حاصل کر چکی ہیں۔انھوں نے کتاب کا نام اپنی بیٹی زینب بنت محمد ساجد کے نام کیا ہے وہ لکھتے ہیں،،یہ کتاب میری بیٹی زینب زہرا بنت محمد ساجد کے نام ہے جو خود ایک خوبصورت کہانی ہے،،
یہ کہانیاں یقینی طور پر بچوں کے ادب میں خوبصورت اضافہ ہیں۔کتاب کے حوالے سے وہ خود بھی لکھتے ہیں،،میری کتاب بچوں کے لئے ایک قیمتی تحفہ ہے،جو نہ صرف ان کے تخیل کو جلا بخشے گی بلکہ انھیں زندگی کے اہم اسباق بھی سکھائے گی ۔ادب اطفال کے حوالے سے یہ کہانیاں فرضی کردار اور واقعات پر مبنی ہیں۔جن میں معاشرتی اقدار ،اخلاقی درس ،اچھائی اور انسانیت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے،،
اس مختصر کتاب میں کل دس کہانیاں ہیں اور ہر کہانی کا عنوان ہی بچے کے لئے ایک بھرپور رہنمائی کرتا نظر آتا ہے۔بچوں کے اخلاق سنوارنے میں یہ کہانیاں اپنا بھرپور کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
اس کتاب کے علاؤہ ان کی پنجابی زبان میں لکھی گئی بچوں کی کہانیاں بھی زیر اشاعت ہیں جو بال ادب میں ایک عمدہ اضافہ ہے۔
ان دو کتابوں کے علاؤہ ان کی بچوں کے لئے اردو کہانیوں کی کتاب بھی زیر طبع ہے۔اقبال کے اشعار کی روشنی میں لکھی گئیں ان کہانیوں میں حضرت اقبال کے نئی نسل کو شاہین صفت قرار دینے اور انھیں جذبہء خودی سے روشناس کرنے کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ان کہانیوں میں لب پہ آتی ہے دعا،اجالا،چمن کی زینت،علم کی شمع،حمایت اور نیک جو راہ ہو خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔اقبال کی فکر کو اجاگر کرتی ہوئی ان کہانیوں کو بڑی عمدگی سے لکھا گیا ہے۔جس کے لئے ساجد صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔بقول رضوان حمید بلوچ،،اردو اور پنجابی کی معاصر فضا میں اگر کسی شخص نے خاموشی اور وقار کے ساتھ اپنے علم،فکر اور تخلیقی جوہر کے رنگ سے الگ پہچان قائم کی ہے تو وہ محمد ساجد ہیں،،بچوں کے ادب کے علاؤہ بھی محمد ساجد نے ادب کی کئی جہتوں میں کارنامے انجام دئیے ہیں۔
محمد ساجد کی اب تک بیس کتب شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں۔وہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں یکساں مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ لکھنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔یوں تو ان کی ساری کتب ہی سرمایہ ءادب ہیں،تاہم ان کی کتب 9/11 کے اردو افسانے پر اثرات ،،شہر دل میں آوارگی،لاہور میں محبت ،ادائے محترم قلندر،بابا طفیل پرویز محترم ،تاریخ کاہنہ، اورکنہیا مثل اور حاکمان پنجاب ان کی علمی و ادبی پہچان ہیں۔حضرت واصف اور حضرت بابا طفیل محترم سے ان کی روحانی وابستگی نے انھیں روحانیت کی دنیا میں بھی سرخرو کر رکھا ہے اور وہ روحانی معاملات سے بھی گہرا شغف رکھتے ہیں ۔اللہ کے نیک بندوں پر کتب لکھنا اور محافل کا انعقاد اس بات کی واضح نشانی ہے۔بقول بابا احمد بھٹی ،،محمد ساجد صاحب پر مغز میٹھی گفتگو اور اجلے کردار کے مالک ہیں ۔ولیوں کے مزارات پر حاضری دینے والے ہیں ۔پیروں ،فقیروں اور درویشوں کی صحبت میں بیٹھنے والے ہیں ان کی آنکھوں کی چمک ہی ان کے عزم صمیم کی غمازی کرتی ہے،،۔محمد ساجد بطور مدیر ایک پنجابی جریدہ بول پنجابی بھی نکالتے ہیں ۔اس کے علاؤہ مجلہ ساہت نے محمد ساجد کے فن و شخصیت پر ایک نمبر بھی شائع کر رکھا ہے جس میں ان کے دوستوں ،شاعروں اور ادبیوں نے انھیں بھر پور خراج تحسین پیش کیا ہے۔
کاہنہ کی علمی و ادبی شخصیات سے فرزند کاہنہ کا خطاب پانے والے محمد ساجد بحثیت انسان بھی ایک نرم اور خوبصورت دل رکھتے ہیں،لوگوں کے






