روتی کتابیں سسکتی لائبریریاں
تحریر: عاصم نواز خان طاہرخیلی (غازی/ہری پور)
تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں قدیم روایات دم توڑ رہی ہیں اور جدت کا سیلاب ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے، میں خود کو اس نسل کا نمائندہ محسوس کرتا ہوں جس نے علم کو چھو کر، محسوس کر کے اور اس کی خوشبو کے ساتھ حاصل کیا۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے کتابوں کے اوراق کی مہک سے اپنی روح کو معطر کیا، مگر آج اسی کتاب کے زوال پر نوحہ کناں ہیں۔ ایک دور تھا جب علم کا منبع صرف کتاب تھی اور اسے حاصل کرنا ایک تشنہ لب کی پانی کی تلاش جیسا تھا۔ وہ کتاب کا ملنا، اسے آنکھوں سے لگانا اور جِلد بندی کر کے اسے سینت سینت کر رکھنا، دراصل کتاب دوستی نہیں بلکہ عشقِ لاحاصل کی جستجو تھی۔ اس دور کے جمالیاتی استعارے بھی کتنے دلکش تھے کہ محبوب کے سراپے کو "سرو” اور چہرے کو "کتابی” کہا جاتا، اس کی آنکھوں میں غزل تلاش کی جاتی اور گفتگو مصرع محسوس ہوتی تھی۔ بقول شاعر:
کتابوں سے کسی کے رخسار کی باتیں کریں گے
ہم اب دنیا سے کٹ کر پیار کی باتیں کریں گے
گویا ہماری پوری زندگی کی لغت کتابوں سے مستعار لی گئی تھی۔ یہی کتب بینی تھی جو انسان کے اندر حلیمی، بردباری اور تہذیب کی شائستگی پیدا کرتی۔ مجھے شروع سے ہی تاریخی ناولوں کا شوق تھا، نسیم حجازی کے شاہکاروں نے مجھ میں مطالعے کی وہ تڑپ پیدا کی کہ بات سفر ناموں، آپ بیتیوں اور عالمی کلاسیک تک جا پہنچی۔ میں کتابوں میں لکھی باتوں کو ایسے یاد رکھتا جیسے "علم ایک شکار ہے اور قاری اسے قید کرنے والا۔” لکھاری معاشرے کا حساس ترین فرد ہوتا ہے اور چونکہ قاری اپنے پسندیدہ لکھاری کے زیرِ اثر ہوتا ہے، اس لیے اہل قلم کا فرض ہے کہ وہ قاری کو مثبت قدروں کی طرف مائل کریں۔ یہاں وہ حکایت یاد آتی ہے کہ ایک بادشاہ نے جب ایک دانا سے پوچھا کہ "سب سے طاقتور کون ہے؟” تو اس نے جواب دیا: "وہ قلم، جو حق لکھتا ہے، کیونکہ وہ تلواروں سے زیادہ گہری کاٹ رکھتا ہے۔”
مطالعہ محض حروف شناسی نہیں بلکہ ایک عبادت ہے۔ ایک سچے قاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ یکسوئی کے ساتھ علم کی اس شمع کو روشن کرے۔ مطالعے کا حق تب ادا ہوتا ہے جب ہاتھ میں ایک قلم اور ڈائری ہو تاکہ فکر کے موتیوں کو ضبطِ تحریر میں لایا جا سکے۔ کسی دانا کا قول ہے:
"جو علم لکھا نہیں گیا، وہ ضائع ہو گیا۔” لہٰذا جو پڑھا جائے، اسے دوسروں تک پہنچانا ہی علم کی زکوٰۃ ہے۔ مصنف قوم کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے اور کتاب انسانیت کی بہترین رفیق ہے، مگر اس رفاقت کو معتبر بنانا لکھاری کا کام ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اپنے سحر انگیز بیان سے قاری کی ذہنی آبیاری کرے۔
افسوس کہ عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا کی بے ہنگم لہر نے کتاب اور قاری کے درمیان ایک خلیج حائل کر دی ہے۔ موبائل کی بے روح اسکرینوں نے کاغذ کے لمس اور قلم کی جنبش کو چھین لیا ہے۔ "کی پیڈ” کی کھٹکھٹاہٹ میں وہ موسیقی کہاں جو قلم کے قرطاس پر چلنے سے پیدا ہوتی تھی؟ آج کی نسل معلومات کے انبار میں تو دبی ہے، مگر حکمت سے محروم ہے۔ کتابیں آج اپنی کسمپرسی پر رورہی ہیں، لائبریریاں قاری مو ترستی ہیں اور قلم اپنی بے حرمتی پر نوحہ گر ہے۔ یہ ہم سب کا منصبی فریضہ ہے کہ اپنی نسلِ نو کو اس ‘ڈیجیٹل سراب’ سے نکال کر دوبارہ لائبریریوں کی طرف راغب کریں۔ انہیں بتائیں کہ اسکرین کی روشنی آنکھوں کو خیرہ تو کر سکتی ہے، مگر بصیرت صرف کتاب کے مطالعے سے ہی ملتی ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نسل ‘بد دعاِ کتاب’ کا شکار ہو کر مکمل طور پر بے حس ہو جائے، ہمیں ان کے ہاتھوں میں دوبارہ کاغذ اور قلم تھمانا ہوگا۔






