#اداریہ

امریکہ کا ابنائے ہرمز کھلوانے کااعلان ‘ ایران کاسخت ردعمل

Fahad 01

أج کا اداریہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پیر سے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو نکالنے کے لیے عملی اقدام شروع کرے گا جس کے لیے انہوں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے نکالنے کے لیے اس عمل پروجیکٹ فریڈم کا نام دیا ہے اور کہا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ دراصل ایک انسانی ہمدردی کا ہے۔اپنے سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے میں موجود کئی جہازوں پر خوراک اور ضروری اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے جس کے باعث عملے کی صحت اور حفاظت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔امریکی صدر نے کہا  یہ ان ممالک کےجہاز  ہیں جو مشرق وسطیٰ میں حالیہ تنازع میں شامل نہیں، اپنے نمائندوں سے کہاکہ ان ممالک کو بتادیں کہ ان کے پھنسےجہاز اور عملےکو آبنائے ہرمز سےنکالنےکی بہترین کوشش کریں گے، ہرمزسے جہاز کی آزادانہ نقل وحرکت کا مقصد ان کمپنیوں  اور ممالک کو ریلیف دینا ہے جنہوں نےغلط کام نہیں کیا۔
ایران سے متعلق صدر ٹرمپ نے لکھا کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ بہت مثبت بات چیت کررہے ہیں اور ایران سے بات چیت کا یہ عمل سب  کیلئے انتہائی مثبت ثابت ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے ہرمز میں کسی چھیڑچھاڑ کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔
ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نےکہا ہےکہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائےگا۔
امریکی صدر کے بیان پر رد عمل میں ابراہیم عزیزی نے کہاکہ آبنائے ہرمز  اور  خلیج فارس کا انتظام ٹرمپ کے فریب دینے والے بیانات سے نہیں ہوگا،  آبنائے ہرمز  اور  خلیج فارس کے معاملات   میں بیان بازی کی گنجائش نہیںایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے امریکا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی افواج اور طیارہ بردار جہازوں کے قبرستان کے لیے تیار رہے۔محسن رضائی نے امریکا کو دنیا کا واحد بحری قزاق قرار دیا جو طیارہ بردار جہازوں سے لیس ہے۔
انہوں نے کہا ’قزاقوں کا مقابلہ کرنے کی ہماری صلاحیت، جنگی جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت سے کم نہیں‘محصن رضائی نے اصفہان میں چھوڑے گئے امریکی طیاروں کے ملبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجیوں اوربحری جہازوں کے قبرستان کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہے.
دریں اثناءایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے امریکا کو بھیجے گئے تازہ امن منصوبے کی مزید تفصیلات سامنے آ گئیں۔عرب میڈیا کے مطابق منصوبے میں 30 دن کے اندر جنگ بندی کو مکمل امن میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کیا گیا منصوبہ 3 مراحل پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ اور مستقل امن کا قیام ہے۔منصوبے میں عدم جارحیت کا عہد شامل ہے جس میں اسرائیل کو بھی شامل کرنے کی بات کی گئی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کا امکان ختم کیا جا سکے۔منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکا بندی ختم کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ سمندر سے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام ایران خود کرے گا۔
دوسرے مرحلے میں ایران کو ’زیرو اسٹوریج اصول‘ کے تحت 3.6 فیصد تک یورینیم افزودگی بحال کرنے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔اس کے ساتھ امریکا اور اسرائیل ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملے نہ کرنے جبکہ ایران کی جانب سے بھی حملے نہ کرنے کی شرط شامل ہے۔منصوبے میں ایران کے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنے یا تنصیبات کو تباہ کرنے کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے جبکہ پابندیوں میں نرمی کے تحت منجمد فنڈز کی مرحلہ وار بحالی شامل ہے۔تیسرے مرحلے میں ایران نے عرب ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمے کے آغاز اور پورے مشرق وسطیٰ پر مشتمل ایک مشترکہ سکیورٹی نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے۔

ابنائے ہرمز کی تازہ اپ ڈیٹ کے حوالے سےمتحدہ عرب امارات کی تجویز بھی سامنے أئی ہے۔اماراتی سینئر عہدیدار ریم الہاشمی نے ایران اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے ایک دو ٹوک اور حقیقت پسندانہ موقف اپنایا ہے۔ ایک حالیہ بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ پڑوسی ممالک کے درمیان جغرافیائی تعلق کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور خطے کے استحکام کے لیے مل کر رہنا ہی واحد راستہ ہے۔جغرافیائی حقیقت: ریم الہاشمی کا کہنا ہے کہ "جغرافیہ غالب رہتا ہے… ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا پڑے گا”۔ ان کا اشارہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان دیرینہ ہمسائیگی کی طرف تھا۔أبنائے ہرمز کی اہمیت: انہوں نے سختی سے کہا کہ "آبنائے ہرمز پر کسی کا کنٹرول نہیں ہونا چاہیے”۔ یہ عالمی تجارت کے لیے اہم ترین بحری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل کی رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تجارت کی آزادی: یو اے ای کا موقف ہے کہ بحری راستے بین الاقوامی تجارت کے لیے آزاد ہونے چاہئیں تاکہ عالمی معیشت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
سفارتی حکمتِ عملی: یہ بیان یو اے ای کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور معاشی تعاون بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلیجس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ناممکن جنگ یا خراب ڈیل میں سےکسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران نےامریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے مستقل خاتمےکے لیے جامع تجویزپیش کی ہے، امریکا اس معاملے سے نکلنے کے لیے فیس سیونگ چاہتاہے۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایران نے اس تجویز کے ذریعے معاملہ دوبارہ ٹرمپ کے سامنے رکھ دیا ہے، اور  ایران نے پینٹاگون کو ناکہ بندی سے متعلق ڈیڈلائن دی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ چین، روس اور یورپ کا واشنگٹن کےخلاف لہجہ بدل رہاہے، امریکا کے فیصلے کرنے کی گنجائش محدود ہوگئی ہے۔

امریکہ کا ابنائے ہرمز کھلوانے کااعلان ‘ ایران کاسخت ردعمل

ملی نغمہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے