ایران امریکہ مذاکرات لیکن ڈیڈ لاک ۔۔ !! ( قسط اول)
تحریر وتجزیہ پیر مشتاق رضوی
"بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا”۔۔۔. . . گذشتہ ہفتہ اسلام آباد میں ایران امریکہ کے مابین پہلے مرحلہ کے مذاکرات بے نتیجہ رہے لیکن اگلے روز ٹرمپ نے عالمی میڈیا کو اسلام آباد میں رکنے کا کہا کہ اسلام آباد میں "بڑا کجھ ہونے والا ہے "پاکستان کی مؤثر سفارتکاری سے امن کی آشا کی امید بر آئی اور عالمی جنگ کے بادل چھٹنے لگے تھے دوسری بیٹھک کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہونے والی تھی ایران امریکہ کے مابین مذاکرات کا دوسرا دور 25 اپریل کو اسلام آباد میں متوقع تھا امریکی وفد بھی "اسٹینڈ بائی”تھے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے اور اعلان کر دیا کہ "امریکہ سے کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہو گی”*۔ بات صرف پاکستانی حکام کے ذریعے ہو گا اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے مذاکرات منسوخ کر دیے جبکہ امریکہ چاہتا تھا کہ وٹکوف اور کشنز عراقچی سے آمنے سامنے ملیں۔ ایران نے کہا صرف "پیغام رسانی” ہو گی۔ ٹرمپ نے اسے "وقت ضائع” سمجھا۔ وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری نے کہا وفد "ایرانیوں کو سننے” گیا تھا، مگر ایران تیار ہی نہیں تھا۔ ٹرمپ نے جنگ بندی کی من پسند شرائط رکھی تھیں
ٹرمپ نے دباؤ کی حکمت عملی جاری رکھی ٹرمپ نے خود کہا: "The blockade scares them even more than the bombing” یعنی وہ سمجھتا ہے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی سے ایران زیادہ دباؤ میں ہے۔ مذاکرات روک کر وہ ایران کو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ پہلے جھکے۔
اس سلسلے امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نہیں ہٹائی۔ٹرمپ نے کہا کوئی "جلدی نہیں”۔ مطلب خفیہ رابطے عمان/قطر سے چلتے رہیں گے۔مذاکرات اس لیے ٹوٹے کیونکہ *ایران براہ راست ملنے کو تیار نہیں تھا، اور امریکہ "خالی میٹنگ” نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ٹرمپ سمجھتا ہے کہ دباؤ بڑھا کر وہ بہتر ڈیل لے گا۔ پاکستان کا کردار ثالث کا رہا، اس لیے شکریہ ادا کیا۔پاکستان نے امریکہ اور ایران سے دو طرفہ موثر سفارتکاری کر کے جنگ بندی کو برقرار رکھا ہوا ہےدنیا پر اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں پاکستان ایران کا ہمسایہ بھی ہے اور امریکہ کا اہم پارٹنر بھی۔ گذشتہ سال 2024ء میں ایران،اسرائیل کشیدگی اور 26-2025ء میں خطے میں تناؤ کے دوران پاکستان نے "بیک چینل” سفارتکاری کی جس کے نتیجہ میں تیل کی قیمتوں اور عالمی معیشت میں قدرے استحکام پیدا ہوا ایران پر امریکی جارحیت ہی آبنائے ہرمز بند ہونا کا سبب بنی اب امریکہ بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری نہ کرتے ہوۓ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے ۔ دنیا کا 20% تیل یہاں سے گزرتا ہے۔ جنگ بندی سے تیل 90 سے 105 ڈالر فی بیرل کی رینج میں رہا، بصورت دیگر 150 ڈالر فی بیرل سے بھی زائد ہو جاتا۔پاکستان، بھارت، چین، یورپ جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک۔ مہنگائی کنٹرول میں رہی، غریب ملکوں میں خوراک، ٹرانسپورٹ اور توانائی کا معاشی بحران ٹلا ہے
اگر ایران امریکہ براہ راست لڑتے تو اسرائیل، حزب اللہ، حوثی، خلیجی ملک سب لپیٹ میں آ جاتے۔ یہ تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی تھی
دنیا میں تقریبا’ 2 کروڑ سے زیادہ پناہ گزینوں کا نیا بحران رُک گیا۔ یورپ میں 2015ء جیسا مہاجر بحران دوبارہ نہیں آیا۔ عالمی سپلائی چین متاثر نہیں ہوئی۔
گلوبل ساؤتھ” کی سفارتکاری کو کریڈٹ ملا، امریکہ،روس،چین ہی ثالث بنتے تھے۔ پاکستان، قطر، عمان جیسے ملکوں نے دکھایا کہ علاقائی طاقتیں بھی جنگ رکوا سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ سے باہر "منصفانہ ثالثی” کا نیا ماڈل بنا۔ چھوٹے ملکوں کا اعتماد بڑھا کہ وہ بھی بڑی طاقتوں کے بیچ پل بن سکتے ہیں۔
ایران-امریکہ جنگ ہوتی تو داعش-خراسان، ٹی تی پی ، دھشت گردبلوچ سرمچاروں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا۔ ایران،پاکستان،افغان سہ فریقی بارڈر پر عدم استحکام آ جاتا پاکستان اور ایران نے بارڈر تعاون بڑھایا۔ منشیات، اسلحہ سمگلنگ، فرقہ واریت پر مشترکہ کریک ڈاؤن ہوا۔ یورپ تک ہیروئن کی سپلائی چین متاثر ہوئی۔جنگ کی صورت میں ایران فوری طور پر این پی ٹی سے نکل کر بم بنا سکتا ہے سعودی عرب، ترکی، مصر بھی دوڑ میں لگ جاتے۔جنگ بندی نے IAEA کو ایران سے مذاکرات کا وقت دیا۔ مشرق وسطیٰ "جوہری ہتھیاروں سے پاک” رہنے کا ممکنہ مواقع حاصل ہوۓ ہیں
لیکن یہ واضح رہے کہ جنگ بندی "نازک” ہے۔ ایک غلط اقدام یا ایک غلط فہمی سے سب ختم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنر چاہیے، اور ایران سے گیس پائپ لائن اور بارڈر امن چاہیے۔ توازن رکھنا مسلسل سفارتکاری کا تقاضا کرتا ہے
پاکستان کی کوشش سے دنیا کو مہنگا تیل، نئی پناہ گزین لہر، اور جوہری ہتھیاروں کی دوڑ سے عارضی بچت ملی ” کرائسز منیجمنٹ سے مسئلہ مستقل طور پرحل نہیں ہوا، مگر فی الحال ایک آتش فشاں پھٹنے سے بچ گیا ۔امریکہ اران کے مابین مستقل جنگ بندی اور مستقل امن "ناممکن” نہیں، پاکستان جیسے ملک اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کیونکہ دونوں طرف بات کر سکتے ہیں۔ مگر فیصلہ تہران اور واشنگٹن نے کرنا ہے۔
(جاری ہے ۔۔۔۔۔۔)






