وعدوں کی سیاست اور حقیقت کا بوجھ
ایم فاروق انجم بھٹہ
پاکستان کی سیاست میں وعدے کرنا شاید سب سے آسان فن بن چکا ہے، اور ان وعدوں کو نبھانا سب سے مشکل۔ ہر انتخابی موسم میں عوام کے سامنے خوابوں کی ایک ایسی دنیا سجائی جاتی ہے جس میں بجلی مفت ہوتی ہے، روزگار ہر دروازے پر دستک دیتا ہے، اور مہنگائی قصۂ پارینہ بن چکی ہوتی ہے۔ مگر جیسے ہی اقتدار کا ہما کسی کے سر پر بیٹھتا ہے، یہ خواب دھند کی طرح چھٹنے لگتے ہیں اور حقیقت کا سورج اتنی تیزی سے چمکتا ہے کہ عوام کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔
بجلی مفت دینے کے وعدے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے دعوے، مہنگائی کے خاتمے کی یقین دہانیاں—یہ سب کچھ سن کر عوام نے امیدوں کے چراغ جلائے۔ مگر افسوس کہ ان چراغوں میں تیل کم اور دھواں زیادہ نکلا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بجلی ہر ماہ مہنگی ہو رہی ہے، پٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی دکھائی دیتی ہیں، اور مہنگائی کا عفریت عوام کے صبر کا امتحان لے رہا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر وزیراعظم کو عوام سے واقعی لگاؤ ہوتا، اگر انہیں غربت کا ذرا بھی احساس ہوتا، تو کیا وہ پٹرول مہنگا کرنے کی سمری کو بار بار منظور کرتے؟ کیا وہ ایک لمحے کو رک کر یہ نہ سوچتے کہ اس فیصلے کا اثر ایک مزدور کے چولہے پر کیا پڑے گا؟ مگر یہاں معاملہ کچھ اور ہی نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلے عوامی مفاد کے بجائے مافیاز کے حق میں کیے جا رہے ہوں۔
آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنے کے دعوے بھی کچھ کم دلکش نہیں تھے۔ قوم کو یہ باور کرایا گیا کہ ہم خودمختار معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں، کہ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط قبول کر لی گئیں، اور اس کے بدلے عوام کو مہنگائی کے تحفے ملے۔ بجلی مہنگی، گیس مہنگی، پٹرول مہنگا—گویا ہر طرف سے ایک ہی آواز آ رہی ہے: "عوام برداشت کریں!”
یہ بھی ایک دلچسپ تضاد ہے کہ پہلے لوگوں کو سولر کی طرف راغب کیا گیا۔ کہا گیا کہ خود کفالت اختیار کریں، اپنی بجلی خود پیدا کریں، قومی بوجھ کم کریں۔ مگر جیسے ہی عوام نے اس سمت قدم بڑھایا، اس پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا۔ گویا عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آپ جس راستے پر بھی جائیں گے، ہم وہاں ٹیکس کا بورڈ لگا دیں گے۔
ٹیکسوں کی بھرمار ایک الگ داستان ہے۔ زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا بچا ہو جہاں ٹیکس نہ لگایا گیا ہو۔ اشیائے خورد و نوش سے لے کر بنیادی ضروریات تک، ہر چیز پر ٹیکس کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف حکمرانوں کے پروٹوکول پر خرچ ہونے والا پٹرول، ان کے قافلوں کی لمبی قطاریں، اور ان کی شاہانہ زندگی—یہ سب کچھ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ ایک طرف عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، دوسری طرف حکمران خود اس درس پر عمل کرتے نظر نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قول و فعل کا تضاد نہیں؟ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟
اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ اتنے ٹیکس ایک ہی دور میں نافذ کیے گئے ہوں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عوام کو ٹیکس دینے کی ایسی مشق کروائی جا رہی ہے جیسے وہ کوئی قومی کھیل ہو۔ مگر اس کھیل میں جیت کسی کی نہیں، ہار صرف عوام کی ہے۔
وزیراعظم صاحب! اقتدار ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے حکمران آئے اور چلے گئے، مگر ان کے فیصلوں کے اثرات قوموں پر باقی رہے۔ آج آپ کے پاس موقع ہے کہ آپ اپنے وعدوں کو پورا کریں، کہ آپ عوام کا اعتماد بحال کریں، کہ آپ اس فاصلے کو کم کریں جو حکمران اور عوام کے درمیان بڑھتا جا رہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہمارے سامنے ایک مثال ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے دجلہ کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو اس کا حساب مجھ سے لیا جائے گا۔ یہ وہ احساسِ ذمہ داری تھا جو ایک حکمران کو عظیم بناتا ہے۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں غربت کی وجہ سے خودکشیاں ہو رہی ہیں، اگر لوگ بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
یہ کہنا کہ حالات مشکل ہیں، عالمی دباؤ ہے، یا معیشت کمزور ہے—یہ سب اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر کیا اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دینا انصاف ہے؟ کیا حکمرانوں کا کوئی فرض نہیں کہ وہ خود بھی قربانی دیں؟ کہ وہ اپنے اخراجات کم کریں؟ کہ وہ ایک مثال قائم کریں؟
پٹرول کی قیمتوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اگر آپ اسے سستا نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے اس سطح پر تو لے آئیں جہاں سے یہ بڑھنا شروع ہوا تھا۔ عوام کو یہ احساس تو ہو کہ ان کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، کہ ان کی مشکلات کو سمجھا جا رہا ہے۔
طنز کی بات یہ ہے کہ ہر نیا فیصلہ عوام کے لیے "بہتری” کے نام پر کیا جاتا ہے، مگر اس بہتری کا اثر کبھی عوام تک نہیں پہنچتا۔ گویا یہ بہتری کسی اور ہی دنیا کے لیے ہے، جہاں نہ مہنگائی ہے، نہ بے روزگاری، نہ غربت۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام کی آہ بہت بڑی چیز ہوتی ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو خاموش رہ کر بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اس آہ سے بچیں، کہ وہ اپنے وعدوں کو یاد رکھیں، کہ وہ اس ذمہ داری کو محسوس کریں جو ان کے کندھوں پر ہے۔
کیونکہ اقتدار کا اصل حسن خدمت میں ہے، نہ کہ پروٹوکول میں۔ اور تاریخ ہمیشہ انہی کو یاد رکھتی ہے جو عوام






