#کالم

ایل نینو: بدلتا ہوا موسم، بدلتی دنیا اور 2026 کی پیش گوئیاں

Untitled 3

تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا کے موسمی نظام میں کچھ ایسے خاموش مگر طاقتور مظاہر موجود ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے، مگر ان کے اثرات پوری زمین پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اہم مظہر “ایل نینو” ہے، جس کا نام سنتے ہی ماہرینِ موسمیات کے ذہن میں عالمی درجہ حرارت، بارشوں کے پیٹرن اور موسمی بے ترتیبی کی ایک پوری تصویر ابھر آتی ہے۔ عام قاری کے لیے یہ ایک سائنسی اصطلاح ہو سکتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایل نینو ہماری روزمرہ زندگی، زراعت، معیشت اور حتیٰ کہ سیاست تک کو متاثر کرتا ہے۔
ایل نینو دراصل بحرالکاہل (Pacific Ocean) کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کے غیر معمولی بڑھنے کا نام ہے۔ یہ مظہر ہر دو سے سات سال کے درمیان وقوع پذیر ہوتا ہے اور دنیا کے موسمی نظام کو ایک نئی سمت دے دیتا ہے۔ عام حالات میں بحرالکاہل کے مغربی حصے (آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے قریب) میں گرم پانی جمع ہوتا ہے جبکہ مشرقی حصے (جنوبی امریکہ کے ساحل) پر ٹھنڈا پانی اوپر آتا ہے۔ لیکن جب ایل نینو شروع ہوتا ہے تو یہ توازن بگڑ جاتا ہے، گرم پانی مشرق کی طرف پھیل جاتا ہے اور یوں دنیا بھر کے موسم بدلنے لگتے ہیں۔
ایل نینو کا اثر صرف سمندر تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ فضا، ہواؤں اور بارشوں کے نظام کو بھی تبدیل کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آتے ہیں جبکہ کچھ خطے خشک سالی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جنوبی امریکہ میں بارشیں بڑھ جاتی ہیں، آسٹریلیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں خشک سالی ہو سکتی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں مون سون کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ایل نینو کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، اور زراعت کا دارومدار بارشوں اور درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔ اگر مون سون کمزور پڑ جائے تو فصلیں متاثر ہوتی ہیں، پانی کی قلت پیدا ہوتی ہے اور خوراک کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایل نینو کو صرف ایک موسمی مظہر نہیں بلکہ ایک معاشی چیلنج کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2026 کے حوالے سے ایل نینو کی کیا صورت حال متوقع ہے؟ عالمی موسمیاتی ادارے اور سائنسدان مسلسل سمندری درجہ حرارت اور فضائی نظام کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایل نینو اور لا نینا (La Niña) کے درمیان تیز رفتار تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی (climate change) بھی ہے۔ 2023 اور 2024 میں ایک طاقتور ایل نینو دیکھنے میں آیا جس نے عالمی درجہ حرارت کو ریکارڈ سطح تک پہنچا دیا۔
2026 کے حوالے سے ابتدائی اندازے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا ایک نسبتاً معتدل مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے، جسے “نیوٹرل فیز” کہا جاتا ہے، یعنی نہ مکمل ایل نینو اور نہ ہی مکمل لا نینا۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسمی نظام اب پہلے جیسا مستحکم نہیں رہا، اس لیے کسی بھی وقت غیر متوقع تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ بعض ماڈلز یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ 2026 کے آخر تک دوبارہ ایل نینو کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں، اگرچہ اس کی شدت کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔
پاکستان کے لیے 2026 کی پیش گوئیوں میں سب سے اہم پہلو مون سون کی شدت اور درجہ حرارت ہے۔ اگر ایل نینو کا اثر برقرار رہا تو مون سون کمزور ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بارشیں کم ہوں گی اور پانی کی قلت بڑھ سکتی ہے۔ دوسری طرف، درجہ حرارت میں اضافہ ہیٹ ویوز (heatwaves) کو مزید شدید بنا سکتا ہے، جیسا کہ گزشتہ چند سالوں میں دیکھا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف انسانی صحت متاثر ہوگی بلکہ بجلی کی طلب بھی بڑھ جائے گی، جو پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ایل نینو کے اثرات صرف زراعت یا موسم تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب مختلف خطوں میں پیداوار متاثر ہوتی ہے تو خوراک کی عالمی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ تیل اور توانائی کی طلب میں بھی تبدیلی آتی ہے، جس کا اثر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے کیونکہ وہ پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایل نینو جیسے مظاہر کے سامنے بے بس ہیں؟ اس کا جواب مکمل طور پر نفی میں نہیں ہے۔ اگرچہ ہم اس مظہر کو روک نہیں سکتے، لیکن اس کے اثرات کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی، پانی کے ذخائر کا انتظام، جدید زرعی طریقوں کا استعمال اور موسمیاتی آگاہی بہت ضروری ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ موسمی پیش گوئیوں کو سنجیدگی سے لیں اور بروقت اقدامات کریں۔
تعلیم اور آگاہی بھی اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر کسانوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں تو وہ اپنی فصلوں کی منصوبہ بندی بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی پانی کے استعمال اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی نے ایل نینو جیسے مظاہر کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پہلے یہ ایک قدرتی چکر کے طور پر دیکھا جاتا تھا، مگر اب اس کی شدت اور دورانیہ دونوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کے باعث سمندروں کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس سے ایل نینو کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی سطح پر بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو بطور ایک ذمہ دار ریاست نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینی ہوگی بلکہ عالمی ماحولیاتی کوششوں میں بھی حصہ لینا ہوگا۔ کیونکہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسا مسئلہ ہے جو سرحدوں کا پابند نہیں، اس کے اثرات پوری دنیا پر یکساں طور پر پڑتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے