#کالم

باپ کو تحفہ میں گھڑی نہ دیں  وقت دیں 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر :۔جاویدایازخان

زندگی کی تیز رفتار دوڑ میں ہم سب کسی نہ کسی منزل کے تعاقب میں سرگرداں ہیں۔ کبھی روزگار کی فکر، کبھی بچوں کے مستقبل کی پلاننگ، کبھی معاشرتی مقام کی دوڑ—ان سب میں ہم اتنے الجھ جاتے ہیں کہ وہ ہستیاں، جنہوں نے ہمیں چلنا سکھایا، خود ہمارے انتظار میں ٹھہر سی جاتی ہیں۔ انہی ہستیوں میں سب سے نمایاں نام "باپ” کا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں یہ جملہ ایک سچائی بن کر سامنے آتا ہے: باپ کو تحفہ میں گھڑی نہ دیں، وقت دیں۔آج میں خود شرمندہ ہوتا ہوں کہ شاید میں نے اپنے اباجی ! کو گھڑی سمیت دنیا کی بڑی آسائشیں دی ہوں گی مگر وقت نہ دے سکا ۔ گذشتہ روز میری بیوی پرانی گھڑیاں نکال رہی تھی جو مجھے میرے دوستوں اور بچوں نےمختلف اوقات میں بطور تحفہ دی تھیں جبکہ وہ سب جانتے ہیں کہ میں گھڑی نہیں پہنتا ۔تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک باپ کے لیے گھڑی زیادہ قیمتی ہے یا وقت ؟  

باپ جو بچپن کی دھوپ سے پناہ دینے کے لیے ۔ وہ ہمارے لیے دیوار بھی بنا، سائبان بھی، اور راستہ بھی۔ اس نے اپنی جوانی کے بہترین سال ہمارے خوابوں کی تکمیل میں صرف کر دیے۔ وہ ہمیں وہ کچھ بنانا چاہتا تھا جو وہ خود نہ بن سکا ۔وہ خود شاید اچھے کپڑے نہ پہن سکا، مگر ہمیں بہترین لباس دیا۔ وہ خود شاید آرام نہ کر سکا، مگر ہماری راحت کا ہر ممکن انتظام کیا۔ مگر جب وقت آتا ہے کہ ہم اس کے احسانات کا کچھ بدلہ چکا سکیں، تو ہم اکثر "مصروفیت” کا سہارا لے کر اس سے دور ہو جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مہنگے تحفے، قیمتی گھڑیاں، یا بڑے بڑے سرپرائزز ہی محبت کا اظہار ہوتے ہیں۔ یقیناً یہ چیزیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں، مگر باپ کے لیے ان سب سے بڑھ کر ایک چیز اور بھی ہے یعنی اولاد کا ساتھ۔ وہ چند لمحے جو ہم اس کے ساتھ گزاریں، وہ چند باتیں جو ہم اس سے کریں، وہ چند مسکراہٹیں جو ہم اس کے چہرے پر لے آئیں—یہی اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ باپ کی محبت اکثر خاموش ہوتی ہے۔ وہ ماں کی طرح اظہار نہیں کرتا، نہ ہی ہر وقت اپنے جذبات کو الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی محبت کو ذمہ داریوں میں ڈھال دیتا ہے۔ صبح سویرے گھر سے نکلنا، رات گئے تھکا ہارا واپس آنا، اور پھر بھی چہرے پر مسکراہٹ رکھنا—یہ سب اس کی محبت کے انوکھے انداز ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم اس خاموش محبت کو سمجھ نہیں پاتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے ہیں۔ وہ باپ جو کبھی ہمارے لیے مضبوط ستون تھا، آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتا ہے۔ اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ آ جاتی ہے، آنکھوں کی روشنی مدھم ہو جاتی ہے، اور آواز میں وہ گھن گرج باقی نہیں رہتی۔ مگر اس کے دل میں اولاد کے لیے محبت ویسی ہی رہتی ہے—بے لوث، بے مثال اور لازوال۔ اور یہی وقت ہوتا ہے جب  ایک بیوی کو بھی خاوند کے بوڑھے خرانٹے اور بچوں کو رات بھر کی کھانسی برداشت نہیں ہوتی ۔ ایسے میں اسے کسی قیمتی گھڑی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسے ضرورت ہوتی ہے اس بات کی کہ اس کا بیٹا یا بیٹی اس کے پاس بیٹھے، اس سے بات کرے، اس کی پرانی یادیں اور باتیں سنے، اس کے تجربات سے سیکھے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی خاموشی کو سمجھے، اس کی تنہائی کو محسوس کرے، اور اس کے ساتھ کچھ وقت گزارے۔ ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ "بعد میں وقت دیں گے”۔ ہم سوچتے ہیں کہ ابھی مصروف ہیں، کل فارغ ہو کر باپ کے ساتھ بیٹھیں گے، اس سے باتیں کریں گے، اس کے ساتھ چائے پئیں گے۔ مگر زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہ "کل” کبھی نہیں آتا۔ ایک دن اچانک احساس ہوتا ہے کہ اب وہ باپ ہمارے درمیان نہیں رہا، اور ہمارے پاس صرف پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ اس وقت ہمیں وہ تمام لمحات یاد آتے ہیں جب ہم اس کے پاس بیٹھ سکتے تھے، مگر نہیں بیٹھے۔ جب وہ ہم سے بات کرنا چاہتا تھا، مگر ہم نے مصروفیت کا بہانہ بنا لیا۔ جب وہ ہماری توجہ چاہتا تھا، مگر ہم نے اسے نظرانداز کر دیا۔ تب ہمیں سمجھ آتا ہے کہ ہم نے کیا کھو دیا۔یہی خلش میں آج بھی محسوس کرتا ہوں ۔یہ نہیں کہ میں نے اباجی کو وقت نہیں دیا بلکہ یہ دکھ ہے کہ اتنا وقت نہیں دیا جو ان کا حق بنتا تھا ۔ 

باپ کو وقت دینا دراصل اپنی جڑوں سے جڑے رہنا ہوتا ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ہمیں ہماری پہچان دیتا ہے، ہماری بنیاد مضبوط کرتا ہے۔ جب ہم اپنے باپ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، تو ہم نہ صرف اسے خوشی دیتے ہیں بلکہ خود بھی ایک عجیب سی روحانی تسکین محسوس کرتے ہیں۔ یہ وقت بہت مہنگا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے نہ کسی بڑی رقم کی ضرورت ہے، نہ کسی خاص موقع کی۔ بس روزمرہ کی زندگی میں سے چند لمحے نکالنے ہوتے ہیں۔ ایک کپ چائے ساتھ پینا، کسی دن اس کے ساتھ بیٹھ کر پرانی باتیں کرنا، اس کے ساتھ نماز پڑھنا، یا صرف اس کے پاس خاموش بیٹھ جانا—یہی وہ چھوٹے چھوٹے لمحات ہیں جو اس کے لیے سب سے قیمتی تحفہ بن جاتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں ہر چیز ڈیجیٹل ہو چکی ہے، رشتے بھی اسکرین تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ہر کوئی اپنے موبائل، اپنے کام اور اپنی دنیا میں مگن ہے۔ ایسے میں باپ جیسے رشتے مزید تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شعوری طور پر اپنے رویوں کو بدلیں اور اپنےان قیمتی اور نایاب رشتوں کو وقت دیں۔یہ حقیقت ہے کہ بچوں کا وقت ماں سے زیادہ باپ کے لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ ماں تو پہلے ہی گھر میں موجود رہتی ہے البتہ باپ ایک طویل وقت اولاد کاوقت سنوارنے کے لیے گھر سے باہر گزار کر اپنی طویل مصروفیات اور ذمہ داریوں سےسبکدوش ہو کر تنہا ہو جاتا ہے ۔یہی وقت ہوتا ہے جب اسے ضرورت ہوتی ہے کہ اسکی زندگی بھر کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیاجاۓ اور احساس دلایا جاۓ کہ آج جو کچھ بھی  اولاد کے پاس ہے وہ انہی کی طویل اور ان تھک محنت اور مشقت کا ثمر ہے ۔

یاد رکھیں کہ قیمتی سے قیمتی گھڑی بھی صرف وقت ہی دکھاتی ہے، مگر وقت نہیں دیتی۔ اور باپ کو صرف آپکے وقت کی ہی نہیں بلکہ آپ کے ساتھ کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ آج اگر آپ کے باپ حیات ہیں تو یہ آپ کے لیے اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس نعمت کی قدر کریں۔ اس کے ساتھ وقت گزاریں، اس کی خدمت کریں، اس کی باتوں کو غور سے سنیں۔ کیونکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب آپ کے پاس وقت تو ہوگا، مگر باپ نہیں ہوگا۔ لہٰذا آج ہی فیصلہ کریں کہ آپ اپنے باپ کو سب سے قیمتی تحفہ دیں گے—اپنا وقت، اپنی توجہ، اور اپنی محبت۔ کیونکہ یہی وہ تحفہ ہے جو نہ صرف اس کے چہرے پر مسکراہٹ لائے گا بلکہ آپ کے دل کو بھی ایک دائمی سکون عطا کرے گا۔یہ بات بھی یاد رکھیں کہ کل کو آپ بھی بوڑھے باپ ہونگےجب گھڑی کی ضرورت ختم ہوجاۓ گی  اور شاید وقت کی ضرورت بڑھ جاۓ گی ۔ 

باپ کو تحفہ میں گھڑی نہ دیں  وقت دیں 

28/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے