#کالم

وقت ہے اور کوئی کام نہیں؟

Untitled 14

جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح صبح ایک دوست کا٫٫ میسج ،،ملا زندگی بہت چھوٹی سی ہے اور کوشش کریں کہ کسی کا مان، اعتماد، اعتبار، یقین ٹوٹنے نہ پائے، وقت اچھا ہو کہ برا گزر، ہی جاتا ہے لیکن دی ہوئی تلخیوں کے نقش ہمیشہ باقی رہ جاتے ہیں، اس لیے یقینا ہم سب کو فکر مند رہنا چاہیے لیکن میں سوچنے لگا کہ جن صاحب نے یہ٫٫ پیغام حقیقی،، مجھے بھیجا ہے کیا وہ اس پر کاربند ھیں، دل نے جواب دیا٫٫ففٹی ففٹی،، اور میں اس بات پر راضی ہو گیا کہ چلو یہ اس ٫٫ملاں،، سے تو بہتر ہے جو ہمیں واعظ کرتا ہے لیکن جب اس سے پوچھو، حضرت آ پ ؟ تو جواب ملتا ہے میرا عمل میرے ساتھ لیکن منصب کی ذمہ داری ہے کہ میں تمہیں درست راستہ بتاؤں، میں کوئی فرشتہ نہیں ،عام آ دمی ھوں تمہاری طرح کا اور تمہارے ساتھ ہی اسی معاشرے میں پیدا ہوا، بڑا ہوا، پروان چڑھا، بھلا مجھ میں فرشتوں کی جیسی خصوصیات کہاں سے ملیں گی؟ اللہ رحیم و کریم ہے، معاف کرنے والا ہے، اس خیال کے ساتھ ہی میں ایک نئی سوچ میں مبتلا ہو گیا٫٫ پیٹ فقیر کا کبھی خالی نہیں رہتا اور سبھی خواہشیں بادشاہ کی بھی پوری نہیں ہوتیں،، اس لیے جو میسر ہے اسی میں خوش رہنا سیکھیں ،دنیا بڑی حسین اور زندگی قدرت کا حسین تحفہ لیکن دونوں کبھی بھی انسان کے لیے دائمی نہیں ہو سکتیں، اس لیے ضروری ہے کہ اس حاضر سروس سہولت کا بھرپور انداز میں ہر ممکن فائدہ اٹھایا جائے جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ حضرت انسان ایک حد تک خود مختار ہیں، ان کی بے بسی بھی قدم قدم پر بہت کچھ کرنے اور سب کچھ کرنے نہیں دیتی، اسی لیے شیر خدا داماد رسول حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ٫٫دنیا ایک امتحان گاہ ہے ،ابدی دنیا میں آ سائشیں اور انعامات حاصل کرنے کا،، لہذا یہ رنگین دنیا رنگ ریلیاں منانے کے لیے نہیں ملی بلکہ برائیوں سے محفوظ رہتے ہوئے حق سچ کے راستے پر چل کر کامیابی کی راہ تلاش کرنے کی سیڑھی ہے، جو پا گیا اس کے لیے٫٫ ستے خیراں،، جو بھٹک گیا اس کے لیے خسارہ ہی خسارہ، جس آ دم زادے کو کچھ سمجھانے کی کوشش کریں ،وہ آ پ سے زیادہ سمجھدار ثابت کرنے کی کوشش کرے گا اور جسے آ پ کچھ نہ بتائیں، اس کا شکوہ ہوگا کہ زندگی بڑی مشکل ہے کوئی اسے آ سان کرنے کا طریقہ ہی نہیں سکھاتا حالانکہ معاملہ بالکل برعکس ہے اللہ نے دماغ اور عقل سے سب کچھ سیکھنے سکھانے کے مواقع فراہم کر دیے ہیں ،دنیا اور وقت ہر کسی کو بہت کچھ سکھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن ہماری اکثریت ٫٫جون ایلیا ،،کے اس شعر سے متاثر ہے،
وقت ہے اور کوئی کام نہیں۔۔۔
بس مزہ لے رہا ہوں فرصت کا۔۔۔
جانتے سب ہیں کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، اچھا برا گزر گیا باقی جو بچا ہے وہ بھی گزر ہی جائے گا اور حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ وقت ہے کتنا؟؟؟ پھر بھی سب کے سب فرصت کا مزہ لے رہے ہیں حالانکہ وقت تو آ تا ہی گزرنے کے لیے ہے یہ بات بھی مشہور ہے کہ معاشرے کے خوف سے اپنے فیصلے کبھی نہ بدلیں کیونکہ معاشرہ مشورہ تو دے گا، کھانا نہیں دے گا۔۔۔ مالک نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس کی جستجو اور جدوجہد کی تاکید بھی آ دمی کو انسان بنانے کے لیے موجود ہے، زندگی اور دنیا قدم قدم پر بدلتی اٹکھیلیاں کرتی بہت کچھ سکھانے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے اس کے لیے ذہنی تیاری ضروری ہے زندگی کے کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو جینے نہیں دیتے لیکن کچھ فرض بھی ایسے ہوتے ہیں جو مرنے نہیں دیتے، یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان جب وقت کی مصلحت پسندی میں منافقت کی سیڑھیاں چڑھنا شروع ہو جاتا ہے تو اسے جھوٹ کی عادت ہو جاتی ہے اور جھوٹ ایسا ٫٫گھن یا دیمک،، ہے جو اس کی شخصیت کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ نیک لوگوں کی صحبت سے ہمیشہ بھلائی ملتی ہے کیونکہ جب ہوا پھولوں اور باغوں سے گزرتی ہے تو وہ بھی خوشبودار ہو جاتی ہے پھر بھی اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اکثر لوگ عادتیں نہیں بدلتے، چاہے ان کی زندگی برباد ہی ہو جائے، یہ کہیں ضد اور سستی ہوتی ہے وہ اس بری عادت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے بلکہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور معاشرتی دباؤ کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن جو لوگ حقیقت پسندی میں اپنے آ پ کو بدلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، کامیابی ان کا ہی نصیب بنتا ہے باقی وقت اور زندگی کو کوستے کوستے صرف ٫٫فرصت،، کا مزہ لیتے ہوئے زندگی ہار جاتے ہیں اور اپنے پیاروں کو پچھتاوے کے لیے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، اس لیے اگر وقت ہے اور کوئی کام نہیں ،تو اپنی عقل و صلاحیتوں سے کام ڈھونڈیں ورنہ انسان اور جانورمیں فرق ھی کیا ہے، جانور بھی پہلے پیٹ بھرنے کے لیے تلاش میں نکلتا ہے پھر فرصت کے مزے لیتا ہے، اگر آ پ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے فرصت کے مزے لیتے رہے تو معاف کیجئے گا٫٫ آ پ جانور سے بھی بدتر ہیں،،
مایوسی کو گناہ اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ جینے کی تمنا اور زندگی کی جنگ جیتنے کی راہ کی پہلی رکاوٹ بنتی ہے زندگی میں ہر کسی کے لیے ایسے لمحات ضرور آ تے ہیں جب سب کچھ ختم ہوتا محسوس ہوتا ہے کوئی امید بر نہیں آ تی، بھاگ دوڑ رائیگاں ہو جاتی ہے، ہمت بھی جواب دے دیتی ہے لیکن کامیاب لوگوں کا دعوی ہے کہ ایسا ہوتا ہرگز نہیں، صرف محسوس ہوتا ہے کیونکہ برے ترین حالات میں بھی امید کی ایک چنگاری کامیابی کے لیے اسی طرح اہم ہوتی ہے جیسے بجھی ہوئی آ گ کی ایک چنگاری ذرا سی ہوا کے سہارے سے آ گ بن کر سب کچھ جلا کر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے