امریکی سیاسی و عسکری نفسیات : موجودہ سے جُڑے آئندہ کے امکانات پہلی قسط
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
امریکہ پر قدرت کی سب سے بڑی مہربانی اس کا آئیڈیل محلِ وقوع ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہے ۔ امریکہ خاموشی سے ریڈ انڈینز کی نسل کُشی کرتے ہوئے اقتصادی ترقی کا سفر طے کرتا رہا جبکہ شمال میں کینیڈا اور جنوب میں لاطینی و جنوبی امریکی ممالک بوجوہ ایسی ترقی کرنے میں ناکام رہے ۔بیسویں صدی کی ابتدا تک امریکہ دنیا کی طاقتور ترین معاشی و عسکری قوت کے طور پر ابھر چکا تھا ۔ پھر 1950 سے اس نے اپنے مضبوط ترین حلیف اسرائیل کی مدد سے مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی نقشہ تبدیل کرنا شروع کیا ۔ نصف صدی کے اندر اندر امریکہ اور اسرائیل کی طاقت کا طلسم دنیا کو مرعوب و مغلوب کرتا چلا گیا ۔ اس اتحاد کو سرد جنگ کے دوران امریکہ مخالف اشتراکی ممالک بھی کچھ نہ بگاڑ سکے ۔
تاہم قدرت اور تاریخ کے اپنے قوانین ہوتے ہیں جن کی پیشگوئی بڑے بڑے مبصرین نہیں کر سکتے ۔ چنانچہ 2026 کی ابتدا میں جب ایران نے اس طلسم کو دونوں قوتوں کی تمام تر توقعات کے برعکس توڑنے کی ابتدا کی تو یہ جدید عالمی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ثابت ہوا۔ ایران کے امریکہ سے براہِ راست تصادم کے نزد و دور رس ذیلی اثرات
Spillover effects
صرف خلیج کے عرب خطوں تک نہیں گئے بلکہ پورے یورپ سمیت غیر امریکی مغرب نے اس منظر نامے کو بغور دیکھا اور انھیں اچانک احساس ہوا کہ یہ سب تو
Much ado about nothing
یعنی
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
جیسا معاملہ ہے ۔ عالمی سطح پر سپر پاورز کی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہوتا ہے : وقار کے عنصر کا مجروح ہونا
Damage to prestige
جب 1841 میں برطانوی افواج کو افغانستان میں شکست ہوئی تو برطانوی وقار مجروح ہوا اور اس نے بقول برطانوی مورخین سندھ پر اس لیے قبضہ کیا تاکہ برِ صغیر کے لوگ تاجِ برطانیہ کے خلاف افغانوں جیسی مزاحمت کا سوچنے نہ لگ جائیں ۔ اس قبضے کی بابت مؤرخین کہتے ہیں :
It wa like the act of a bully who’s bitten in the street and takes revenge from his wife at home
پھر جس انگریز کمانڈر کی نگرانی میں یہ حملہ کیا ، اس کے الفاظ معنی خیز بھی ہیں اور یادگار بھی :
If it was a piece of rascality , it was a noble piece of rascality
سو یہی معاملہ صدر ٹرمپ کا ہے ۔ ایرانی مزاحمت نے انھیں بری طرح تلملا دیا ہے اور چین اور روس کی نگرانی میں بننے والے ممکنہ عسکری و معاشی اتحاد کی تلوار اس کے سر پر الگ لٹک رہی ہے کیونکہ عرب ممالک اب سنجیدگی سے کم از کم اپنی امریکہ نواز پالیسی پر غور تو کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور اس بابت ابھی دنیا کو بہت کچھ دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے ۔ ظاہر ہے یہی امکانات پینٹا گان اور دیگر امریکی تھنک ٹینکس کے مدِ نظر ہوں گے ۔ ایسے میں ایران نے اگر لچک دکھائی تو زیادہ سے زیادہ اسے وہی فائدہ ہوگا جو مصر کو کیمپ ڈیوڈ معاہدے سے ہوا ۔ایران کی قومی ، تاریخی ، تہذیبی اور سیاسی روایات کا تقاضا کچھ اور ہے جنھیں مفصّل سمجھنا بے حد ضروری ہے ۔
ذرا سوچیے دوسرے خلیفۂ راشد عمر بن خطاب نے عراق کی فتح کے بعد سلسلۂ کوہِ البرز و زا گرس کی طرف چہرہ کر کے کیوں دعا کی تھی کہ اے اللہ ! جتنا علاقہ سلطنتِ فارس کا ہم فتح کر چکے اس کے اور بقیہ غیر مفتوحہ علاقے کے درمیان آگ کی دیوار کھڑی کر دے ۔ یہ نہایت طویل اور پیچیدہ موضوع ہے جسے اتنی ہی گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جاپان ، ویت نام ، عراق اور افغانستان سے جتنی بھی جنگیں امریکہ نے لڑیں ان میں سے کچھ سرد جنگ سے قبل اور کچھ بعد کے دور کی ہیں لیکن کسی میں بھی پاکستان سمیت مجال ہے کسی ملک نے ایسی ثالثی کی پیشکش / کوشش تو کیا ایسا سوچنے کی جرات بھی کی ہو۔ پاکستان کی اچانک پیدا ہونے والی اہمیت پر میں اپنے گزشتہ کالم میں مفصل لکھ چکا ہوں ۔






