ایران امریکہ تنازع ….. جنگ کے سائے سے مذاکرات تک کا سفر
اے آر طارق
بے تکی باتیں
artariq2018@gmail.com
03024080369
انقلاب ایران کو تقریبا نصف صدی عرصہ بیت چکا ہے مگر اس انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کبھی مکمل طور پر ختم نہ ہو سکی ہے۔یہ محض دو ممالک کے درمیان اختلاف نہیں تھے بلکہ نظریات،مفادات اور عالمی سیاست کی ایک طویل داستان ہے جس میں بداعتمادی، پابندیاں،دھمکیاں،کشیدہ بیانات اور حالیہ ایران امریکہ جنگ شامل ہے۔
اس تمام عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اعلیٰ سطحی مذاکرات ایک خواب کی مانند تھے جن کا حقیقت بننا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ایران امریکہ جنگ میں جو کچھ ہوا، اس نے دنیا کو چونکا دیا۔حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اقوام عالم کو اس میں مداخلت کرنا پڑی اور دنیا بھر میں اسرائیلی و امریکی مظالم کے خلاف فلسطینی،ایرانی،لبنانی حمایت میں نکلتے عوامی جلوسوں اور احتجاج کے سبب امریکہ کو مذاکراتی ٹیبل پر آنا پڑا کیونکہ خطے کی صورتحال کسی طرح بھی ایران کے مقابلے میں امریکی حمایت میں ہرگز نہ تھی۔ ایران کے مقابلے میں امریکہ کو ہر طرف مار پڑ رہی تھی جس کا ثبوت عرب ممالک میں امریکی اڈوں،گیس تنصیبات اور آئل ریفائنریز پر ایران کے حملے تھے۔اس کے علاوہ جو امریکی طیاروں کی تباہی،امریکی بحری بیڑے کی درگت اور چھوٹے بڑے جنگی ساز و سامان پر مشتمل نقصان ہوئے،وہ الگ ایک عبرت ناک کہانی ہے۔اور تو اور اس امریکہ ایران جنگ میں جو حال اس کے اتحادی اسرائیل کا ہوا،شرمندگی و ندامت کی چلتی پھرتی تصویر جیسا ہے کہ ہے کہ تل ابیب سے لے کر حائفہ تک تباہی و بربادی کے ہی ڈیرے تھے کہ اسرائیل کے تباہ حال شہر اس کی اس جنگ میں تباہی کا حال خود ہی زبان حال سے بتا رہے تھے کہ معاملہ کتنا خراب تھا۔اس جنگ میں ایران میں بھی کافی تباہی ہوئی مگر امریکہ کے اتحادی اسرائیل کے حصے میں جو تباہی آئی نہایت خوفناک تھی۔
یہی وجہ تھی کہ امریکہ بہادر کے پاؤں اکھڑنے لگے اور اسے ایران جنگ میں اپنی شکست بالکل سامنے دکھائی دینے لگی تو اس کے پاس اس جنگ سے بھاگنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا اور وہ اس جنگ سے بھاگ بھی چکا تھا کہ پاکستانی ساتھ نے امریکن ہاتھ کو سہارا دیا اور پاکستان نے چند ممالک میں اپنے کچھ پیچیدہ و دیرینہ مسائل کے سلسلے میں حاضری کیا دے ڈالی کہ وہاں سے بھی ایران امریکہ مذاکرات کی بات ہی کروانے کی واضح ہدایات ملی ۔پھر کیا تھا کہ پاکستان تو پہلے ہی اس لمحے کا بڑی بے تابی سے منتظر تھا اور خواہش مند تھا کہ اس سفر میں کہ وہ لمحہ آئے اور وہ اس”مذاق رات” میں کوئی اہم اور خاص کردار ادا کر سکے اور ہر بار کی طرح کی خوش قسمتی کہ دوسروں کی بجائے اس بار بھی یہ اعزاز پاکستان کے حصے میں ہی آیا۔
یوں ایران امریکہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان میں مذاکراتی ٹیبل اغیار کی خواہش اور تھپکی پر امریکی لوریاں سنانے کے لیے سجا دی گئی۔اس اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی عمل میں آپ ایران اور امریکہ سے آئے ہوئے وفود کے استقبال کا اگر بغور جائزہ لیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ پاکستان کا اس مذاکراتی عمل میں معاون کردار کیا تھا اور دلچسپی کا محور کیا اور اس عالمی کانفرنس میں آئے ہوئے مہمانوں کے ساتھ برتاؤ کیسا تھا.آپ جب یہ لمحات اپنی ٹی وی سکرین پر دیکھیں گے تو آپ صاف محسوس کریں گے کہ ہمارا رویہ ایران کی نسبت امریکہ کے ساتھ ہمدردانہ اور زیادہ جھکاؤ والا تھا جسے سب نے محسوس کیا مگر خطے کی نازک صورتحال کے پیش نظر اور پاکستان کی امریکہ اسرائیل پالیسی کے حوالے سے مجبوریوں کو بھانپتے ہوئے نظر انداز کرگئے۔پاکستان میں گزشتہ ہفتے 21 گھنٹے ہونے والے یہ مذاق رات دراصل امریکی تحفظ کے مکمل آئینہ دار تھے۔مذاکرات سے پہلے ہی امریکی انداز، رویے، پھرتیاں،مہارتیں یہ بتا رہی تھی کہ مذاکرات کا رزلٹ کیسا آنے والا ہے۔
راقم الحروف نے اپنے ایک آرٹیکل” امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے” میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امریکہ اس جنگ سے عزت اور احترام کے ساتھ واپس نہیں جائے گا بلکہ ذلیل و خوار ہو کر اس کی واپسی کا راستہ طے ہوگا اور اس مذاکراتی عمل کی ناکامی کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات بتا رہے ہیں کہ امریکہ کبھی بھی اس خطے سے عزت و احترام کے ساتھ نہیں جائے گا۔
پاکستان کو بھی ایران امریکہ مذاکراتی ٹیبل سجاتے ہوئے اس بات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ امریکہ پاکستان کو صرف اور صرف اپنے مفادات اور اغراض و مقاصد کی نظر سے دیکھتا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اسے پاکستان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اس کی تمام تر توجہ،دلچسپیاں اور فکریں بھارت اور اسرائیل کے ساتھ وابستہ ہیں ۔یہاں تک کہ وہ اگر خواب بھی دیکھے تو وہ بھارتی بالادستی اور گریٹر اسرائیل کا دیکھتا ہے جس میں پاکستان لاکھ کوشش کر لے،جیسا مرضی طرز عمل اختیار کر لے،امریکہ کو بھارتی و اسرائیلی حمایت سے کبھی نہیں روک سکتا۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہم اپنی جگہ اسرائیل و امریکہ سے خائف ہیں جبکہ امریکہ و اسرائیل اپنی جگہ پاکستان سے خوفزدہ ہیں مگر وہ کیا چیز ہے جو ان کو حوصلہ دیتی ہے تو وہ چیز ہماری غیرت،خودداری اور حوصلے کی مسلسل نیلامی ہے اور یہی وہ عجب صورتحال ہے کہ دنیا کے یہ ناسور ملک اسرائیل و امریکہ اپنے مفادات و اغراض کے لیے پاکستان میں مسلسل گھسے رہنا چاہتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ اسرائیل و امریکہ جیسے مرضی کوششیں کر لے، یہ کسی صورت بھی نہیں ہو سکتا کہ اسرائیل اور امریکہ کا جادو پاکستان پر سر چڑھ کر بولے۔اس وقت یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسرائیل و امریکہ پاکستان پر سر چڑھ کر بول رہا ہے مگر اس کے پیچھے جو غلامانہ سوچ کی حامل دجالی قوتیں کار فرما ہیں ان کو شکست دینے کے لیے پاکستان کے عوام اور محافظ ابھی زندہ ہیں اور ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ امریکہ و اسرائیل جیسے






