#کالم

ڈاکٹر نثار ترابی کی غزل

1200x630

روبرو۔۔۔۔محمد نوید مرزا

ڈاکٹر نثار ترابی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں،جنھوں نے اردو اور پنجابی شاعری میں حمد ،نعت ،سلام ،غزل ،نظم اور ماہیے کی اصناف میں کامیابی سے طبع آزمائی کی اور نثری ادب میں تنقید و تحقیق کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کے جھنڈے گاڑ دیے اور دنیائے ادب کی بڑی بڑی شخصیات نے ان کی بے پایاں خدمات کا اعتراف بھی کیا۔لیکن ان سب ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ وہ ایک انسان دوست شخصیت بھی ہیں۔دوسروں کے مسائل کو اپنا سمجھنا اور غمی و خوشی ان کے ساتھ جڑے رہنا ایک ایسی خوبی ہے جو آج کی اس مصلحتوں سے بھری دنیا میں نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
حال ہی میں ڈاکٹر صاحب کا نیا شعری مجموعہ،،خوشبو آواز دیتی ہے،،منظر عام پر آیا ہے۔یہ ان کی سو سے زائد غزلوں کا ایک ایسا خوبصورت مجموعہ ہے،جس میں مقدار اور معیار دونوں ایک ساتھ ملتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی غزل جدت پسندی بھی ہے اور روایت کا احترام بھی ہے۔بقول ناصر علی سید،،ان کا شعر روایت کی پاسداری کی ذمہ داری بھی نبھاتا ہے اور جدید حسیات کی روشنی سے بھی مملو ہے،،
اردو غزل پر ان کی تحقیق نے انھیں اس صنف کے اسرار و رموز سے بخوبی واقف کر رکھا ہے۔شاید اسی لئے پروفیسر ڈاکٹر فتح محمد ملک لکھتے ہیں،،ان کے تنقیدی و تحقیقی کارناموں سے ان کے تخلیقی اعجاز کی طرف متوجہ ہوں تو ان کی غزل گوئی کا فیضان دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔جہاں تک دل کی بات ہے ،وہ تو سب جانتے ہیں کہ غزل کی صنف ۔۔۔سخن بازناں گفتن۔۔۔۔کے لئے مخصوص قرار دی گئی ہے۔نثار ترابی نے اس باب میں بھی بڑی دل پذیر سخن آرائی کی ہے۔اس باب میں ان کی تحسین سے بلند و بالا ہو کر ان کے زیر بحث مجموعہ ء غزل میں غم دوراں کی عکاسی کو اپنے قومی مستقبل کے لئے نسخہء شفا سمجھتا ہوں،،
ڈاکٹر نثار ترابی ایک امن پسند شخصیت ہیں۔اس کے علاؤہ انھیں اپنے وطن سے بھی محبت ہے۔پاکستان کا ایک محب وطن شہری ہونے کے ناطے انھوں نے کتاب کا انتساب بھی امن کی خواہش کرتے ہوئے شعری زبان میں کیا ہے۔۔۔وہ کہتے ہیں۔۔۔۔

ہر جانب امن کے رستے ہوں
اور ان پر پھول برستے ہوں

ہر پنچھی ہو آزاد یہاں
ہر شاخ پہ پتے ہنستے ہوں

ہر سانس پہ علم کا سایہ ہو
پھولوں کے ہاتھ میں بستے ہوں

ہو عدل کا راج ہی دنیا میں
ہر سو انصاف کے رستے ہوں
کتاب میں حمد ،نعت اور سلام کے عقیدت بھرے انداز کے بعد غزلوں کا ایک طویل مگر خوشگوار سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ہر غزل میں شاعر کی تخلیقی قوت، ،سلیقہ مندی اور اور روانی واضح نظر آتی ہے ۔یہ مجموعہ یقینی طور پر ڈاکٹر صاحب کی عمر بھر کی شعری ریاضت کا ثمر ہے ۔بقول جناب نذر عابد۔۔۔۔معاصر اردو غزل کے عشاق میں نثار ترابی ایسے غزل گو ہیں جن کے ہاں مصرع تر کی تلاش اور جستجو میں ان کی جگر کاوی جھلکتی ہے شعری اصناف کے نگارستان میں ان کا اولین عشق غزل ہی ہے جو تاحال اپنی تمام تر تابانیوں اور ضوفشانیوں کے ساتھ زندہ اور بیدار ہے،،

مجھے ڈاکٹر صاحب کی غزل میں موضوعات کی رنگا رنگی اور فراوانی دکھائی دیتی ہے ۔کہیں وہ ہجر و وصال کے نغمے چھیڑتے ہوئے محبت کی باتیں کرتے ہیں تو کہیں معاشرے کی دم توڑتی اقدار اور زندگی کے نشیب و فراز پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔کبھی وہ قلبی واردات بیان کرتے ہیں تو کبھی معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقے کی ترجمانی کرتے ہیں۔اس کے علاؤہ ان کی شاعری میں جا بجا صوفیانہ رنگ اور آہنگ نظر آتا ہے۔ان مختلف حوالوں سے کچھ شعر دیکھیں ۔۔۔
کہیں کا بھی نہیں رکھا مجھے تیری محبت نے
جدھر جاؤں تری خوشبو مجھے آواز دیتی ہے

تو نے سونپی ہے محبت کی علم داری جنھیں
وہ ترے پیار کو بازار میں رکھ آئے ہیں

کب یہ سمجھے گا آدمی جانے
آدمی آدمی کا حاصل ہے

کب تلک بارود و گولی کی زباں سمجھو گے تم
اس صدی کے وحشیوں سے پوچھتی ہے فاختہ

اس کے قبضے میں پڑی رہتی ہے گردش ساری
وقت کے پھیر میں تقدیر بدل سکتی ہے

سوچ کی سرحدوں سے آگے ہے
فکر فردا سے ماورا ہے کوئی

نسلیں جن کو کاٹیں گی تاعمر یہاں
کیا معلوم تھا ایسی فصلیں بو دیں گے

،،بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی،،
ستم پسند ستم کے نشاں بدلتے ہیں

یوں ڈاکٹر صاحب نے غزل میں اپنا مزاج اور لہجہ شامل کیا ہے بقول ڈاکٹر پیر زادہ قاسم،،ان کی غزل کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انھوں نے غزل میں اپنےلہجے کو دریافت کر لیا ہے غزل میں اپنے لہجے کو دریافت کرنے کے لئے انھیں بہت محنت کرنا پڑی اور یہ محنت ان کے مصرعے مصرعے سے عیاں ہے جو انھیں غزل کا ایک سچا اور عمدہ شاعر تسلیم کراتی ہے،،
ڈاکٹر صاحب کی جذبوں کی صداقت ان کے شعروں سے عیاں ہیں۔وہ شاعری میں خونی رشتوں کی صداقت پر بھی یقین رکھتے ہیں اور غریب پکھی واسوں اور پرندوں کے دکھ پر بھی چیخ کرتے ہیں ۔آئیے چند شعر دیکھیں۔۔۔

بابا تری جدائی نے پامال کر دیا
پورا نہ ہو گا کوئی خسارا ترے بغیر

کوئی دنیا میں کہہ نہیں سکتا
پیار ممتا کا ڈھلتا سایا ہے

میں اس یقین سے راہ سفر پہ نکلا ہوں
کہ میری ماں کی دعائیں ہیں ہم سفر میرے

حشر تک ساتھ ساتھ رہتی ہیں
بیٹیاں کیسے دھن پرایا ہے

نہ سر پہ چھت ہے نہ اپنی زمین رکھتے ہیں
ہزارہا ہیں،نہیں پانچ سات پکھی واس

ابھی تو کاٹ رہے ہیں زمیں پہ قید حیات
کریں گے پار بھی یہ پل صراط پکھی واس

انہی کی جان میں گویا بسی ہے جان مری
میں دیکھ ہی نہیں سکتا زیاں پرندوں کے

کسی سراب نے ان سے حیات چھینی ہے
پڑے ہیں دشت میں اب تک نشاں پرندوں کے

یوں سمجھیں کہ ڈاکٹر صاحب کی غزل ایک ایسا تصویری البم ہے ،جس میں رنگ رنگ کی شعری تصویریں چمک دمک رہی ہیں۔
میں ۔۔۔خوشبو آواز دیتی ہے ،،کی کامیاب اشاعت پر

ڈاکٹر نثار ترابی کی غزل

مریم نواز کے جنات ۔۔۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے