#اداریہ

امن کے سورج کی پہلی کرن

Fahad 01

أج کا اداریہ

پریس سیکرٹری وائیٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ پاکستانی اس سارے عمل کے دوران بہت زبردست ثالث رہے ہیں۔ ہم اُن کی دوستی اور کاوشوں کو سراہتے ہیں، جن کی وجہ سے ہم معاہدے کے قریب پہنچے، اور وہ اب بھی واحد ثالث ہیں۔‘حالیہ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے اس سوال کے جواب میں مذاکرات کے دوسرے دور کی حتمی تاریخ تو نہیں دی، تاہم اُنھوں نے تصدیق کی کہ ’اگر مذاکرات ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اُسی مقام (اسلام آباد) پر منعقد ہوں گے جہاں پہلے ہوئے تھے۔‘وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے بہت سے ممالک نے اس معاملے پر مدد کی پیشکش کی تھی، تاہم صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ’ہمیں پاکستان کے ذریعے ہی رابطہ کاری کا یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے
ادھر وزیر اعظم شہباز شریف کا سہ ملکی دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے بھی چرچے ہیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہاگیا کہ ’تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
اعلامیے کے مطابق ’وزیراعظم نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے لیے مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔ انھوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔‘
اعلامیے کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو ’پاکستان کی امن کوششوں سے متعلق حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ ایران جنگ بندی ہوئی اور حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا دور ہوا۔ ولی عہد نے امن کے اس عمل میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے تعمیری کردار کو سراہا۔جبکہ فیلڈمارشل عاصم منیر کے دورہ ایران کے حوالے سے أئی ایس پی أر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ مذاکرات کی جاری کوششوں کے سلسلے میں تہران پہنچے اس کے بعد فیلڈ مارشل کی تہران آمد کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر فوجی وردی میں خصوصی طیارے سے اُترتے ہیں اور استقبال کے لیے موجود ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو سلیوٹ کرتے ہیں اور پھر بغل گیر ہوتے ہیں۔اس دورے پر بھی عالمی نظریں جمی رہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ نے اہم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف کی قیادت میں تہران آنے والے وفد کی حکام سے ملاقات کے بعد ایران صورتحال کا جائزہ لے گا اور پھر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔’تسنیم‘ کے مطابق ایرانی ذرائع نے انھیں بتایا کہ لبنان میں جنگ بندی مذاکرات کے اگلے دور کے لیے ایک ’مثبت اشارہ‘ ہو گا جبکہ امریکہ کو بھی ضرورت سے زیادہ مطالبات کے بجائے کسی منطقی فریم ورک پر عمل کرنا چاہیے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران آمد اور شہباز شریف کی سعودی عرب میں ولی عہد محمد سلمان سے ملاقات کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ماہرین ان دوروں کو امریکہ ۔ایران جنگ بندی اور فریقین میں مذاکرات کیلیے پاکستان کی ثالثی کے حوالے انتہائی اھم قرار دے رہے ہیں ۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کے لیے اسلام آباد آنے والے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے صحافی نک رابرٹسن اب بھی اسلام آباد میں ہی موجود ہیں۔

ایکس پر اپنی ویڈیو میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ’سفارتی اوور ڈرائیو‘ پر ہے۔ ملک کے وزیر اعظم اور دیگر وزرا سعودی عرب میں ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران میں ہیں جبکہ اسلام آباد میں ہی ممکنہ طور پر مذاکرات کا دوسرا دور بھی متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس تنازع سے براہ راست متاثر ہو رہا ہے، لہذا اسلام آباد کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لایا جائے، وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں صرف تین روز باقی رہ گئے ہیں۔ پاکستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا اور دنیا اس امیدپر پاکستان کی کوششوں کی کامیابی کی خواھشمند ھے کہ امن کے سورج کی پہلی کرن اسلام اباد سے ھی پھوٹی ہے اور مکمل روشنی بھی یہیں سے ہوگی۔

امن کے سورج کی پہلی کرن

21/04/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے