اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھرچلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
فروری کے آخری دن سے شروع ہونے والی امریکہ -ایران جنگ کے شعلے جو پوری دنیا کو جھلسا نے لگے تھے بالآخر 17 اپریل کو تقریباً بجھتے دکھائی دینے لگے ہیں ۔ مشرقِ وسطیٰ اتفاق سے صدیوں سے لڑائی اور خونریزی کا مرکز رہا ہے ۔ لہٰذا تاریخی اعتبار سے موجودہ جنگ بہت زیادہ غیر متوقع نہ تھی ۔تاہم اس جنگ کا اختتام کئی وجوہ سے غیر معمولی ہے جن میں شاید سب سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے پاکستان کا سیاسی قد اقوامِ عالم کے سامنے بہت زیادہ بڑھا دیا ہے ۔ پاکستان نے عین اس وقت کامیاب سفارتکاری کی جب جنگ اپنے ہولناک ترین مرحلے میں داخل ہونے سے چند گھنٹے کے فاصلے پر تھی ۔
گزشتہ دنوں سرزمین فورم کے زیرِ اہتمام اسی موضوع پر منعقدہ سیمینار میں راقم نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ امریکہ اور دیگر سپر پاورز کے لیے پاکستان کا محض جغرافیائی محلِ وقوع اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ اس ملک کی قیادت بھی ان کے پیشِ نظر رہتی ہے ۔اس دعوے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ مئی 2025 میں پاکستانی سیاسی و عسکری قوتوں نے بھارت کو اس کی روایتی جنگی چھیڑچھاڑ کی جس طرح سزا دی ، اس نے پوری دنیا کو بالعموم اور امریکہ کو بالخصوص چونکا دیا ۔ صدر ٹرمپ نے بروقت مداخلت کر کے نہ صرف ایک اور ممکنہ پاک -بھارت جنگ رکوائی بلکہ بھارتی فضائیہ کو مزید توہین و ہزیمت سے بھی بچالیا ۔ یہ تھا وہ لمحہ جب جناب ٹرمپ نے موجودہ پاکستانی حکومت اور آرمی چیف کی اتحادی قوت کو دل سے تسلیم کیا اور یہیں سے پاکستان کے عالمی وقار میں اضافے کا ایک نیا باب کھلنے لگا ۔ چنانچہ پاکستان نے جب ایران اور امریکہ سے بیک وقت جنگ بندی کی درخواست کی تو دونوں ممالک نے انا کے بت توڑ کر یہ دانش مندانہ درخواست فوری طور پر اسی لیے منظور کی کہ ان کے سامنے پاکستان کی زبردست عسکری قوت اور شاندار سفارت کاری کے عوامل پورے قد کے ساتھ کھڑے تھے ۔
پاکستان کے عالمی سیاسی وقار میں مزید اضافہ یوں ہوا کہ جنگ بندی کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے امریکی نائب صدر کی معیت میں ایک ٹیم فوراً پاکستان پہنچی اور اس کے بعد زبردست سفارتکاری کا ایک اور کامیاب سفر پاکستان کے لیے وسیلۂ ظفر بن گیا ۔ پوری دنیا نے پاکستان کی تعریف کی اور بھارتی میڈیا نے بھرپور شکستہ دلی کے ساتھ پاکستان کی پرامن سفارتی کامیابی کے خلاف بے حد ناکام مہم چلا کر خود کو مزید غیر اہم کر دیا ۔ سترہ مارچ 2026 کو صدر ٹرمپ نے پاکستانی کردار کو نہ صرف بے حد سراہا بلکہ پاکستان کے ممکنہ دورے کا عندیہ بھی دیا ۔ یہاں یہ اہم نکتہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ سرد جنگ کے بعد پاکستان کے ساتھ امریکی رویہ اکثر کچھ خاص گرم جوش نہ تھا بلکہ نائن الیون کے بعد تو قدرے حاکمانہ سا بھی رہا ۔ موجودہ منظرنامے نے گویا پاکستان کے حق میں پانسہ ہی پلٹ دیا ۔ امریکی صدر نے بار بار پاکستان کی تعریف ہی نہیں کی بلکہ اس کا کھلے دل سے شکریہ بھی ادا کیا ۔ اب دعا ہے کہ پاکستان اس علاقائی اور عالمی صورتِ حال میں اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کا سفر یوں جاری رکھے کہ اس کے ثمرات اس کی داخلی سیاسی و معاشی سطح پر بھی واضح طور پر دکھائی دیں تاکہ ہم ہر قسم کے اندرونی انتشار سے وطنِ عزیز کو ہمیشہ کے لیے بچانے کے قابل ہو جائیں ۔






