#کالم

آدھی صدی کی گرہ

new desing gdddwww

ڈاکٹر جواد ریاض
ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ تقریباً نصف صدی سے عالمی سیاست کے سب سے پیچیدہ، حساس اور متنازع موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔ 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہوئے، اور اس کے بعد سے باہمی بداعتمادی، معاشی پابندیاں، جوہری تنازع، خلیجی کشیدگی اور پراکسی جنگوں نے اس تعلق کو مسلسل بحران کی کیفیت میں رکھا۔ ان دہائیوں میں اگرچہ متعدد بار مذاکرات کے دروازے کھلے، مگر ہر بار باہمی اعتماد کی کمی، علاقائی مفادات کے تصادم، اور عالمی طاقتوں کے مسابقتی مفادات نے کسی مستقل مفاہمت کو مشکل بنا ئے رکھے۔ آج جب ایک بار پھر اسلام آباد اور جنیوا ممکنہ امن مذاکرات کے مقامات کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، دنیا ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک فیصلہ پورے خطے تو کیا پوری دنیاکا مستقبل بدل سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی تاریخ دراصل سفارت کاری کے ارتقا کی بہترین تاریخی مثال بھی ہے۔ ابتدا میں یہ سفارت کاری خفیہ، محدود اور بالواسطہ نوعیت کی رہی۔ عمان کے دارالحکومت مسقط نے 2012 سے 2015 کے درمیان دونوں ممالک کے درمیان ایک خاموش سفارتی پل کا کردار ادا کیا۔ اس پس پردہ سفارتکاری نے بالآخر 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی بنیاد رکھی، جسے اس وقت عالمی سفارت کاری کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں قبول کیں جبکہ مغربی دنیا نے پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا۔ مگر بعد میں امریکی پالیسی کی تبدیلی، معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی، اور نئی پابندیوں نے اس پیش رفت کو غیر موثر بنادیا۔
مگر2026 اسلام آباد مذاکرات اس پوری تاریخ سے مختلف رہے۔ اس بار ماحول نسبتاً زیادہ ہیجان خیزہے کیونکہ بات چیت کسی پرامن پس منظر میں نہیں ہوئی۔ بلکہ براہِ راست عسکری کشیدگی، آبنائے ہرمز کے بحران، اور محدود فوجی تصادم کے بعد ہوئی۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھے کہ 1979 کے بعد پہلی بار ایران اور امریکہ کے اعلیٰ سطحی نمائندے براہِ راست ایک میز پر بیٹھے۔ یہ محض سفارتی رابطہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسے تصادم کو روکنے کی کوشش تھی جو پورے مشرق وسطیٰ کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔
اسلام آباد مذاکرات کی سب سے اہم خصوصیت ان کا براہِ راست اور کثیر جہتی ہونا بھی تھا۔ ماضی کے برعکس، جہاں مذاکرات زیادہ تر جوہری پروگرام تک محدود رہتے تھے، اس بار ایجنڈے میں جنگ بندی، علاقائی سلامتی، سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کا تحفظ، توانائی کی رسد، اقتصادی پابندیاں، اور مستقبل کے سیاسی تعلقات سب شامل رہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مذاکرات صرف دو ممالک کے درمیان معاملہ نہیں رہے بلکہ عالمی توانائی منڈی، خلیجی استحکام، اور ایشیائی سفارت کاری کے لیے بھی فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے تھے۔ مذاکرات بے شک کسی دستاویز ی شکل تک نہ پہنچ سکے مگر فریقین نے ناکام مذاکرات کا لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ بلکہ ایران کی طرف سے ان مذاکرات کو اسلام آباد ایم او یو کا نام دینا اس کے تاریخی ہونے کے لیے کافی ہے۔ ان مذاکرات کی بدولت
پاکستان کا کردار اس تمام عمل میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسلام آباد نے محض میزبان ملک کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ ایک فعال ثالث کے طور پر خود کو منوایا ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے ایران، امریکہ، سعودی عرب، چین اور ترکیہ سب کے ساتھ متوازن تعلقات موجود ہیں۔ یہی سفارتی توازن اسے ایک قابلِ اعتماد پل بناتا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات نے پاکستان کو ایک ذمہ دار علاقائی سفارتی قوت کے طور پر ابھارا ہے، اور یہ پیش رفت اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
تاہم ممکنہ طور پر اسلام آباد یا جنیوا میں اگلے مذاکرات کے لیے بنیادی تنازع اب بھی وہی ہے: ایران کا جوہری پروگرام۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کو طویل مدت کے لیے معطل کرے، جبکہ ایران اسے اپنی قومی سلامتی کا بنیادی حق سمجھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے 20 سالہ معطلی کی تجویز دی، جبکہ ایران نے 5 سال کی مدت پیش کی۔ اگرچہ یہ اختلاف بڑا دکھائی دیتا ہے، مگر سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ 7 سے 10 سال کے درمیانی فارمولے پر سمجھوتہ ممکن ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں اعلیٰ ترین قیادت کی براہِ راست مداخلت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

یہی پس منظر صدرڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو اہم بناتا ہے۔صدر ٹرمپ کی شخصیت اور سیاسی طرزِ فکر روایتی سفارت کاری سے مختلف ہے۔ وہ بین الاقوامی سیاست کو اداروں کے بجائے طاقتور شخصیات کے درمیان براہِ راست سودے بازی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شمالی کوریا کے کم جونگ ان سے ملاقات، طالبان معاہدہ، ابراہم معاہدہ، غزہ امن معاہدہ اور پاک بھارت جنگ روکوانے میں صدر ٹرمپ کا کردار۔ اسی ذہنیت کی مثالیں ہیں۔ اور ان تمام معاہدات کو صدر ٹرمپ نے اپنے آپ کو نوبل امن انعام کا سب سے بہتر امید وار ثابت کرنے کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا۔ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدہ بھی صدر ٹرمپ کے لیے صرف خارجہ پالیسی کی کامیابی نہیں بلکہ ذاتی سیاسی کامیابی ہے ۔ صدرٹرمپ کے لیے یہ ایک ایسی تدبیرہو سکتی ہے جو انہیں عالمی امن ساز رہنما کے طور پر پیش کرکے ان کے نوبل امن انعام کے خواب کو شرمندہ تعبیر کردے۔
ایران کی طرف سے بھی اعلی قیادت کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کا کردار اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ مذاکراتی فیصلوں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اگرچہ سکیورٹی وجوہات کے باعث عوامی منظرنامے سے دور ہیں۔ اگر مستقبل میں براہِ راست سربراہی ملاقات ہوتی ہے تو یہ 1979 کے بعد ایران–امریکہ تعلقات کا سب سے بڑا سفارتی لمحہ ہوگا۔ ایران۔امریکا بات چیت کے لیےجنیوا یا اسلام آباد دونوں کا نام لیا جا رہاہے۔ مگر اسلام آباد کو اس وقت نفسیاتی برتری حاصل ہے کیونکہ یہاں ابتدائی اعتماد سازی ہو چکی ہے۔
ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے والی قوتیں بھی سرگرم ہیں۔ اسرائیل واضح طور پر ایران کے ساتھ کسی نرم معاہدے کا مخالف ہے کیونکہ وہ ایران کو اپنے وجود کے لیے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے