چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
حصہ اول
دشتِ امکاں بشیر احمد حبیب اوہائیو، امریکہ
بسمِ اللہ الرحمن الرحیم
آج فیس بک پر پروفیسر ہود بھائی کا ایک کلپ کئی مرتبہ سامنے آیا۔ وہ مسکراتے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: “میں خدا کو نہیں مانتا، میں کسی ایسی ہستی کا قائل نہیں جس کو سائنسی بنیادوں پر ثابت نہ کیا جا سکے۔”
گویا پروفیسر صاحب کی کل کائنات انرجی یا قوت اور اس کی تمام تر اشکال تک محدود ہے-
اور وہی معروف سائنسی قانون کے مصداق ،
“توانائی نہ پیدا کی جا سکتی ہے اور نہ فنا کی جا سکتی ہے، البتہ اسے ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔”
اور اس میں یہ اضافہ بھی لازم ہے کہ یہ تمام تر توانائی اور اس کی مختلف صورتیں ایک وسیع سپیس میں ایک خاص نظم و ضبط کے ساتھ تیر رہی ہیں ، ایک مربوط، مربوط تر اور حیران کن نظام کے ساتھ۔
پروفیسر صاحب اور ان جیسے دیگر صاحبانِ علم سمجھتے ہیں کہ تمام مذاہب اور ادیان کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ یہ دنیا کاز اور ایفیکٹ کے سلسلے سے جڑی ہوئی ہے اور اس کا پہلا سبب (First Cause) ایک مابعد الطبیعی ہستی باری تعالیٰ ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ادیان کی اساس الہامی کتابیں اور انبیاء کرام کی شخصیات ہیں وہ شخصیات جن پر یہ الہامی کتابیں نازل ہوئیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ الہامی کتب سائنسی نصاب کی کتابیں نہیں ، بلکہ شریعت کا بیان ہیں ۔ اسی سلسلے کی آخری کتاب قرآنِ کریم ہے، جس کا دعویٰ ہے کہ یہ قیامت تک غیر متبدل رہے گی:
"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ”
(سورۃ الحجر: 9)
ترجمہ: "بے شک ہم ہی نے اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔”
قرآنِ کریم میں کائنات کے بنائے جانے، اس میں جمادات، نباتات اور حیوانات کی تخلیق کے اشارات ملتے ہیں، اور انسان کی تخلیق کا مقصد بھی بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک یہ سب غیر سائنسی تشریحات ہیں۔
اب ذرا سائنس کے تصورات کا جائزہ لیجیے،
بگ بینگ تھیوری کے مطابق تقریباً 13.8 ارب سال قبل ایک انتہائی کثیف اور مرتکز توانائی کا نقطہ یا گولہ اچانک پھیلا، پھٹا نہیں بلکہ پھیلنا شروع ہوا، اور وقت، مکان، مادہ اور توانائی سب اسی لمحے وجود میں آئے۔ پھر اربوں کہکشائیں، ستارے اور سیارے وجود میں آئے۔ زمین وجود میں آئی، ٹھنڈی ہوئی، پانی بنا، اور پھر زندگی کے ابتدائی آثار ظاہر ہوئے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ RNA اور DNA جیسے پیچیدہ سالمات کسی ابتدائی کیمیائی عمل کے نتیجے میں وجود میں آئے۔ ایک واحد خلیے (unicellular organism) سے ارتقاء کا سفر شروع ہوا، اور پھر بتدریج یہ زندگی پیچیدہ ہوتی گئی ، یہاں تک کہ انسان جیسا باشعور وجود سامنے آیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ “انفیریئر” مادہ آخر کیسے ایک اعلیٰ ترین شعور میں تبدیل ہو گیا؟
کیا یہ سب کچھ خود بخود ہوا؟ یا اس کے پیچھے بھی کوئی نظم، کوئی ارادہ، کوئی حکمت کارفرما ہے؟
یہاں سوال بنتا ہے کہ سائنس کا تصورِ کائنات اور تصورِ حیات زیادہ مفروضاتی ہے یا اہلِ مذاہب کا پیش کردہ تصور زیادہ منطقی؟
اگر ہم ایک قدم اور آگے بڑھیں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انرجی اور اس کی تمام تر اشکال ، یہ وسیع و عریض کائناتی سٹرکچر، درحقیقت تخلیق ہے۔ کیونکہ یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ تعلق میں ہیں، ایک دوسرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ایک منظم دائرے میں گردش کر رہے ہیں۔
منطق کہتی ہے:
خالق اپنی تخلیق سے الگ بھی ہوتا ہے اور اس سے بڑا بھی۔
خالق اور تخلیق کا تعلق ایسا ہے کہ تخلیق اپنے خالق کے خدوخال کا احاطہ نہیں کر سکتی، جبکہ خالق اپنی تخلیق کے ہر پہلو کو جانتا ہے۔
اس کی سادہ مثال ایک مصور اور اس کی پینٹنگ ہے۔
پینٹنگ اپنے خالق سے جدا ایک وجود رکھتی ہے، مگر وہ اس کے ذہن، اس کی ذات، اس کی وسعت کا ادراک نہیں کر سکتی۔ لیکن مصور اپنی تخلیق کی ہر لکیر، ہر رنگ، ہر حد کو جانتا ہے۔
یہیں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ سائنس دراصل تخلیقات کو جاننے کا علم ہے، خالق کو جاننے کا نہیں۔ جہاں خالق کی بات آتی ہے، وہاں سائنس کے پر جلنے لگتے ہیں۔
اگر ہم یہاں تک درست ہیں تو ایک اور سوال اٹھتا ہے:
قرآن جو آخری اور غیر متبدل الہامی کتاب ہے اس میں بیان کردہ کائنات اور ہمارے گرد موجود مادی کائنات میں کیا کوئی ٹکراؤ پایا جاتا ہے؟






