#بغیر زُمرہ

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن انگریزی شاعری. قسط:26

Untitled 13

(شاہد بخاری)
یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال پر انگریزی شاعری کا اثر زیادہ ہوا یا اردو شاعری کا لیکن کوئی زیادہ مشکل بھی نہیں۔ انسان طبعاً اور مزاجاً اپنی زبان اور اپنے ادب کا پرستار ہوتا ہے اور پروفیسر اقبال کی سوانح سے یہ اور مترشح ہے کہ انہیں اردو شاعر ی نے کس طرح اپنی گرفت میں لیا یہ اور بات کہ انہیں بال و پر قدرِ تاخیر سے ملے لیکن جب ملے تو ان کی اڑان دیدنی تھی۔قاری حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ ان کا کسی زبان کا کلام پڑھ لیجئے ایسا لگتا ہے کہ وہی ان کے دل و دماغ پر جلوہ فگن ہے۔ وہ اس کی لذتوں سے خوب خوب لطف اندوز ہوتے ہیں اور اس کی روح میں اتر جاتے ہیں۔ بات سمجھنا کوئی زیادہ مشکل بھی نہیں۔ انہیں زبان سے اس لئے محبت ہے کہ وہ انسانوں سے محبت کرتے ہیں اور انسانیت سے محبت نے ان کے دل میں ادب کی محبت پیدا کی تو پھر ادب جس زبان کا بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ ادب تو سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ جیسے ہر جگہ کا انسان، انسان ہے ایسے ہی ہر زبان کا ادب ادب ہے۔ بُرا ہو تعصبات کا جس نے انسان کو انسان سے جدا کر کے رکھ دیا ہے۔فاصلے بڑھا دیئے ہیں وگرنہ انسان امریکہ میں ہو یا روس میں فرانس میں ہو یا چین میں برِصغیر کے کسی ملک میں ہو یا افریقہ میں انسان ایک ہی ہے۔ اس کے دکھ سکھ ایک ہی ہیں۔ اس لئے پروفیسر اقبال نے جب انگریزی میں لکھنا چاہا تو ایسا لگا کہ وہ انگریزی شاعری کے لئے ہی بنے تھے ہاں البتہ تاخیر ضرور ہو گئی۔ اگر تاخیر ہوئی تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا پروفیسر اقبال کا یہ خیال تھا کہ وہ لکھیں گے تو اسے کتنے پڑھنے والے ہوں گے؟ لیکن پھر ان کی ادب سے محبت نے اس واہمہ کو دُور کر دیا شاعر لکھتا ہے،یہ پرواہ کئے بغیر کہ اسے کتنے پڑھتے ہیں کتنے نہیں کیونکہ ادب ذاتی روح کی تسکین بھی ہے اور اگر ایک حد تک اظہار سے ذاتی روح کی تسکین ہو جائے تو اس سے بڑی بات کیا ہو گی۔ ان کا انگریزی کا کلام پڑھئے تو آپ کو لگے گا کہ ان میں جدید یت اور مابعد الجدیدیت کے تمام اثرات موجود ہیں۔وہ حقیقت پسندی،فطرت پسندی، وجودیت، لغویت،لایعنیت جیسے تمام جدید ترین رجحانات سے بخوبی آشنا ہیں اور انہوں نے اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے رجحانات کو جس والہانہ پن سے اپنایا ہے، اس سے ان کی ادب سے گہری محبت اور انسانیت سے اٹوٹ تعلق کا پتہ چلتا ہے۔
”Love’s no Crime“
منظومات: 73 صفحات: 96 پبلشر: معراج دین پرنٹرز لاہور
اشاعت:2005
محترمہ شگفتہ نازلی اپنے ایک مضمون میں Love’s no crimeکی بہت سی نظمیں نقل کر کے لکھا ھے:
”ڈاکٹر صاحب کی انگریزی نظمیں بھی معنی افروز، بہجت آمیز، تفکر خیز ہیں“
جناب تصور اقبال کے مطابق 2005میں ڈاکٹر اقبال کی انگریزی شاعری کا مجموعہ Love’s no Crime شائع ہوا جو اس زبان پر ڈاکٹر صاحب کی قدرت اور دسترس کا مظہر ہے“
پروفیسر فرخ صابری اپنے مضمون میں کچھ یوں لکھتی ہیں:
”ان کی کتاب Love’s no Crimeکی میں انتہائی معترف ہوں۔ اسے اپنی لائبریری میں نمایاں جگہ رکھنے کے علاوہ اپنی تدریسی لائبریری میں بھی رکھوایا تاکہ لوگ اس جلیل القدر شخص کے تمام پہلوؤں سے کماحقہ ٗ واقفیت حاصل کر سکیں“
پروفیسر سید حسن عارف واسطی(چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف انگلش لینگوئج اینڈ لٹریچرگورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور) Love’s no Crimeکے بارے میں رقم طراز ہیں:
"Love’s no Crime is a collection of poems written by prof.Dr.Sheikh Muhammad Iqbal. These poems are a spontaneous and unforced expression of feelings of a person who has learnt to live with blindness, or with the world which has eyes and no eyes………. The poet has also experienced it in its multiple forms and roles. He has also observed it with the eyes of the heart, keenly and fervently………… love is not the only theme which the poet touches. Life, fate, sorrow good old days, despair, and endurance are some of the other phenomena which moved the poet to speak about them. The poet never seems to pretend anything. He opens his heart and shares his feelings with the reader honestly and truthfully”
سکواڈرن لیڈر(ر)اشفاق نقوی،ڈیلی ڈان کے”Lahore Literary Notes” میں لکھتے ہیں:
"He already has six published collection of Urdu poetry but has now come up with one in English, titled, Love’s No Crime; it contains 73 poems. The most noticeable thing about them is the frugality in the use of words. The poems are short, no doubt, but all that needed to be said has been said”
Love’s no Crime
سچ پوچھیئے تو ڈاکٹر اقبال کے رومانی اور کلاسیکی تصورات کے ساتھ ساتھ جدیدیت اور مابعدالجدیدت کی تمام رعنائیاں اور نکہتیں سمیٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بڑی چھوٹی چھوٹی نظمیں بڑے بڑے خیالات کو انتہائی دلکش انداز میں پیش کرتی ہیں۔ایک دو مصرعوں میں ڈاکٹر صاحب ایسی بات کہہ جاتے ہیں جو دل کو چھو لیتی ہے اور ان کے اعلیٰ شعری ذوق اور عصری آگہی کا اشاریہ دکھائی دیتی ہیں۔
Love’s no crimeکے پہلے صفحات تو ڈاکٹر اقبال نے صرف اور صرف انگریزی قارئین کیلئے اپنی زندگی کی روداد پیش کرنے میں صرف کئے ہیں۔ بڑے سیدھے سادے الفاظ میں انہوں نے اپنی زندگی کا کرب آشوبِ آگہی دردو غم، ابتلاؤ آزمائش اور وہ دردناک جدوجہد جو انہیں کرنا پڑی اسے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ بعد ازاں اس سے کچھ زیادہ تفصیل سے انہوں نے اپنی زندگی کے روح فرسا اور روح افزاواقعات اپنی سوانح”پردہء سیمیں سے“ میں بیان کئے ہیں۔ چونکہ یہ انگریزی کی پہلی کاوش تھی، اس لئے یہ تعارف اور تگ و تاز کی کہانی پیش کرنا ان کے خیال میں ناگزیر تھی،پھر اپنی اس داستان ہوش ربا اور خونچکاں بیان کرنے کے بعد اور اپنی کامیابیوں اور کامرانیوں کا تفصیلی ذکر کر لینے کے بعد شاعری کا حصہ شروع ہوتا ہے۔
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن انگریزی شاعری. قسط:26

شکریہ   پاکستان

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن انگریزی شاعری. قسط:26

تبدیلی کی دستک

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے