#کالم

معجزۂ فن , حروف کی پیشانی پر ریاضت کی روشنی

Untitled 1

منشا قاضی. حسبِ منشا

لاہور کی تہذیبی فضاؤں میں جب بھی حسنِ ترتیب، جمالِ اظہار اور فکر کی لطافت ایک ساتھ جلوہ گر ہوں، تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا فن اپنے تمام تر وقار کے ساتھ انسان کے باطن سے ہمکلام ہو رہا ہو۔ اعجاز آرٹ گیلری، گلبرگ، لاھور میں معروف خطاط استاد عرفان قریشی کی منفرد نمائش “معجزۂ فن” کے موقع پر منعقد ہونے والا خصوصی سیشن بھی اسی فکری و جمالیاتی روایت کا ایک درخشاں باب ثابت ہوا۔ یہ محض ایک نشست نہ تھی، بلکہ اس فنکارانہ سفر کی تہذیبی قرأت تھی جس میں حروف، رنگ، سطر، اور صبر نے مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دی جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ عجوبہ ء روزگار خطاط
استاد عرفان قریشی کا نام اس خطے کی اس زندہ روایت سے جڑا ہوا ہے جہاں فن محض ہنر نہیں رہتا، عبادت کی ایک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اُن کی چالیس سالہ ریاضت دراصل ایک مسلسل مجاہدہ ہے؛ ایسا مجاہدہ جس میں قلم کی ہر جنبش، کاغذ کی ہر سفیدی، اور سیاہی کی ہر لکیر نے صبر، توازن، اور عشق کا مفہوم نئے سرے سے روشن کیا۔ خطاطی کی دنیا میں ریاضت صرف ہاتھ کی تربیت نہیں، دل کی تہذیب بھی ہے۔ استاد عرفان قریشی کے فن میں یہی تہذیب اپنے اعلیٰ ترین درجے پر نظر آتی ہے، جہاں خط کی ساخت میں نظم ہے، اور نظم کے اندر ایک بےپناہ روحانی اضطراب چھپا ہوا ہے۔
اس سیشن کا موضوع، ”جمال و جلالِ فنونِ قدیمہ“، محض ایک عنوان نہیں تھا بلکہ ایک فکری دعوت تھی۔ قدیم فنون کی عظمت اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ وقت کے شور میں بھی خاموشی کی زبان بولتے ہیں، اور انسان کو اس کی اصل طرف لوٹاتے ہیں۔ جدید دنیا کی تیز رفتار، مشینی اور سطحی ترجیحات کے مقابلے میں یہ فنون ہمیں ٹھہرنے، دیکھنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کا سلیقہ عطا کرتے ہیں۔ خطاطی ان ہی فنون میں سے ایک ہے، جو بیک وقت حسن بھی ہے اور معنی بھی، ترتیب بھی ہے اور واردات بھی۔ حرف جب استاد کے دستِ ہنر سے گزرتا ہے تو وہ محض لکھا نہیں جاتا، وہ سانس لینے لگتا ہے۔
اس موقع پر معروف دانشور فنون لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کرنے والے منصف کامران لاشاری کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت نے نشست کو وقار، معنویت اور تہذیبی گہرائی عطا کی۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ کارٹونسٹ جاوید اقبال ۔ ممتاز سائنس دان انجینیئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل ۔ نابغہ روزگار خطاط و مصور ہارون الرشید اور سید ذکی حسن جیسے اہلِ ذوق حضرات کی موجودگی ہمیشہ کسی بھی فن پارے کے گرد ایک روشن ہالہ قائم کر دیتی ہے، کیونکہ وہ صرف دیکھنے نہیں آتے، سمجھنے بھی آتے ہیں۔ فن کی قدر وہی جانتا ہے جو اس کے اندر چھپی ہوئی خاموش دعا کو سن سکے، اور اس کی سطحی دلکشی سے آگے بڑھ کر اس کے باطنی سوز تک رسائی حاصل کر لے۔
ڈاکٹر راحت نوید مسعود اور آمنہ پٹوڈی نے بطور کیوریٹرز اور موڈریٹرز جس سنجیدگی، نفاست اور فکری توازن کے ساتھ مکالمے کی فضا قائم کی، وہ بھی قابلِ تحسین تھی۔ ان کے زیرِ انتظام ہونے والی گفتگو کسی رسمی تعارف یا سطحی تبصرے تک محدود نہ رہی بلکہ اس نے استاد عرفان قریشی کی فنکارانہ عمر، ان کے فنی شعور، اور ان کے تخلیقی وجدان کے کئی گوشے منور کیئے۔ آمنہ پٹوڈی کے لیئے نظامت کے فرائض سر انجام دینا اور سانس لینا یکساں تھا ان کی گفتگو کی جستجو میں حاضرین کی آرزو جاگ اٹھی وہ فنون لطیفہ کی ہر اصناف پر قدرت رکھتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے لیئے بہت ساری مشکلات آسان ہو گئیں اس لیئے بھی کہ مشکلیں جب اتنی زیادہ پڑ جائیں تو آسانیاں راستے ہموار کر دیتیں ہیں ۔ یہ مکالمہ دراصل فن اور فہم کے درمیان ایک پُل تھا، جہاں ناظر صرف تماشائی نہیں رہا بلکہ شریکِ معنی بن گیا۔
استاد عرفان قریشی کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے بار بار یہ احساس ابھرتا رہا کہ اسلامی خطاطی صرف حروف کی خوبصورتی نہیں، ایک تہذیبی دعا ہے۔ اس دعا میں ہاتھ کی مشقت بھی شامل ہے، نگاہ کی پاکیزگی بھی، اور دل کی وہ شکستگی بھی جو ہر بڑے فنکار کے اندر موجود ہوتی ہے۔ چالیس برس کی ریاضت، دراصل ایک ایسے درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر جتنی گہری ہوں، شاخیں آسمان کی طرف اتنی ہی بلند ہوتی ہیں۔ استاد عرفان قریشی کا سفر بھی اسی استقامت کا استعارہ ہے؛ ایک ایسا سفر جو لفظ کو تصویر میں، اور تصویر کو روح میں تبدیل کر دیتا ہے۔
“معجزۂ فن” کے اس فکری رعنائیوں سے مزین سیشن میں یہ حقیقت بار بار نمایاں ہوئی کہ روایتی فنون محض ماضی کی یادگار نہیں، حال کی ضرورت اور مستقبل کی امانت بھی ہیں۔ جب تہذیبیں اپنی اصل شناخت کھونے لگتی ہیں تو انہیں فنون کے چراغ راستہ دکھاتے ہیں۔ خطاطی، مصوری، اور دیگر کلاسیکی فنون دراصل انسان کے اندر موجود اس لطیف ذوق کو زندہ رکھتے ہیں جو اسے محض صارف نہیں، خالق کے قریب تر ایک حساس وجود بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نشست میں شریک ہر شخص کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی نمائش میں نہیں بلکہ ایک روحانی تجربے کے اندر موجود ہو۔ اظہارِ
تقریب کے اختتام پر پیش کیا گیا پُرتکلف اور لذیذ ہائی ٹی بھی اپنی جگہ ایک خوشگوار روایت کی مانند تھا۔ بہترین مہمان نوازی، شائستہ انتظام، اور دل آویز ماحول نے اس ادبی و فنکارانہ نشست کو تکمیلِ حسن عطا کی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جس طرح فن نے نگاہوں کو سیراب کیا، اسی طرح ضیافت نے دلوں کو شاداب کر دیا۔ ایسی محفلیں فقط یاد نہیں بنتیں، تہذیبی حافظے کا حصہ بن جاتی ہیں۔
درحقیقت، “معجزۂ فن” اس حقیقت کا اعلان تھا کہ جب فن خلوص، ریاضت، اور جمالیاتی شعور کے ساتھ پروان چڑھتا ہے تو وہ وقت کی گرد سے اوجھل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی روشن ہو جاتا ہے۔ استاد عرفان قریشی کی خطاطی اسی روشن روایت کا تسلسل ہے — ایک ایسا سفر جو حرف سے

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے