#کالم

پھر بہار آئی ۔۔مگر بہت احتیاط

Untitled 5 1

احساس کے انداز  تحریر :۔ جاویدایازخان

پھر بہارآئی اور سوکھی شاخوں پر زندگی نے پھر دستک دی اور خزاں کی اداسی  کہیں دور جاچکی  خزاں کی سرد ہواوں نے خوشگواری کا لبادہ اوڑھ لیا ۔یہی قدرت کا وہ اٹل پیغام ہے کہ مایوسی کبھی مستقل نہیں ہوتی ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ بہار صرف موسم کا نام نہیں ،یہ امید کا استعارہ ہے ۔یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جیسے درخت اپنے پرانے پتے گرا کر نئی کونپلوں کو جگہ دیتے ہیں ویسے ہی انسان کو بھی اپنے دل کے بوجھ ،مایوسیوں اور گزرے دکھوں کو بھول کر ننی امیدوں اور ولولوں سے آگے بڑھنا چاہیے ۔بہار کا فلسفہ ہی یہی ہے کہ تبدیلی ،تجدید اور نیا جنم ۔بہار آتی ہے تو صرف پھول نہیں  کھلتے خیالات  بھی مہکنے لگتے ہیں ۔دل بھی نرم ہوتے ہیں ۔اور دعائیں بھی زیادہ سچی لگتی ہیں ۔یہ موسم ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ "اگر زندگی میں خزاں آئی ہے تو مایوس نہ ہوں کیونکہ ہر خزاں کے بعد بہار کا ٓانا بھی اٹل ہوتا ہے ۔

آو ٔکے مل کے جشن بہاراں منائیں ہم 

مدت کے بعد دیکھی ہے صورت بہار کی 

بہار جب اپنے  نرم قدموں سے زمین کو چھوتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فضا میں کسی نے خوشبو بکھیر دی ہو ۔کھیت سنہری لباس پہن کر مسکراکر جھوم اٹھتے ہیں ۔گندم کی بالیاں ہوا کے دوش پر جھومتی ہیں اور کسان کی آنکھوں میں ں ایک خاموش سی چمک اتر آتی ہے ۔یہ چمک اس کی طویل محنت کے صلے کی گواہی دیتی ہے ۔یہ فصل کٹائی کا موسم محض اناج کاٹنے یا سمیٹنے کا عمل نہیں ہوتا بلکہ خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کی ایک بہت خوبصورت تعبیر ہے ۔ہر درانتی کی جنبش اور ہر تھریشر یا ہارویسٹر کی دھول میں بھی ایک کہانی چھپی ہے اور ہر گندم کی بوری میں پورے گھر کی امیدوں اور خواہشوں کا وزن ہوتا ہے اور ہر آہٹ میں شکر کا نغمہ سنائی دیتا ہے ۔یہی موسم ہے جب علاقائی میلے اور وساکھی کی رونقیں بھی بہار کے ساتھ ہم قدم ہو جاتی ہیں ۔ڈھول کی تھاپ پر ڈھڑکتے دل ،رنگ برنگےجھولے ،مٹی کی کوشبو میں بسی ہوئی مسکراہٹیں اور قہقہے یہ سب مل کر زندگی کو ایک میٹھا سا گیت بنا دیتے ہیں ۔بچے مستی بھرے قہقہے بکھیرتے ہیں تو بزرگ بارش اور ژالہ باری سے محفوظ رہنے پر شکرانے اور  دعاوں کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہیں اور جوانی اپنی ہی مستی میں الگ ہی جھومتی دکھائی دیتی ہے ۔چرندو پرند اس ماحول کی رونق سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔مختلف پرندوں کی چہچہاہٹ  اور جھنڈوں کی صورت دھرتی پر آمد کی دلکشی  تحریر اور لفظوں میں بیان کرنا  بڑا مشکل ہے۔ 

مگر اس ساری دلکشی کے درمیان ایک خاموش سی صدا بھی گونجتی ہے ۔جی ہاں ! احتیاط کی  یہ صدا  خبردار کرتی ہے کہ یہ گندم کے سنہرۓ  کھیت اور کٹی فصلیں ہماری ایک غفلت سے راکھ  بھی ہو سکتے ہیں ۔اس لیے ضروری ہے کہ خوشی اور جوش کے ساتھ ہوش بھی رہے ۔جشن کے ساتھ ذمہ داری بھی نبھائی جاۓ ۔بہار کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ ہمیں مسکرانا بھی سکھاتی ہے اور سنبھل کر چلنے کا سبق بھی دیتی ہے ۔یہ موسم خوشیوں کا پیغامتو ضرور ہے بس شرط یہ ہے کہ ہم اسے محبت ،صبر ،شکر اور احتیاط کے ساتھ اپنائیں ۔فصل کی حفاظت ،آگ سے بچاواور احتیاط کا دامن تھامنا اس لیے بھی بہت ضروری ہوجاتا ہے کہ خوشی کا  یہ موسم  کسی حادثے کی نذر نہ ہو جاۓ ۔یہ وہ وقت ہے جب ایک لمحے کی لاپرواہی سیکڑوں گھروں کا نقصان بن سکتی ہے ۔کسان کی محنت اس کے خواب اور امیدیں اسی اہم فصل سے ہی تو جڑی ہوتی ہیں۔آپکے سگریٹ کی ایک چنگاری گندم کی  کٹی ہوئی فصل کے پورے ذخیرے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے ۔اس لیے خوشی ضرور منائیں ،ناچیں گائیں ،جشن منائیں مگر ذمہ داری بھی ضرور اپنائیں ،احتیاط کو اپنی عادت بنائیں ۔گندم کی باقیات کو جلا کر تلف ہرگز نہ کریں کیونکہ یہ قانونی طور سختی سے منع ہے ۔یہ ہمارے ماحول کے لیے ہی  نقصان دہ نہیں بلکہ بےشمار   ماحول دوست پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کی زندگی کے لیے بھی خطرناک ہوتی ہے جو قدرت کی جانب سے ہمارے ماحول کی صفائی اور بہتری کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔گندم کے کھیت جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں ہمارۓ ماحول  میں سموگ کا باعث بنتا ہے ۔

گندم کی کٹائی کے موسم میں سگریٹ نوشی صرف ایک ذاتی عادت نہیں رہتی بلکہ ایک اجتماعی خطرہ بن جاتی ہے ۔کھیتوں میں خشک فصل ،بھوسہ اور ہوا کا تیز بہاو ٔ آگ کو چند لمحوں میں پھیلا سکتا ہے اور ایک چھوٹی سی سگریٹ کی راکھ میں چھپی چنگاری پورے سال ساکی محنت کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے ۔یہ معاملہ صرف احتیاط کا ہی نہیں ذمہ داری کا بھی تقاضہ کرتا ہے ۔اس سلسلے میں چند ضروری احتیاطی  تدابیر  کی آگاہی بےحد ضروری ہے ۔کھیتوں اور خصوصا” کٹی ہوئی  گندم کی فصلوں کے قریب  سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں ،جلتی ہوئی سگریٹ یا ماچس کی تیلی زمین پر ہرگز نہ پھینکیں ۔ٹریکٹر ،ہارویسٹر یا دیگر مشینری کے قریب آگ کے ذرائع استعمال بالکل نہ کریں ۔اگر کہیں آگ لگ جاۓ تو فوری طور پر پانی یا مٹی ڈال کر بجھانے کی کوشش کریں ۔دیہات انفرادی اور اجتماعی میں اجتماعی آگاہی پیدا کریں تاکہ ہر فرد اس خطرۓ کو بخوبی سمجھ سکے ۔بہار کا جشن ضرور منائیں مگر دوسروں کی خوشیوں اور حفاظت کا خیال بھی ضرور رکھیں ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے