#کالم

ایران: اتحاد کی وہ بنیاد جو ٹوٹنے نہیں دیتی

new desing ytgf

تحریر: عبدالقادر مشتاق
دنیا کے نقشے پر ایران ایک ایسا ملک ہے جسے عموماً صرف اس کی خارجہ پالیسی یا عالمی تنازعات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، مگر اس کی اصل طاقت اس کے اندرونی سماجی و معاشی ڈھانچے میں پوشیدہ ہے۔ تقریباً نو کروڑ آبادی پر مشتمل یہ ملک نہ صرف ایک قدیم تہذیب کا وارث ہے بلکہ جدید دور میں بھی اپنی ایک منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایران کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی آبادی، سماجی ساخت اور معاشی حقائق کو گہرائی سے دیکھا جائے۔ عالمی سیاست میں یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بیرونی طاقتیں جب کسی ملک میں “رجیم چینج” کی کوشش کرتی ہیں تو اس کا پہلا اظہار اندرونی انتشار، ریاستی علامتوں پر حملوں اور قومی ہیروز کی توہین کی صورت میں ہوتا ہے۔ مگر ایران کے معاملے میں منظر مختلف ہے۔ نہ سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، نہ قومی شخصیات کے مجسمے گرائے گئے، اور نہ ہی ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر چیلنج کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی بنیاد ہے جس نے ایرانی قوم کو اس حد تک متحد رکھا ہوا ہے؟ ایران کے اس اتحاد کی پہلی اور سب سے مضبوط بنیاد انقلابی شناخت ہے۔ 1979 کا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ اس نے ایرانی معاشرے کو ایک نظریاتی وحدت عطا کی۔ یہ انقلاب آج بھی ایرانی قوم کی اجتماعی یادداشت میں زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیرونی دباؤ بڑھتا ہے تو اختلافات کے باوجود ایرانی عوام اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ قومی خودمختاری کا شعور ہے۔ ایران نے طویل عرصے تک بیرونی مداخلت کا سامنا کیا ہے، چاہے وہ شاہ کے دور میں مغربی اثر و رسوخ ہو یا بعد از انقلاب پابندیاں۔ اس تاریخی تجربے نے ایرانی قوم میں ایک مشترکہ احساس پیدا کیا ہے کہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت دراصل ان کی آزادی کے خلاف ہے۔ لہٰذا جب امریکہ جیسے ممالک “رجیم چینج” کی بات کرتے ہیں تو یہ ایرانی عوام کے لیے محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ تیسری بنیاد مذہبی و نظریاتی ہم آہنگی ہے۔ ایران میں ریاست اور مذہب کا تعلق گہرا ہے۔ ولایتِ فقیہ کا نظام نہ صرف ایک سیاسی ڈھانچہ ہے بلکہ ایک نظریاتی بندھن بھی فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کے تحت قیادت کو ایک مذہبی جواز حاصل ہوتا ہے، جو عوام کے ایک بڑے طبقے کے لیے قابلِ قبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلافات کے باوجود مکمل بغاوت کی فضا پیدا نہیں ہو پاتی۔ چوتھا عنصر ریاستی اداروں کی مضبوطی ہے۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) جیسے ادارے نہ صرف عسکری قوت رکھتے ہیں بلکہ نظریاتی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ یہ ادارے ریاست کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک خاص انقلابی بیانیے کے محافظ بھی ہیں۔ اس دوہری حیثیت نے ریاست کو اندرونی طور پر مستحکم رکھا ہوا ہے۔ پانچویں اور اہم ترین وجہ قومی بیانیہ (Narrative) ہے۔ ایران نے اپنے عوام کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ ایک عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔ فلسطین، لبنان اور دیگر خطوں میں اس کی پالیسیوں کو اسی بیانیے کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے عوام میں ایک مقصدیت (sense of purpose) پیدا ہوتی ہے، جو محض معاشی مشکلات کے باوجود ریاست سے وابستگی کو برقرار رکھتی ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ایران میں اختلافات نہیں ہیں۔ وہاں سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر شدید تنقید بھی موجود ہے۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہ اختلافات ریاست کے اندر رہ کر ظاہر ہوتے ہیں، نہ کہ ریاست کو مکمل طور پر گرانے کی تحریک کی صورت میں۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جو ایران کو کئی دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے جہاں بیرونی مداخلت اندرونی بغاوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کا اتحاد کسی ایک عنصر کا نتیجہ نہیں بلکہ تاریخ، نظریہ، مذہب، ریاستی طاقت اور قومی بیانیے کا ایک مرکب ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جو اس اتحاد کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔ جب تک یہ عناصر برقرار ہیں، بیرونی قوتوں کے لیے ایران میں اندرونی انتشار پیدا کرنا ایک مشکل ہدف ہی رہے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے