سعودی عرب پر ایرانی وار ناقابل قبول
أج کا اداریہ
ایران کی جانب سے سعودی عرب کے شہر الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں سابک کے پلانٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔الجبیل سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع دنیا کے بڑے صنعتی شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اسٹیل، پیٹرول، پیٹروکیمیکلز، لبریکنٹس اور کھادیں تیار کی جاتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل اسرائیل نے ایران کے شہر عسلویہ میں واقع سب سے بڑے پیٹروکیمیکل پلانٹ پر شدید حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ایرانی میڈیا نے وہاں متعدد دھماکوں کی اطلاع دی تھی۔ادھر سعودی وزارت دفاع کے مطابق مشرقی علاقے کو نشانہ بنانے والے بیلسٹک میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور سات میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا۔ وزارت کے مطابق میزائلوں کا ملبہ توانائی تنصیبات کے قریب گرا اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والے اہم شاہراہی پل، کنگ فہد کازوے، کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام حفاظتی تدابیر کے تحت کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران مسلسل توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں۔
دفترخارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں توانائی تنصیبات پر ایران کی جانب سے گزشتہ رات کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اس واقعے کی سخت اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے، ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر سوگ کا اظہار کرتا ہے اور اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی شدید مذمت کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے، پاکستان اس مشکل وقت میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اسے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتا ہے یہ حملے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے الجبیل انڈسٹریل سٹی میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس پرحملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےکہ حملے ایران کے پیٹرو کیمیکل کمپلیکس حملوں کے جواب میں کیےگئے، حملے میں سعودی سرزمین پر 2 امریکی کمپنیوں کے حساس پیٹرو کیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایسی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے منصفانہ مقصد کے لیے اپنی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
کور کمانڈرز کانفرنس نے بھی سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل، صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کا کہنا ہے کہ ایران کے سعودی عرب پر حملے پُرامن ذرائع سے تنازعے کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سعودی عرب پر حملے ایک غیر ضروری کشیدگی ہیں۔ اس نوعیت کے حملے اور بلاجواز جارحیت جاری پُرامن کوششوں اور سازگار ماحول کو سنگین طریقے سے متاثر کرتی ہیں۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے سنگین اشتعال انگیزیوں کے باوجود اب تک تحمل اور محتاط رویے کا مظاہرہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے اس رویے سے ثالثی اور سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پہلے کسی ملک بشمول اسرائیل نے سعودیہ عرب پر حملہ کرنے کے جرات نہیں کی ۔ ایران کا سعودی شہر الجبیل کی پیٹرولیم تنصیبات پر حملہ نہ صرف سعودیہ عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پہ حملہ ہے
ایران کا سعودیہ عرب کے شہر الجبيل آئل ریفائنری اورپیٹروکیمیکل تنصیبات پرحملہ کسی صورت بھی امریکی تنصیبات پر جوابی حملے کے ساتھ تشبیہ نہیں دیا جاسکتا ۔ سعودیہ عرب نے ہمیشہ اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی bases ایک معاہدے کے تحت قائم ہیں اور ان Bases کو کبھی بھی ایران کے خلاف جارحانہ استعمال کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگر کوئی ملک سعودیہ عرب کی معاشی اہمیت کی حامل تنصیبات پر حملہ کرے گا تو یقیناً اس کے منفی اثرات سعودیہ عرب کے مجموعی تحفظ و استحکام پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب پر کوئی بھی وار حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ایک براہ راست خطرہ ہے، جو بطور محافظ حرمین شریفین پاکستان کو قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔ پاکستان مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کی ابتدا سے ہی ایران کو باور کرانے کی کوشش کرتا آ رہا ہے کہ پڑوسی ممالک خصوصا سعودیہ عرب پر حملے کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے اس اصرار کے باوجود ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک انتہائی صبر وتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو دفاعی اقدامات تک محدود رکھے ہوئے ہیں۔ ایران کا یہ حملہ کشیدگی کو کم کرنے کے لئیے کی جانے والی مفاہمتی کاوشوں پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے نازک وقت پر






