#کالم

سیاناغصہ

Mohion

تحریر: محمد محسن اقبال

میرے رشتہ داروں میں ایک صاحب تھے جو نہایت خوش حال تھے، اور دولت کے ساتھ ایک ایسا غیر محسوس اقتدار بھی رکھتے تھے جو ان کے مزاج اور برتاؤ میں جھلکتا تھا۔ وہ عموماً تیز مزاج تھے۔ جب کوئی بات ان کی مرضی یا طبیعت کے خلاف ہوتی تو وہ غصے کی شدت میں آکر اپنے ان عزیزوں اور دوستوں پر برس پڑتے جنہیں وہ سماجی یا مالی لحاظ سے اپنے سے کم تر سمجھتے تھے۔ ان کے قریبی لوگ ان کے اس رویے کا سامنا کرنے کے بجائے ایک آسان سا جواز پیش کر دیتے کہ وہ بلند فشارِ خون کے مریض ہیں، اس لیے ان کا غصہ غیر ارادی ہے اور قابلِ درگزر بھی۔ یوں ان کی زیادتیوں کو نہ صرف برداشت کیا جاتا بلکہ گویا خاموشی سے قبول بھی کر لیا جاتا۔

مگر ایک دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے اس ساری توجیہہ کو بے معنی بنا دیا۔ ان کا ایک پڑوسی سے تنازعہ ہو گیا، جو کوئی معمولی آدمی نہ تھا۔ اس کا ایک بیٹا پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا اور دوسرا امریکہ میں مقیم تھا۔ معاملہ پنچایت تک جا پہنچا۔ اس مجلس میں، جہاں ہر لفظ کا وزن ہوتا ہے اور ہر بات کے اثرات ہوتے ہیں، پڑوسی نے نہایت صاف اور دوٹوک انداز میں اپنی بات کہی۔ سب کی حیرت کے برخلاف میرے اس رشتہ دار نے نہ غصہ کیا اور نہ ہی ان کا فشارِ خون بڑھا۔ وہ تحمل سے سنتے رہے، الفاظ کو تولتے رہے اور نہایت نپی تلی گفتگو کے ساتھ جواب دیا۔ وہاں موجود ایک بزرگ نے بڑی معنی خیز بات کہی کہ ان کا غصہ اور بلڈ پریشر واقعی بہت سمجھدار ہیں؛ یہ صرف کمزوروں کے سامنے ہی بڑھتے ہیں۔

یہ بظاہر ایک عام سا واقعہ اپنے اندر انسانی رویوں کی ایک گہری حقیقت سموئے ہوئے ہے، خاص طور پر طاقت اور اس کے استعمال کی حقیقت۔ غصہ، جسے عموماً ایک بے قابو جذبہ سمجھا جاتا ہے، اکثر نہ تو اندھا ہوتا ہے اور نہ ہی بے سمت۔ وہ سوچا سمجھا، منتخب اور عموماً وہاں ظاہر ہوتا ہے جہاں مزاحمت کمزور ہو۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور افراد غصے کی شدت سے محفوظ رہتے ہیں جبکہ کمزور اس کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

یہی منظر آج کی عالمی سیاست میں بھی کسی نہ کسی صورت دکھائی دیتا ہے۔ ریاستی قائدین کا طرزِ گفتگو ہمیشہ سے ایک وقار اور توازن کا متقاضی رہا ہے، کیونکہ ان کے الفاظ محض ذاتی جذبات کا اظہار نہیں بلکہ عالمی اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ سفارت کاری کا تقاضا ہے کہ زبان میں شائستگی، وقار اور احتیاط ہو۔ مگر تاریخ اور حالیہ حالات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ معیار ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔

حالیہ دنوں میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں جس زبان کا استعمال کیا، وہ سفارتی اور اخلاقی حدود سے باہر محسوس ہوتی ہے۔ ان کے بیانات میں سختی، تلخی اور ناشائستگی نمایاں ہے، جو بین الاقوامی تعلقات کے لیے مطلوبہ سنجیدگی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ اگر یہی زبان چین، روس یا شمالی کوریا کے خلاف استعمال کی جاتی تو اس کا ردعمل کہیں زیادہ شدید اور فوری ہوتا۔ یہاں بھی وہی اصول کارفرما نظر آتا ہے جو میں نے اپنے رشتہ دار کے رویے میں دیکھا تھا—سختی کا رخ اکثر وہاں ہوتا ہے جہاں جواب کا امکان کمزور ہو۔

تاہم یہ رجحان امریکی تاریخ میں بالکل نیا نہیں۔ مختلف ادوار میں امریکی صدور کی نجی گفتگو میں سخت یا غیر مہذب زبان کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں، جو بعد میں یادداشتوں، ریکارڈنگز اور تاریخی تحقیق کے ذریعے سامنے آئے۔ ہیری ایس ٹرومین اپنی صاف گوئی اور سخت لہجے کے لیے مشہور تھے۔ جان ایف کینیڈی، جو عوامی سطح پر نہایت شائستہ اور پرکشش خطابت کے حامل تھے، نجی محفلوں میں نسبتاً بے تکلف زبان استعمال کرتے تھے۔ لنڈن بی جانسن نے تو اس معاملے میں ایک الگ ہی پہچان قائم کی، جن کی گفتگو میں دیہی سادگی کے ساتھ ایک غیر مہذب رنگ بھی شامل تھا۔

سب سے نمایاں مثال رچرڈ نکسن کے دورِ صدارت میں سامنے آئی، جب واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد ان کی خفیہ ریکارڈنگز منظر عام پر آئیں۔ ان گفتگوؤں نے نہ صرف فحش زبان بلکہ تعصب اور تنگ نظری کے کئی پہلوؤں کو بھی بے نقاب کیا۔ بعد کے ادوار میں جارج ڈبلیو بش اور باراک اوباما جیسے رہنما بھی بعض اوقات غیر رسمی یا سخت زبان کے استعمال سے وابستہ رہے، تاہم یہ زیادہ تر نجی یا محدود حلقوں تک ہی رہا۔

موجودہ دور کی خاص بات یہ ہے کہ ایسی زبان اب محض نجی گفتگو تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے کھلے عام سامنے آتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بارہا اپنے بیانات میں ایسی زبان استعمال کی ہے جو سیاسی بیان اور ذاتی حملے کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتی ہے۔ ایران کے حوالے سے ان کے حالیہ بیانات، جن میں دھمکی آمیز اور غیر شائستہ الفاظ شامل ہیں، روایتی سفارتی اصولوں سے انحراف کی ایک واضح مثال ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں، جہاں ایک لفظ بھی حالات کو بدل سکتا ہے، وہاں ایسے بیانات کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتے ہیں۔

اس طرزِ بیان کے اثرات محض الفاظ تک محدود نہیں رہتے۔ زبان انسانی سوچ کو تشکیل دیتی ہے، اور سوچ عمل کی بنیاد بنتی ہے۔ جب قیادت کا لہجہ غیر مہذب ہو جائے تو یہ رویہ معاشرے میں بھی سرایت کر جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف داخلی سطح پر اقدار متاثر ہوتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی وقار مجروح ہوتا ہے اور سفارت کاری کا نازک توازن متاثر ہوتا ہے۔

چاہے یہ سبق ایک سادہ پنچایت سے حاصل ہو یا عالمی سیاست کے ایوانوں سے، حقیقت ایک ہی رہتی ہے۔ اصل طاقت کمزور کو دبانے میں نہیں بلکہ خود کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ قیادت کا حسن اس میں ہے کہ وہ طاقت کے ساتھ حکمت کو جوڑے، کشیدگی کے لمحوں میں بھی وقار کو برقرار رکھے اور ایسے معیار قائم کرے جو خوف نہیں بلکہ احترام کو جنم دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ غصہ جو طاقتور اور کمزور میں فرق کرے، نہ تو اخلاص کی علامت ہے اور نہ ہی قوت کی۔ یہ دراصل ایک سوچا سمجھا رویہ ہے۔ اور جب یہی رویہ ان لوگوں کی زبان میں ظاہر ہو جو قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں، تو یہ محض ایک ذاتی کمزوری نہیں رہتا بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔

سیاناغصہ

مذاق کے نام پر زہر 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے