ایران: پابندیوں، مزاحمت اور بقا کی داستان
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
ایران کی سرزمین تاریخ کے ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں جغرافیہ، تہذیب اور سیاست ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو چکے ہیں کہ ان کو الگ الگ سمجھنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ وہ ملک ہے جس نے ہزاروں برس پہلے ایک عظیم تہذیب کی بنیاد رکھی، دنیا کے وسیع علاقوں پر حکومت کی، اور پھر وقت کے تھپیڑوں، حملوں اور اندرونی تبدیلیوں کے باوجود اپنی شناخت کو برقرار رکھا۔ ایران کی تاریخ دراصل ایک مسلسل جدوجہد کی داستان ہے، ایک ایسی جدوجہد جس میں بقا صرف طاقت سے نہیں بلکہ نظریے، خودداری اور مزاحمت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب ہم ایران کو عالمی سیاست میں دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تاریخی شعور نظر آتا ہے جو ہر مشکل کے باوجود جھکنے کے بجائے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔
قدیم دور میں Achaemenid Empire نے ایران کو عالمی سطح پر ایک عظیم طاقت کے طور پر متعارف کرایا۔ سائرس اعظم اور داریوش جیسے حکمرانوں نے ایک ایسا انتظامی اور سیاسی نظام قائم کیا جو نہ صرف اپنے وقت کے لیے منفرد تھا بلکہ آج بھی حکمرانی کی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سلطنت محض فتوحات تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں ثقافتی برداشت، مذہبی رواداری اور انتظامی مہارت کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ یہی وہ دور تھا جس نے ایرانی قوم کے اندر ایک مضبوط تہذیبی اعتماد پیدا کیا، ایک ایسا اعتماد جو آنے والی صدیوں میں ان کی شناخت کا بنیادی حصہ بن گیا۔ اگرچہ اس کے بعد سکندر اعظم کے حملے، عرب فتوحات اور مختلف سلطنتوں کا عروج و زوال آیا، مگر ایران کی تہذیبی روح کبھی ختم نہ ہوئی بلکہ ہر دور میں نئے رنگ کے ساتھ زندہ رہی۔
اسلام کی آمد نے ایران کی تاریخ میں ایک نئی جہت پیدا کی۔ ایرانی معاشرے نے اسلام کو صرف قبول ہی نہیں کیا بلکہ اسے اپنے تہذیبی اور فکری سانچے میں ڈھال لیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں ایک منفرد اسلامی شناخت ابھری جو عرب دنیا سے مختلف ہونے کے باوجود اس کا حصہ بھی رہی۔ بعد ازاں صفوی دور میں شیعہ مسلک کو ریاستی سطح پر اختیار کیا گیا، جس نے ایران کی مذہبی اور سیاسی شناخت کو مزید واضح کر دیا۔ یہ شناخت آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
تاہم جدید ایران کی اصل تشکیل 1979 کے Iranian Revolution کے بعد ہوئی۔ یہ انقلاب محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک نظریاتی بغاوت تھی جس نے شاہی نظام کو ختم کر کے ایک اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھی۔ اس انقلاب کے پیچھے عوامی بے چینی، سیاسی جبر، معاشی ناہمواری اور بیرونی اثرات کے خلاف ردعمل کارفرما تھا۔ انقلاب کے بعد ایران نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو مغربی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے لیے ناقابل قبول تھا، اور یہی وہ نقطہ تھا جہاں سے ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی نے مستقل شکل اختیار کی۔
انقلاب کے فوراً بعد ایران کو ایک اور بڑے امتحان کا سامنا کرنا پڑا جب Iran–Iraq War شروع ہوئی۔ یہ جنگ آٹھ سال تک جاری رہی اور اس نے ایران کو ہر لحاظ سے متاثر کیا۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت تباہ ہوئی، اور ملک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر اس جنگ نے ایرانی قوم کے اندر ایک ایسی مزاحمتی روح کو جنم دیا جس نے انہیں مزید مضبوط بنا دیا۔ ایران نے اس جنگ کو صرف ایک دفاعی لڑائی نہیں بلکہ اپنی بقا اور نظریے کی جنگ سمجھا، اور یہی سوچ آج بھی اس کے سیاسی اور عسکری رویوں میں جھلکتی ہے۔
جنگ کے بعد ایران کو جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا وہ اقتصادی پابندیاں تھیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پر مختلف ادوار میں سخت پابندیاں عائد کیں جن کا مقصد اس کی معیشت کو کمزور کرنا اور اسے عالمی نظام میں محدود کرنا تھا۔ ان پابندیوں نے ایران کی کرنسی، تجارت، تیل کی برآمدات اور مالیاتی نظام کو شدید متاثر کیا۔ عام شہریوں کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر ان تمام مشکلات کے باوجود ایران نے ہمت نہیں ہاری بلکہ ایک متبادل راستہ اختیار کیا جسے اکثر “مزاحمتی معیشت” کہا جاتا ہے۔
اس مزاحمتی معیشت کے تحت ایران نے اپنی مقامی صنعتوں کو فروغ دیا، سائنسی تحقیق پر توجہ دی، اور دفاعی شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ آج ایران میزائل ٹیکنالوجی، نیوکلیئر پروگرام اور مختلف سائنسی میدانوں میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ اگرچہ اس کی معیشت اب بھی دباؤ کا شکار ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران نے مکمل اقتصادی تباہی سے خود کو بچائے رکھا۔
علاقائی سیاست میں بھی ایران نے ایک منفرد کردار ادا کیا ہے۔ اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مختلف اتحادیوں اور گروہوں کی حمایت کی، جنہیں وہ “مزاحمتی قوتیں” قرار دیتا ہے۔ اس پالیسی نے اسے ایک طرف خطے میں طاقتور بنایا تو دوسری طرف اسے مسلسل تنازعات اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ امریکہ، اسرائیل اور بعض عرب ممالک ایران کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، جبکہ ایران خود کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے جو خطے میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑی ہے۔
یہ کشمکش صرف سیاسی یا عسکری نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے اس کے لیے اسے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنے نیوکلیئر پروگرام اور علاقائی پالیسیوں پر قائم رہتا ہے۔
آج کا ایران ایک پیچیدہ حقیقت ہے۔ ایک طرف وہ اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور عوامی بے چینی کا سامنا کر رہا ہے، تو دوسری طرف وہ ایک مضبوط دفاعی اور سیاسی قوت کے طور پر بھی موجود ہے۔ ایرانی عوام کی زندگی آسان نہیں، مگر ان کے اندر ایک قومی شعور اور خودداری کا احساس موجود ہے جو انہیں مشکلات کے باوجود اپنے ملک کے






